ایسے جمہوریت کا کیا کرے جس کے دروازے پر ہمارے نوجوانوں کے لاش پڑے ہوں – اختر مینگل

138

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سرداراختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت نے ٹریفک نظام سے لیکر ترقی کی رفتار تک کو جام کر رکھا ہے، جو لوگ مری گئے تھے اگر ہم چاہتے تو ہم بنی گالہ جاسکتے تھے اور ان چھ نکات کے بدلے وزارتیں اورمراعات حاصل کرتے، ہم حکومت کو بتا نا چاہتے ہیں کہ بلوچستان کامسئلہ چیئر مین سینیٹ،ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کے عہدوں سے نہیں بلکہ سنجیدگی سے حل ہوگا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کا ہر ورکر بلوچستان کاوارث ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام شہید حبیب جالب، آغا نوروز اور بلوچستان کے شہداء کے یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کادرد وہ سمجھ سکتے ہیں، لاپتہ خاندان کیلئے ایک گھنٹہ سال کے برابر ہوتا ہے ان کے لواحقین کا درد کوئی نہیں سمجھ سکتا، یہاں روزگار،ہسپتالوں میں سہولیات اور ترقیاتی منصوبے جام جبکہ رشوت ستانی،قتل عام اور بے روزگاری عام ہوچکی ہے۔ بلوچستان کے عوام کے ساتھ ظلم وزیادتیوں کا یہ عالم ہے کہ یہاں کے لوگوں کو آج تک اپنے نمائندوں کو منتخب کرنے کا حق نہیں دیا گیا صوبے میں راتوں رات پولیٹیکل پارٹیز بنائی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم بحیثیت مسلمان ایک اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہیں کیونکہ انہوں نے ہمیں پیدا کیا ہم جمہوریت کے دعویداروں کو جوابدہ نہیں، آج جو جمہوریت کے چمپیئن بنے ہوئے ہیں، 1971میں جب جمہوری حکومت کا خاتمہ کیاگیا تھا اور 1978کو مارشل لاء لگا تھا تو کیا ان دوعویداروں نے مراعات نہیں لئے تھے، 2013میں جب بلوچستان کے عوام کا مینڈیٹ چوری ہوا اور ہم جب ان جمہوری پارٹیوں کے پاس گئے تو اس وقت ان میں سے کسی نے بھی ہماراساتھ نہیں دیا ہم نے جمہوریت کے دعویداروں کے دروازے کھٹکھٹائے تھے جب وہ لوگ بلوچستان کے عوام کو انسان نہیں سمجھتے ان کے دکھ درد نہیں سمجھ سکتے تو پھر ہم کیوں ان کا ساتھ دیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ 2018کے عام انتخابات میں بلوچستان نیشنل پارٹی کا مینڈیٹ چوری کیا گیا تھاہم چاہتے ہیں کہ ملک میں مضبوط جمہوریت قائم ہو لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہم ایسے جمہوریت کا کیا کرے جس کے دروازے پر ہمارے نوجوانوں کے لاش پڑے ہوں، بلوچستان سے 3000سے زائد نوجوانو ں کو غائب کیا گیا ہے اگر میرے بس میں ہوتا تو آج سب سے پہلے ہم ان 3ہزار نوجوانوں کو با عزت گھر پہنچاتے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ مری گئے تھے اگر ہم چاہتے تو ہم بنی گالہ جاسکتے تھے اور ان چھ نکات کے بدلے وزارتیں اورمراعات حاصل کرتے، ہم حکومت کو بتا نا چاہتے ہیں کہ بلوچستان کامسئلہ چیئر مین سینیٹ،ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کے عہدوں سے نہیں بلکہ سنجیدگی سے حل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب بلوچستان میں مظالم ڈھائے جارہے تھے اور ہم میڈیا کے پاس اپنی فریاد لیکر گئے کہ ہمارے آواز بنے آج ان میڈیا مالکان کو بتا نا چاہتا ہوں کہ آپ کے صرف چینل بند ہوتے ہیں لیکن ہماری تو سانسیں بند کی جاتی تھی آپ کو فون کالز پر دھمکیاں دی جاتی ہیں جبکہ ہمیں بچوں کی لاش کی صورت میں دھمکیاں دی جاتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ سے لیکر آج تک 40لخت جگر واپس گھروں کو لوٹ آئیں ہیں یہ صرف 25جون سے لیکر آج تک کی تفصیلات ہیں، ایک سال میں 300سے زائد لا پتہ افراد گھروں کو اپس لوٹ چکے ہیں میں یہاں بیٹھے لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر میرے ایک ووٹ سے کسی ماں کا لخت جگر گھر واپس آسکتا ہے تو میں کیوں وہ ووٹ نہ دو، بلوچستان نیشنل پارٹی کا ہر ورکر بلوچستان کاوارث ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج سے10،20سال بعد مورخ لکھے گا کہ بلوچستان کے وفادار کون تھے ہم وہ بیج بورہے ہیں جب ہمارے آنے والے نسل ان سے فائدہ حاصل کرینگے، ہماری کوشش ہے کہ تمام مسنگ پرنسز باحفاظت گھر لوٹ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں شہید حبیب جالب کی قربانیوں کی بدولت آج اسٹیچ پر پہنچی ہے جنڈے کے رنگ میں حبیب جالب کا خون شامل ہے۔