شام میں طبی مرکز پر بمباری، جھڑپوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک

40

شام کے شمال مغربی حصے میں حکومتی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زائد ہوگئی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی ‘ کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی شامی مبصر تنظیم نے بتایا کہ گزشتہ برس ستمبر میں جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود علاقے میں پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی مبصر تنظیم نے بتایا کہ گزشتہ 2 روز سے جاری جھڑپوں میں 8 شہری بھی ہلاک ہوئے جن میں سے ایک بچے سمیت 6 افراد جسر الشغور کے علاقے میں ہونے والے فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انہیں موصول اطلاعات کے مطابق فضائی حملوں میں طبی سہولت مراکز اور شعبہ صحت کے عملے کو نشانہ بنایا گیا۔

شام میں 2011 سے حکومت مخالف مظاہروں سے شروع ہونے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں 3لاکھ 70 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

برطانوی وار مانیٹر کے مطابق دو روز سے جاری جھڑپوں اور بم باری کے نتیجے میں شامی فورسز کے 57 اہلکار، 44 جنگجو اور باغی ہلاک ہوئے۔

مبصر تنظیم کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن نے کہا کہ ’ علاقے میں حکومت کے طیاروں اور ہتھیار موجود ہونے کے باعث تاحال جھڑپیں جاری ہیں‘۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گیوتیرس نے فضائی حملوں کی شدید مذمت کی اور اصرار کیا کہ شہریوں، شہری انفراسٹراکچر اور طبی مراکز کی حفاظت کی جائے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ گزشتہ روز ہونے والے حملوں میں معرۃ النعمان میں واقع سب بڑے ہسپتالوں میں سے ایک ہسپتال سمیت کئی طبی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا‘۔

حکومتی فورسز کی بمباری روکنے سے متعلق معاہدے کے باوجود شام کے شمال مغربی علاقے میں اپریل کے اواخر سے روسی اور شامی حکومت کے طیاروں کی جانب سے ادلب کے علاقے میں بدترین بمباری جاری ہے۔

اس کے علاوہ شامی حکومتی فورسز شام کی سابق القاعدہ سے الحاق شدہ تنظیم ھیئۃ تحریر الشام سمت حماہ صوبے کے شمال میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں کررہی ہے۔

ھیئۃ تحریر الشام کے ترجمان ابو خالد الشامی نے کہا کہ جنگجوؤں اور باغیوں نے اندھیرا ہونے کے بعد الحمامیات گاؤں پر قبضہ کرنے کے بعد حملہ کیا تھا ۔

گزشتہ روز ادلب کے علاقے الطامنہ میں روسی فضائی حملے میں ایک شہری ہلاک ہوا جبکہ باغیوں کے حملے کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک ہوئی۔

شامی مبصر تنظیم کے مطابق عفرین کے باہر چیک پوسٹ کے قریب گاڑی میں ہونے والے بم دھماکے میں 13 افراد ہلاک ہوئے جن میں 8 شہری بھی شامل تھے۔

کسی گروہ یا تنظیم کی جانب سے فوری طور پر بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی لیکن ایک کمانڈر نے حملے کا الزام کردوں پر عائد کیا۔