بلوچستان کے بچے اور تعلیم – سمیرا بلوچ

67

بلوچستان کے بچے اور تعلیم

تحریر: سمیرا بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

کنفیوشس جو ایک دانشور گذرا ہے۔ اس کا کہنا ہے اگر آپ دس سال کا سوچ رہے ہو تو ایک بیج بو دو۔ اگر سو سال کا سوچ رہے ہو تو ایک درخت لگا دو اور اگر ہمیشہ کےلیئے آپ نے منصوبہ بندی کرنی ہے تو لوگوں کو تعلیم دو۔

بلوچستان قدرتی معدنیات کے دولت سے مالا مال ایک امیر ترین خطہ ہے۔ جیسےبلوچستان معدنیات کی دولت سے مالا مال صوبہ ہے ویسے ہی غربت ، پسماندگی ، شرح ناخواندگی اور دیگر مسائل کے لحاظ سے بھی پاکستان کے پہلے نمبر پر آنے والا صوبہ ہے۔ کسی قوم اور ملک کی ترقی کے اسباب اسکے تعلیمی نظام سے منسلک ہوتے ہیں۔ جو قوم جتنی تعیلم یافتہ ہوگی، وہ اتنی ہی مہذب اور ترقی یافتہ قوم ہوگی۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے علاقائی لحاظ سے اسکولوں سے باہر زیادہ بچوں کی تعداد کی جو شرح ہے ، وہ بلوچستان سے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں 36فیصد ، صوبہ پنجاب میں 44فیصد ، صوبہ سندھ میں 56فیصد اور بلوچستان میں 70 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔

بلوچستان میں 16 سو سے زائد سرکاری اسکول محض کاغذوں میں موجود ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بلوچستان میں 1300سو سے زائد سرکاری اسکول بند ہو چکے ہیں اور بیشتر تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ کوئٹہ اور گردونواح کے دیہی علاقوں میں زیادہ تر اسکول بجلی ، پانی ،دیوار اور عمارت سے محروم ہیں۔ 5000 اسکول چھت اور اساتذہ سے محروم ہیں۔ 18 لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں اور 25 لاکھ بچے تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم ہیں۔

پھر پوچھتے ہیں کہ بلوچستان کے حالات کیوں نہیں بدلتے۔ جناب جن بچوں کے ہاتھوں میں قلم نہیں آتی تو وہ کیا قومی ترقی میں کردار ادا کر پائیں گے۔

حقدار کو اس کا حق نہیں ملے گا اور ایک قوم کو اسکے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاۓ گا تو لازم ہیکہ کبھی نہ کبھی وہ قوم اپنے حق کے لیئے آواز بلند ضرور کرۓگا۔ جہاں قابض ریاست پاکستان نے منظم سازش کے تحت، بلوچ قوم کے بچوں کو تعلیم سے دور رکھا۔۔۔ تو وہیں اس ظلم کا ملبہ بلوچ قوم کے رہنماؤں اور سرداروں پر ڈال دیا، کہ وہ اپنی قوم کو تعلیم سے دور رکھ رہے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر پاکستان شہید نواب اکبر خان بگٹی کے گھر کے پاس بندوق کے زور پر ایف سی کی چوکی بنا سکتا ہے تو اسی بندوق کے زور پر بلوچستان کے علاقوں میں تعلیمی ادارے کیوں قائم نہیں کر سکتا تھا؟ جان بوجھ کر بلوچ قوم کو جہالت کے اندھیروں میں ڈالنے والا دشمن اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ تعلیم کے شعور سے لیس ہوکر بلوچ قوم اپنے سر زمین کی تحفظ اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھاۓ گا۔ جہاں پاکستان بلوچ قوم کے سر پرستوں کو شدت پسند اور ظلم بن کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کرتارہا۔ وہیں پر بلوچ سرداروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اپنی قوم سے محبت کا ثبوت دیا اور بلوچ قوم کو ان کے حقوق سے متعلق شعور دے کر خواب غفلت سےبیدار کیا۔

بلوچ قوم مقروض ہے، اپنے ان عظیم رہنماؤں کے قربانیوں کی جنہوں نے انہیں اپنے حق کے لیئے آواز بلند کرناسکھایا۔ بلوچ ہر میدان میں اپنے حق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ تعلیمی میدان میں بھی اپنے حق کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں۔

کوئٹہ میں میڈیکل اور انجینئرز اسٹوڈنٹس، ٹیچرز ہر طبقہ فکر کے لوگ اپنے حق کے لیئے سراپا احتجاج ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب بلوچ قوم اپنے حق کی جنگ جیت کر آنے والی بلوچ نسل کو پسماندگی کے اندھیروں سے نکالے گی۔ پھر پڑھے لکھے بلوچ نوجوان بلوچستان کے روشن مستقبل کے معمار و رہنماء ہونگے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔