بی این ایم لندن نمائندوں کا برطانوی ممبر پارلیمنٹ سے ملاقات

144

لندن میں متحدہ عرب امارات کی سفارت خانے کے سامنے راشد حسین بلوچ کی یو اے ای خفیہ اداروں کے ہاتھوں حراست اور بعد ازاں پاکستان حوالگی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ گذشتہ روز بی این ایم یوکے زون کے نمائندوں نے لندن میں برطانوی ممبر پارلیمنٹ اسٹیفن مورگن سے ملاقات کی۔ ان میں بی این ایم برطانیہ زون کے صدر حکیم بلوچ، نیاز بلوچ، فہیم بلوچ اور ڈاکٹر ناگمان بلوچ شامل تھے۔

ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ اسٹیفن مورگن نے یقین دلائی کہ وہ ہاؤس آف کامن میں بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں بات کریں گے اور مزید تفصیلات کیلئے بی این ایم نمائندوں سے مستقبل میں ملاقات کیلئے وقت رکھیں گے جبکہ ملاقات میں راشد حسین کی عرب امارات میں گرفتاری اور پاکستان حوالگی، پاکستان میں گمشدگی کے بارے میں تفصیلاََ بات کی گئی۔ ممبر پارلیمنٹ کو انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے رپورٹ اور ڈاکومنٹس پیش کئے گئے۔

ترجمان نے کہا کہ لندن میں متحدہ عرب امارات کی سفارت خانے کے سامنے راشد حسین بلوچ کی یو اے ای خفیہ اداروں کے ہاتھوں حراست اور بعد ازاں پاکستان حوالگی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے راشد حسین کی جبری گمشدگی اور بعد ازاں پاکستان حوالگی کے خلاف اور راشد حسین کی بازیابی کی حق میں بینر اور پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ نیشنل موومنٹ یوکے زون کے صدر حکیم بلوچ نے کہا کہ راشد حسین بلوچ کو چھبیس دسمبر دہ ہزار اٹھارہ کو شارجہ سے اماراتی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے گرفتاری کیا تھا جسے بائیس جون دو ہزار انیس کو غیر قانونی طور پر پاکستان کے حوالے کردیا گیا ہے۔ ہم متحدہ عرب امارات کی حکومت اور تمام انسانی حقوق کے تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی حکومت کو اس بات پر پابند کریں کہ راشد حسین کو اوپن کورٹ میں پیش کرکے انہیں فیر ٹرائل کا موقع فراہم کریں۔

مظاہرین سے بلوچ سیاسی رہنما سردار زادہ بختیار خان ڈومکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے بلوچ سوشل میڈیا اور انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین کی جبری گمشدگی اور پاکستان حوالگی قابل مذمت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں راشد حسین کی پاکستان حوالگی سے ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ اگر راشد حسین کو کسی بھی طرح سے نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ داری متحدہ عرب امارات پر بھی عائد ہوگی۔

بلوچ راجی زرمبش کے رہنما عبداللہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے راشد حسین کا اغوا اور پھر پاکستان حوالگی بلوچ اور عرب اقوام کے تاریخی رشتوں کے برخلاف ایک غیر انسانی اور غیر سیاسی عمل ہے۔ متحدہ عرب امارات کو اپنی غلطی کو محسوس کرتے ہوئے راشد حسین کی بازیابی کیلئے کردار ادا کرنا چاہیئے۔