امریکی گرین سگنل – میرک بلوچ

169

امریکی گرین سگنل

تحریر: میرک بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

گذشتہ ہفتے امریکن اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایک مختصر بیان میں بلوچ قومی تحریک سے وابسطہ مسلح آزادی پسند تنظیم ” بی ایل اے ” کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ اس کے بعد بلوچ قومی تحریک آزادی سے وابسطہ رہنماؤں اور تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا جو کہ فطری بات ہے۔

بات دراصل یہ ہے کہ سب سے پہلے ہمیں امریکی ریاستی ماہیت اور امریکی سیاست کو سمجھنا چاہیئے ۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، پینٹاگون، ورجینیا وغیرہ امریکی ریاستی نظام میں پالیسی سازی میں معاون ضرور ہوتےہیں ۔ لیکن کل اختیارات 1) ایوان نمائندگان 2) ایوان بالا کو حاصل ہے۔ اسی لیئے کیپیٹل ہل امریکی ریاستی نظام کا ستون ہے۔ اس کے بعد امریکی عدلیہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکی آئین مختصر، جامع، نہایت ہی سادہ اور ڈھیلی ڈھالی ہے۔ 1776ء سے لیکر اب تک اس آئین میں صرف دو مرتبہ ترمیمات ہوئے ہیں۔ ان تمام کے باوجود OWL office ہی آخری اور اہم ترین ہے۔ یعنی امریکی” صدر ” US صدر اختیارات کا منبع و مرکز ہونے کے باوجود ہر قسم کی صورتحال میں تعاون کے لئے ایوان نمائندگان اور ایوان بالا کا مرہون منت ہوتا ہے۔ یہ دونوں ایوانات ہی امریکی جمہوری نظام کی اساس ہیں۔ دونوں ایوانوں کے ممبران امریکی عوام کے نمائندے ہیں۔ جو براہے راست امریکی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آتے ہیں۔ امریکی صدر بھی براہے راست عوام کے ووٹ سے ہی منتخب ہوتے ہیں۔

پہلے عرض کرچکا ہوں کہ امریکی صدر یعنی OWL office بے پناہ اختیارات کا حامل ہے، مگر ان دونوں ایوانوں کی منظوری کے بغیر OWL office کچھ نہیں کرسکتا۔ ہاں انتہائی ہنگامی صورتحال میں امریکی صدر آئین میں دیئے گئے اسپیشل شق A۔24 کے تحت تمام اختیارات استعمال کرسکتا ہے۔ ایسا کئی بار ہوا ہے مثلاً 1940ء دوسری جنگ عظیم ۔1953ء کورین وار ۔1960ء ڈومینیکن ری پبلک اور ویت نام۔ 1970ء آئین کا ازسرنو جائزہ۔ 1973/74 ٹیکس اصلاحات اور وفاقی ملازمین کے مراعات۔ 1977ء سی آئ اے کے فنڈ میں کٹوتی اور NASA کے فنڈ میں اضافہ ۔1974ء ویت نام کے مسئلے پر جنیوا میں امن معاہدے پر دستخط ۔1990/91ء کویت پر عراقی حملے پر ردعمل اور عراق پر حملہ۔ 2001ء نائن الیون کے ردعمل میں افغانستان پر سرچ حملہ وغیرہ۔

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور دوسرے ادارے معاونت کا کام کرتے ہیں۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ وفاقی ادارہ ہے۔ مگر یہ بات بھی یاد رہے کہ امریکی جمہوری نظام میں عوام سے لیکر اداروں تک کو مکمل آزادی ہے۔ امریکی وفاقی اداروں کے علاوہ امریکا میں دوسرے بہت سے تھنک ٹینکس ہیں جو کہ امریکی حکومتی ادارے نہیں ہیں، لیکن اتنی ہی اہمیت بہر حال ہے۔ لیکن سب سے مقدم اور سب سے اہم رائے امریکی رائے عامہ ہے۔ یعنی امریکی عوام اور امریکی عوام کے نمائندہ ادارے ایوان نمائندگان اور ایوان بالا اور OWL office ہیں، ہر امریکی وفاقی ادارے میں لا بنگ کو موثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور یہی حقیقت ہے۔ دنیا بھرکے ممالک حتیٰ کہ یورپی ممالک بھی اور سیاسی جماعتیں اپنے لئے لابنگ کےذریعے ڈھونڈتے ہیں۔ امریکہ میں لابنگ ایک موثر ذریعہ ہے اس حوالے سے وہاں لابسٹک فرم بھی قائم ہیں۔ لیکن امریکہ اپنی قومی سلامتی اور قومی مفادات پر کبھی بھی کمپرومائز نہیں کرتا۔

یہ بات بھی یاد رہے کہ امریکی سیاستدانوں اور رہنماؤں کو ساری دنیا کے بارے میں ہر طرح کی معلومات حاصل ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی اداروں میں خصوصی ڈیسک قائم ہیں۔ ان امریکی اداروں نے ساری دنیا کے خطوں اور براعظموں کو مختلف زونز میں تقسیم کیا ہے۔ حساس، انتہائی حساس اور نارمل زونز الگ الگ ہیں۔

اب آیئے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے حالیہ بیان پر مختصر نظر ڈالتے ہیں۔ اس بیان کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ یادرہے اس بیان سے پہلے امریکہ نے انڈیا کو نیٹو اتحادی کا اہم درجہ بھی دیا ہے۔ چونکہ امریکی اداروں میں اندر سے بھی لابنگ ہوتی ہے اور یہ بیان اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ بلوچ کیس اب انٹرنیشنلائز ہوگیاہے اور بڑی ہوشیاری سے اور چابکدستی سے امریکہ نے اسے تسلیم کرکے گرین سگنل دے دیا ہے، وہ گرین سنگل یہ ہے کہ بلوچ USA سے براہ راست بات کرسکتے ہیں، یادرہے کہ کوسووکے مسئلے پر بھی امریکہ نے یہی کیا تھا، یہ بات مت بھولیں کہ امریکی رہنما و ادارے بلوچستان کے بارے میں اور بلوچ قومی تحریک کے بارے میں اچھی طرح جانتے ہیں۔

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا یہ بیان پاکستان کیلئے اہم اس لیئے ہے کہ اب پاکستانی حکمرانوں کی آزمائشوں میں ناصرف اضافہ ہوگا بلکہ پاکستانی حکمرانوں کو ایک لمبی چوڑی لسٹ تھمادی جائے گی کہ دیکھو آئی ایم ایف سے ریلیف مل گئی ہے، دوسرے مسائل پر بھی ہم آپ سے بات کرینگے بلوچ قومی تحریک پر بھی ہم نظر رکھ رہے ہیں، افغانستان پر رویہ نرم ہے لیکن اگر ہمارے مطالبات نہیں مانے گئے تو پھر ہم وہ کچھ کرینگے جو ہم نے پہلے سے تیاری کی ہوئی ہے۔

مگر اب پاکستانی ریاست اور اسکے اداروں میں وہ سکت نہیں ہےکیونکہ پاکستانی ریاست کا بحران شدید ہے اور پاکستانی حکمران طبقہ اپنی حیثیت کھوچکا ہے۔ یہ بیان ایک طرح سے پاکستانی ریاست کیلئے تذبذب کا باعث ہے، ہاں! البتہ اس بیان کو بہانہ بناکر پاکستانی ریاست بلوچ قومی آزادی کی تحریک کے خلاف سازشی ہتھکنڈے ضرور اختیار کرسکتاہے اور اپنی جارحیت تیز کرسکتا ہے۔ مگر امریکی مطالبات کو ماننے کیلئے اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

لیکن بلوچ کے پاس اب بہت کچھ ہے، وہ یہ کہ بلوچ قومی آزادی سے وابسطہ رہنماء وتنظیمیں بہت تیزی اورسرعت کے ساتھ وفود کی شکل میں امریکی ایوان نمائندگان، ایوان بالا اور دونوں ایوانوں کے نمائندوں سے خطوط اور وفود کے ذریعے جلد از جلد رابطہ رکھیں کیونکہ اب بلوچ قومی آزادی کواپنا موقف بیان کرنے کا جواز مل گیا ہے۔ جو کہ خود امریکہ نے بڑی ہوشیاری سے دیا ہے۔ فائدہ اٹھائیں اگر مگر کو چھوڑ یں۔ ایک سیاسی طالبعلم کی حیثیت سے عرض کررہا ہوں کہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک اہمیت اختیار کر گئی ہے اور ہاں ایک بات یاد رہے کہ اب بلوچ قومی تحریک امریکی انتظام کے تحت ہوگی کیونکہ یہ خطہ اہم ہے اور بلوچ اس میں ایک اسٹک ہولڈر ہے۔ امریکی ریاست دنیا کی جدید ترین ریاست اور امریکی عوام انتہائی کھلے ذہن و دماغ کے مالک ہیں۔ 1776 کا امریکی اعلان آزادی نہایت ہی اہم دستاویز ہے۔ یادرہے امریکہ کے بانیان اور اس کے عوام نے اس وقت جدید جمہوریت کی بنیادرکھ دی جب یورپ اور ساری دنیا بادشاہت اور آمرانہ نظاموں میں جکڑا ہوا تھا۔ امریکی قوم اس وقت دنیا کی جدید ترین قوم ہے۔ امریکہ میں رنگارنگی ہے، مختلف قومیں، نسلیں اور زبانیں بولنے والے باہم مربوط ہیں۔ یہ بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک کے رہنما و ساتھی نہایت ہی بے باکی سے سچائی کے ساتھ اپنا سب کچھ حاصل کرسکتے ہیں بس ذرا ہمت اور جرأت چاہیئے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔