بلوچ قومی سوال اور پاکستانی مارکسسٹ – ظہیر احمد بلوچ

135

بلوچ قومی سوال اور پاکستانی مارکسسٹ

تحریر: ظہیر احمد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ایک طرف جہاں مدینہ جیسی ریاست میں مخصوص طبقے کے لئے یونیورسٹیاں بنائی جارہی ہیں، ٹیکنالوجی اور سائنس پر ریسرچ ہورہے ہیں تو دوسری طرف، دنیا کے نظروں سے اوجھل بلوچستان نامی ایک خطہ ہے جو کئی دہائیوں سے جبر اور بربریت سہنے کے ناختم ہونے والے امتحان سے گزر رہا ہے، جبکہ جابر ریاست تشدد کو قومی کھیل سمجھ کر اسکے متعلق اپنے علم میں اضافہ کرنے اور تشدد کے دیگر لاتعداد طریقے کھوجنے کے غرض سے ہمیں مسلسل اذیت دیئے جارہا ہے۔ اور تکنیکی بنیادوں پر قتل کرنے کے مخلتف طریقے دریافت کرنے کے چکر میں ہمارے سرزمین کو قصائی خانہ بنا چُکا ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ سب سے زیادہ اذیت ناک موت کیا ہوسکتی ہے؟ اس ریاست نے بلوچستان کے نہتے شہریوں کو جبری طور پر خاموش کرانے اور جمہور کی للکار کو لاچارگی میں بدلنے کی خاطر بلوچستان کے ہر گلی محلے کے نُکڑ، روڈوں، چوکوں اور بازاروں پر فوجی چوکیاں بناکر محاصرے میں رکھ چکا ہے تاکہ وہ لوگوں میں یکساں طور پر خوف اور بے بسی کا علم بانٹ سکیں۔ ایسے صورتحال کے باوجود وہ حکم بھی جاری کرتے رہتے ہیں کہ خوشی کا کوئی بھی لمحہ سنگین غداری تصور کیا جائیگا ۔ یہاں تک کہ رقص پہ پابندیاں عائد کرتے ہیں تاکہ یہاں کے لوگوں میں زیادہ سے زیادہ نفرت جنم لے سکے۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ انٹرٹیمنٹ سمجھ کر ہمارے جسموں پر تشدد کئیں اور روحیں چھلنی کرتے رہے تاکہ یہ اذیت کے پیمانے ناپ سکیں۔ خیر جبر و استحصال سے بڑھ کر استعماری طاقتوں کے پاس اور کوئی علمِ کامل موجودبھی تو نہیں؟

نوے کی دہائی میں پیدا ہونے وہ بلوچ بچے جنہوں نے ہوش سنبھالتے ہی خود کو جنگی ماحول میں پایا ہے، جن کی تمام شخصیت (آئیڈنٹی) کا پنپنا ہی تشدد کے زیر اثر رہا ہے۔ قریب دو دہائی مکمل ہونے کو ہیں مگر ظلم کا یہ تسلسل ابھی تک اُسی شدت سے جاری ہے۔ جسکی وجہ سے اب بلوچستان کے حالت اس نہج تک پہنچ چُکے ہیں کہ جہاں ہر شخص اپنے ذات کی تباہی کا خود سبب بنتا جارہا ہے۔ شاید یہ ریاست خود بھی نہیں چاہتی کہ باقی بچوں کی طرح بلوچستان کے بچے بھی زندگی کو تشدد کے زد میں آنے کے بجائے جینے کا کوئی اور طریقہ یا خواب دیکھیں؟ شاید اب اس ریاست کو قتل و غارت کے فلسفے سے ہی کیف ملتا ہو؟ ممکن ہے ہمارے بچوں کے خون چُوس کر اب وہ تسکین محسوس کرتے ہوں؟ اگر ماں جیسی ریاست کو بلوچستان کے جنگ زدہ بچوں کی فکر ہوتی تو وہ پُرامن تعلیمی فضا کو بحال کرنے کی کوشش کرنے والے بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی کے طالب علم جیئند بلوچ کو بلوچستان کے جنگ زدہ بچوں کے لئے آئینی اور جمہوری حقوق کی جدوجہد کرنے پر اس طرح جبری طور لاپتہ کرنے کے بعد خاموش کرانے کی کوشش ہرگز نا کرتی۔

جیئند بلوچ کو آٹھ ماہ ہو رہے ہے وہ ابھی تک لاپتہ ہے، کیا جیئند بلوچ کو اس مُلک کی آئین آزادی رائے کو استعمال کرکے ماورائے عدالت جبری گمشدگیوں پر سوال اُٹھانے یا رائے رکھنے کی بھی اجازت نہیں دیتا؟ یقینً ایک ترقی پسند اور سیکولر طالب علم کے ساتھ ایسا بدترین سُلوک ایک فاشسٹ ریاست میں ہی ممکن ہے۔ سامراجی لُوٹ مار اور وحشت ناک جنگ مسلط ہونے کے بعد جئیند جیسے ہزاروں زندگیاں جس مفلسی سے گزر رہی وہ بڑی ازیت ناک ہے، جسکا ادراک انہیں تو ہوسکتا ہے جو جنگ سے گُزرے ہوں ناکہ انہیں جو جنگ مسلط کرنے والے ہوں۔

بلوچستان گذشتہ سترہ سالوں سے مسلسل ماورائے عدالت جبرگمشدگیاں، مسخ شدہ لاشیں، اجتماعی قبروں کے علاوہ اساتذہ، شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں اور جرنسلٹس کے قتل عام جیسی اذیت ناک ریاستی ظلم ایک طرف دوسری طرف از تزلیلِ خاموشی اور مرگ کے درمیان مرکز کے مزاحمت کاروں، ادیبوں، شاعروں اور دیگر فکر و شعبے کے لوگوں کی دانشوارانہ بخالت اور اِس پر اُنکا خود کو احتساب سے بری سمجھنا انتہائی بے ہودہ و بھونڈا عمل ہے۔ حال ہی میں لاہور لیفٹ فرنٹ اور خصوصی طور پر حقوق خلق موومنٹ کی طرف سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان جس میں وہ سیاسی قیدی علی وزیر، محسن داوڑ، بابا جان، اوکاڑہ سے مہر ستار اور اس کے علاوہ یہاں تک کہ نواز شریف کے گرفتاری کی بھی مزاحمت کی۔ جبکہ دوسری جانب پینتالیس ہزار قیدیوں (جن میں اکثریت بلوچ سیاسی قیدیوں کی ہے) کو مکمل طور نظر انداز کردینا یہ واضح تاثر فراہم کرتا ہے کہ پاکستانی مارکسٹ بلوچ سیاسی قیدیوں پر نسل پرستانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ بلوچستان کا بچہ بچہ یہ جانتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی قیدیوں کی تعداد سب سے زیادہ بلوچستان سے ہے۔

شاید بلوچ کی بدبختی ہے کہ پاکستان کے ان ترقی پسندوں کی نسل پرستانہ رویوں کی بلوچ بار بار نشاندہی کرنے کے بعد اب تو شکایت کرنے سے بھی مایوس ہوچکا ہے۔ جنگ زدہ بلوچ قوم کی نسل کُشی پر پاکستان بھر کے ایلیٹ اکیڈیمیا، میڈیا ہاؤسز اور نام نہاد ترقی پسند تنظیموں کی طرف سے نسل پرستانہ رویے اُنکی کم ظرفی اور ترقی پسندی کے بھیس میں قدامت پرست ہونے کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ بقول کارل مارکس “شرم ایک انقلابی جذبہ ہے” غالباً اب وقت آگیا کے پاکستان کے دانشور اپنی مجرمانہ خاموشی طوڑ کر احساس گناہ کا اعتراف کرکے محکوم اقوام کی حقیقی جدوجہد کا براہ راست حصہ بنیں ورنہ تاریخ کے کوڑے دانوں میں بھی اِنہیں جگہ نہیں ملیگی۔

ان مارکسسٹوں، ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کی بلوچستان کے متعلق intellectual dishonesty پر سرائیکی زُبان کے شاعر صوفی تاج گوپانگ کے نظم کی ایک بند جس میں وہ خود اپنی قلم پر شرمندگی کا اظہار کررہے ہیں:

میں کیوں جو قلمکار آں
‏میں لفظیں کوں ٹھہا نظماں لکھیندا ہاں
‏میݙے کندھی شریک ہمسائے بلوچیں دے
‏گھریں وچ دھاڑ پئے ڳئی اے
‏میں ہک وی حرف نئیں ٻولیا
‏پتہ نئیں کھوٹے اکھریں دے میں بزدل لکھاری دا
‏قلم تاریخ کوں کیا پاندھ ݙیسی میں شرمسار ہاں

اردو ترجمہ:
میں جو ایک قلم کار ہوں
میں لفظوں کو ترتیب دیکر نظمیں لکھتا ہوں
میرے ہمسائے بلوچ کے گھر میں رونے کی دھاڑیں ہیں
لیکن میں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا!
پتہ نہیں اس بزدل لکھاری کے کھوٹے لفظوں کا
میری قلم تاریخ کو کیا پیغام دیگی میں شرمندہ ہوں۔

اتفاقً جب حقوق خلق موومنٹ کا بیان سامنے آیا تو میں اس وقت اسی موضوع پر قومی سوال کے مارکسی تناظر میں کامریڈ لینن کو پڑھ رہا تھا جس میں وہ قومی نابرابری کے موقع پر ایک مارکسسٹ جہدکار کی اسکے زمہ داریوں پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: “عوام کو جاگیردارنہ گہری نیند سے نکالنے کے لئے اور انکی جدوجہد تمام تر قومی ظلم کے خلاف محکوم اقوام کے عوام کی حق خودرادیت (جوکہ ترقی پسندانہ عمل ہے) کے لئے ایک مارکس وادی پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ تمام حوالوں سے قومی سوال کے ساتھ کھڑے ہوں”۔ کامریڈ لینن کے اس موقف کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام آرتھوڈوکس مارکسسٹ اور نام جمہوریت و ترقی پسندوں کو یہ حق نہیں کہ وہ فلسطین و کشمیر کے لئے دکھاوے کا بولنا دھوکا دہی کے سوا کچھ نہیں جب تک وہ اپنے ہی ریاست میں بلوچستان نامی مضبح خانہ (سیمی—کالونئیل) خطے اور سامراجی مراکز کے درمیان فرق نہیں کرپاتے۔ پنجابی مارکسٹوں کو چاہئے کہ وہ کامریڈ لینن کی اِن دوراندیش موقٌف کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ ایک اور جگہ لینن “قومی سوال پر ہمارا پروگرام” میں بورژوا مارکسسٹوں کی تضحیک کچھ یوں کرتے ہیں کہ:

Please, gentlemen, explain yourselves more clearly; do not conceal the fruits of your “enlightenment” from the “mob”!


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔