خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال اور بلوچ ۔ کوہ روش بلوچ

51

خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال اور بلوچ

کوہ روش بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے آنے والے دنوں میں اس خطے میں بڑی جنگ ہونے جارہی ہے ایک طرف افغان طالبان اور امریکہ کے مذاکرات دوسری جانب لہولہان افغانستان میں جنگی ماحول،ایک جانب طالبان نمائندوں کی امریکی نمائندگان کے ساتھ نشست تو دوسری جانب افغانستان میں افغان طالبان کی جانب سے جنگوں میں شدت لانا۔ اور امریکہ کی جانب سے ایران پر پابندیاں اور آبنائے ہرمز یا خلیج فارس میں جاری کشیدگی یہ تمام چیزیں آنے والے دنوں میں ایک بڑی جنگ کی جانب سے اشارہ دے رہے ہیں ۔

افغانستان میں ایک دہائی سے زیادہ وقت سے جاری جنگ بندی کے لئے اس وقت طالبان اور امریکہ کے ساتھ مذاکرت جاری ہے مگر کئی نشست کے باوجود مذاکرات ابھی تک خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے شروع شروع میں امریکی نمائندگان اس بات پہ زور دے رہے تھے کہ طالبان کو افغان حکومت سے بات کر لینا چاہیے جس پہ طالبان مکمل انکاری رہے اور اس وقت طالبان اور امریکی نمائندوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور طالبان کا موقف ہے کہ بیرونی افواج افغانستان سے نکل جائیں اور افغانستان کو افغانوں کے حوالے کریں۔ ان تمام چیزوں کے بعد کئی سوالات اٹھ رہے ہیں اگر غیر ملکی فوجیں افغانستان سے نکل گئے تو کیا افغانستان میں امن آئے گا ؟موجودہ حکومت اور طالبان ایک دوسرے کو قبول کرینگے؟ اس طرح کے کئی سوالات اس وقت تجزیہ کار اٹھا رہے ہیں کئی تجزیہ کار یہ بھی کہہ رہے ہیں مذاکرات کامیاب ہونگے یا نہیں مگر جنگی ماحول افغانستان سے ختم نہیں ہوگا کیونکہ افغانستان میں افغان طالبان کے علاوہ ائی ایس آئی ایس جیسی تنظیموں کی موجودگی اور کئی طالبان دھڑے ایسے بھی ہیں جو ان طالبان کو قبول ہی نہیں کرتے ہیں اسی لئے اس وقت ایک طرف مذاکرات جاری ہے دوسری جانب طالبان اور امریکہ اپنے طاقت کا بھرپور مظاہرہ کررہے ہیں۔اور ایک دوسرے کو گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گذشتہ دنوں افغانستان کے شہر کندھار اور کابل سمیت کئی شہروں میں طالبان کی جانب سے حملوں میں شدت دیکھنے کو آچکا ہے دوسرے علاقوں کے علاوہ کندھار میں بھی افغان طالبان بھی بڑے حملے کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں کندھار جہاں طالبان ایک وقت میں جانے سے ڈر جاتے تھے اور اس وقت افغان پولیس کے ہیڈکواٹر پہ حملے کرکے کئی لوگوں مارتے ہیں۔

اگر ان تمام چیزوں کو دیکھنے کی کوشش کریں تو یہاں ایک گریٹ گیم نے کئی وقت پہلے سے جنم لیا ہے کندھار پولیس چیف جنرل رازق اچکزئی کو مارنا اور راستے سے ہٹانا سب اسی گریٹ گیم کے حصے تھے، کیونکہ دنیا کو یہاں ایک اور جنگ شروع کرنا تھا کندھار میں جنرل رازق کے ہوتے ہوئے یہ چیزیں ممکن بھی نہیں تھے ۔اور جنرل رازق کی جگہ اس کے بھائی تادین خان اچکزئی کو بٹھانا یہ اپنے آپ میں کئی سوالات اٹھاتا ہے ایک بندہ جو اپنے کو نہیں چلا سکتا وہ کندھار جیسے علاقے کو کیسا چلا سکتا ہے ۔اگر ایک طرف طالبان طاقت کا مظاہرہ کرکے امریکہ کو اپنے شرط منوانے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری جانب امریکہ بھی طاقت کے دم پہ ان کو گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کر رہا ہے اور بیچ میں عام عوام جانوروں کی طرح ذبح ہورہے ہیں، ہم اس بات کو کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ اس وقت افغانستان میں افغان طالبان اور امریکہ ایک دوسرے کو گھٹنے ٹیکنے کے لئے ایک جنگ شروع کرچکے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ہر روز زور پکڑ رہا ہے گذشتہ دنوں خلیج فارس میں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جن کی ذمہ داریاں امریکہ نے ایران پہ لگائی ہیں مگر ایران ان سے انکاری رہا ہے گزشتہ دنوں ایک جانب افغان طالبان نے کندھار پولیس ہیڈکواٹر پہ حملہ کیا ٹھیک اسی وقت ایران نے برطانوی آئل ٹینکر ضبطگی کا دعوی کیا اور امریکہ نے ایران کے ڈرون مار گرانے کا بھی دعوی کیا، جہاز رانوں پہ حملہ ڈرون مار گرانے کا دعوی اور ہر روز ایرانی معیشت تیزی سے گر رہا ہے یہ تمام چیزیں یہ ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ اس خطے میں اپنے قدم جمانا چاہتا ہے ایک طرف وہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے اور دوسری جانب وہ یہ بھی چاہتا ہے اس خطے میں اس کا اثر ورسوخ بڑھے اور یہ سب علاقے اس کے انڈر کنٹرول ہوں، افغانستان سے اس وقت وہ اس لئے نکلنا چاہتا ہے کہ امریکہ میں آنے والے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے لئے یہ پتھر پہ لکیر کی مانند ہوگی جسے کوئی مٹا بھی نہیں سکتا کیونکہ گذشتہ انتخابی کیمپین میں ڈونلڈ ٹرمپ کا سب سے بڑے سلوگنوں میں سے ایک یہی تھا کہ امریکہ اپنے تمام فوجیوں کو بیرونی ملکوں سے نکالے گا اور امریکہ میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری کی وجہ بھی یہی ہے بیرونی ملکوں میں فوجیوں کا قیام اب اسی وجہ سے اس وقت ہر کوئی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسری کو گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کر رہا ہے۔

طالبان امریکہ کو امریکہ ایران کو اور ایران امریکہ کو دباو میں ڈال رہا ہے، اب اس خطے میں ہر روز جنگی ماحول بڑھتا جارہا ہے، جنگ کب ہوگا وہ بھی صرف امریکہ ہی جانتا ہے مگر ہوگا وہ بھی امریکی انتخاب سے پہلے ۔

جنگ ہوا تو اس خطے میں موجود کئی قومیں متاثر ہونگے اور بلوچ قوم اور بلوچ قومی آزادی کی جنگ اس سے کس قدر متاثر ہوگا؟ یہ بات یقینی ہے اس خطے میں جب بھی تبدیلیاں آئی ہیں بلوچ قوم کسی نا کسی حد تک متاثر ہوا دوسرے جنگ عظیم کے بعد برطانیہ کی جانب سے اپنے کالونیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ ہو یا سویت یونین کا افغانستان میں آنے کا فیصلہ ہو یا سوویت یونین کا افغانستان میں شکست ہو۔ افغانستان میں طالبان حکومت کا قیام ہو یا چاہیے ہزاروں میل دور امریکہ میں نائن ایلیون پہ حملہ ہو اور اس کے بعد امریکہ کا افغانستان پہ حملہ ہو۔ ان تمام چیزوں سے بلوچ اور بلوچستان بہت حد تک متاثر ہوئے ہیں۔

اب افغانستان میں طالبان کی موجودگی اور امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرت ان تمام چیزوں سے بلوچ قومی آزادی کی تحریک متاثر ہونا شروع ہوچکا ہے گذشتہ دنوں امریکہ کی جانب سے بلوچ آزادی پسند تنظیم بی ایل اے کو کالعدم قرار دینا یہ تمام چیزیں انہی سے ملتے ہیں۔کیونکہ اس وقت بی ایل اے بلوچستان میں ایک ایسی طاقت بن چکی کہ یہ مجبور ہوچکے ہیں کہ وہ بی ایل اے کو زیر بحث لائیں ایک تو طالبان مذاکرت میں پاکستان کی جانب سے طالبان کو بیٹھنے کے لئے مجبور کرنا اور بلیک میل کرنا کسی حد تک اس میں پاکستان کا بہت بڑا ہاتھ ہے کیونکہ طالبان اور پاکستانی آئی ایس آئی کے رشتے اب دنیا سے ڈھکی چھپی ہوئی بات نہیں ہے اسی لئے یہ ممکن ہے کہ طالبان کی جانب سے یہ شرط رکھی گئی ہو کہ بی ایل اے کو کالعدم قرار دیا جائے ایک طرف یہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف بھی کاروائیوں میں تیزی آچکی ہے گذشتہ دنوں پاکستان میں جماعت دعوہ کے سربراہ اور ممبی حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کی گرفتاری اور اس بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹویٹ ،وقتی طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بیان پہ مزاق کی جارہی ہے مگر حقیقت میں یہ بیان پاکستان کے لئے ایک وارنگ سے بھی کم نہیں ہے کہ ہم کئی سالوں سے اس کو تلاش کر رہے ہیں اور اس کو آپ نے گرفتار کیا ہوا ہے وہی امریکہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے لئے پاکستانی خفیہ ایجنسی اور ریڈار سسٹم کو سلا کر اسامہ کو آکر مارتا ہے اس کو یہ بھی پتہ نہیں ہوگا کہ حافظ سعید لاہور میں جلسہ کر رہا ہے۔

کئی تجزیہ کار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ حافظ سعید پاکستان کا ایک اثاثہ ہے اور وہ اس کو ہر وقت استعمال کرتا ہے اور اس سے پہلے بھی حافظ سعید گرفتار ہوا ہے اور اِس وقت حافظ سعید کی گرفتاری کے پیچھے عمران کا دورہ امریکہ ہے جہاں وہ اشتہاری ملزم ہے اور پروٹکشن کے لئے حافظ سعید نامی کارڈ کو استعمال کرکے کچھ دنوں کے لئے حافظ سعید کو شاہی مہمان بنایا گیا ہے۔

عین اسی وقت اس خطے میں جاری کشیدگی اور عمران کا دورہ امریکہ یہ تمام چیزیں کس قدر بلوچ قومی تحریک کو متاثر کرسکتے ہیں ۔

اس وقت جہاں افغان طالبان اور امریکہ کی مذاکرات اور افغانستان میں جاری خون کی ہولی اور خلیج فارس میں جاری کشیدگی اور عمران خان کا دورہ امریکہ۔ ایک بات تو ہے ماحول کیسا بھی ہو کوئی ملک یہ نہیں چاہتا ہے کہ وہ ڈائرکٹ ایک دوسرے پہ حملہ کریں جنگ کے لئے ماحول پیدا کرنا ہوتا ہے اور وہی ماحول ایران پہ حملہ کرنے کے لئے پاکستان پیدا کرسکتا ہے اس وقت پاکستان میں موجود سعودی اور پاکستان کے پروکسی بڑی تعداد میں موجود ہیں اور ایران پہ چھوٹے پیمانے پر حملہ بھی کر رہے ہیں اور امریکہ کے لئے تمام چیزیں کسی غنیمت سے کم نہیں ہونگے جو ایران میں جنگی ماحول پیدا کرنے کے لئے کارگر ثابت ہونگے۔اگر اس طرح ہوا تو بلوچ قومی جنگ کا کیا ہوگا؟

تمام چیزیں آکر پھر بلوچ لیڈر شپ پہ رکھتے ہیں کیا ان تمام چیزوں کے لئے لیڈر شپ تیار ہے اس گریٹ گیم کے لئے بلوچ لیڈر شپ نے تیاری کی ہے ؟ بلوچ ان تمام چیزوں کا مقابلہ کرسکتا ہے اگر ہاں دنیا مجبور ہوکر بلوچوں کو قبول کرنے کے لئے، نہیں تو بلوچ کا کردار ان تمام چیزوں شطرنج کے پیادے سے زیادہ نہیں ہوگا جو پہلے ہی چال میں مارا جاتا ہے ۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔