عدالتی حکم کے باوجود پی ٹی ایم کے 7 گرفتار رہنماء رہا نہیں ہوسکے

51

عدالتی حکم کے باوجود پی ٹی ایم کے 7 گرفتار رہنما رہا نہیں ہوسکے- شہاب خٹک
رپورٹ :شاہین بونیرے
ترجمہ:مشتاق علی شان

پشاور ہائی کورٹ نے پشتون تحفظ موومنٹپی ٹی ایم  کے رہنماؤں عبداللہ ننگیال اور عارف وزیر سمیت 7گرفتار کارکنوں کی رہائی کا حکم دیا ہے۔

مذکورہ بالاتمام مساعی پسند ٹانک اور جنوبی وزیرستان کے ہائی کمشنرز کے 3ایم پی او نامی قانون کے تحت گرفتار کیے گئے تھے۔

گرفتار افراد کے وکیل شہاب خٹک نے مشال ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ “حکومت 3ایم پی او قانون کو انتہائی منظم طریقے سے پی ٹی ایم  کے کارکنان کو خاموش کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
انھوں نے مزید کہا ہے کہ عدالت نے پشتون تحفظ موومنٹ کے 7 کارکنان کی رہائی کا حکم دیا ہے لیکن انھیں تاحال رہا نہیں کیا گیا ہے۔

حکومت نےپشتون تحفظ موومنٹ کے بیشتر رہنماؤں اور مرکزی کمیٹی کے ارکان کے نام اس فہرست میں بھی شامل کر رکھے ہیں جنھیں ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کی ایک رہنما ثنا اعجاز کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں ان کے 30سے زائد ساتھیوں پر مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

ثنا اعجاز نے کہا ہے کہ وہ اس وقت اپنے ساتھیوں کے لیے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں اور کوششیں کر رہے ہیں کہ اس کے ساتھ ساتھ اضلاع کی سطح پر پی ٹی ایم  کی تنظیم سازی کریں۔

پاکستان کے حکومتی اور فوجی حکام وقتاً فوقتاً پشتون تحفظ موومنٹ کے مطالبات کو قانونی قرار دے چکے ہیں لیکن طریقہ کار پر معترض ہیں۔

حکومت نے کچھ عرصہ قبل پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں سے گفت وشنید کے لیے قبائلی اضلاع کے ممبران پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی لیکن اب تک گفت وشنید کا آغاز نہیں ہو سکا ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ پی ٹی ایم کے دو ممبر پارلیمنٹ علی وزیر اور محسن داوڑ ابھی تک جیل میں ہیں۔