‘کچھ لاتیں اور گھونسے مارے اور کہا غلط فہمی پر اٹھایا تھا’

70

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر سے جبری گمشدگی کے بعد رہائی پانے والے نوجوان علی حیدر بلوچ کا کہنا ہے کہ انہیں رہا کرتے وقت ان سے کہا گیا کہ ‘تمھیں غلط فہمی کی بنیاد پر اٹھایا تھا، جاؤ اب شکایت نہ کرنا۔’

علی حیدر بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں 5 روز حراست میں رکھا گیا۔

بقول ان کے گزشتہ اتوار کو تقریباً دوپہر 12 بجے گوادر میں وہ اپنے گھر کے باہر تھے کہ دو پک اپ میں سوار افراد نے انہیں اپنے ساتھ چلنے کو کہا اور وہ کسی مزاحمت کے بغیر ان کے ساتھ چل پڑے۔

‘میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی اور بعد میں ہاتھ بھی پیچھے باندھ دیے گئے۔ پہلے زور دار تھپڑ، لاتیں اور گھونسے مارے گئے اس کے بعد کوئی تشدد نہیں ہوا تاہم ایک کمرے میں اکیلا رکھا گیا۔’

علی حیدر کے مطابق ان سے 2013 کے کوئٹہ سے اسلام آباد تک پیدل لانگ مارچ کی تفصیلات کے بارے میں پوچھا گیا، مثلاً یہ کہ ساتھ کون کون تھا کہاں رکے وغیرہ۔ کچھ دیگر بھی سوالات تھے جو وہ پوچھتے رہے ‘کیونکہ گوادر کا ماحول ہی ایسا ہے اس لیے انہیں شک و شبہات تھے۔’

علی حیدر کے والد رمضان بلوچ بھی گوادر سے لاپتہ ہوگئے تھے جن کی بازیابی کے لیے انہوں نے اپنی دو بہنوں کے ہمراہ وائس فار مسنگ پرسنز کے سربراہ ماما قدیر بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ سے کراچی اور پھر کراچی سے اسلام آباد تک پیدل لانگ مارچ کیا گیا تھا۔ ان دنوں علی حیدر دس سال تھے۔

علی حیدر نے بتایا کہ انہیں گوادر میں گوادر ڈولپمنٹ اتھارٹی کے دفاتر کے قریب آنکھوں پر پٹی باندھ کر چھوڑا گیا اور کہا گیا کہ پیچھے نہیں مڑنا۔ وہ پانچ منٹ تک چلتے رہے جب بعد میں آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو وہ لوگ غائب ہوچکے تھے جس کے بعد وہ گھر لوٹ آئے۔

علی حیدر نے بتایا کہ ان سے والد کی گمشدگی کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی گئی کہ کب اور کہاں سے لاپتہ ہوئے تھے۔ ‘جو پوچھ گچھ کے لیے آتے تھے وہ طبیعت کا معلوم کرتے اور کھانا وغیرہ بہتر دیا جاتا تھا۔ چھوڑتے وقت کہاکہ آپ کو غلط فہمی کی بنیاد پر اٹھایا گیا تھا جاؤ اب جاکر پڑھو اور اچھے انسان بنو۔’

علی حیدر کی گمشدگی کی اطلاع جمعرات کو سوشل میڈیا پر آئی جس کے بعد کچھ صحافتی حلقوں نے اسے رپورٹ کیا اور اگلے روز یعنی جمعہ کو انہیں چھوڑ دیا گیا۔

علی حیدر کی جبری گشمدگی پر سماجی ویب سائٹ ٹویٹر پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ حقوق انسانی کمیشن کے علاوہ حقوق انسانی کے کارکنوں، ادیبوں اور صحافیوں کی جانب سے ان کی گمشدگی کی مذمت کی گئی تھی اور ہیش ٹیگ رلیز علی حیدر نے ٹویٹر پر ٹرینڈ کیا تھا۔

سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سلیم بلوچ نے علی حیدر کی گمشدگی پر طنزاً کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ لاپتہ افراد کی بچوں سے ملاقات کروائی جائے گی شاید لاپتہ والد سے ملاقات کرانے کے لیے اُسے لے گئے ہیں۔

علی حیدر نویں جماعت کے طالبعلم ہیں۔ ان کی دو بڑی بہنیں اور ایک چھوٹا بھائی ہے۔

وہ پرامید ہیں کہ ان کے والد ایک روز لوٹ آئیں گے اور ان کی بازیابی کے لیے وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

علی حیدر کی جمعہ کی دوپہر بازیابی کے بعد اچھی خبر کے نام سے ٹوئٹر پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ سینئر صحافی حامد میر نے لکھا کہ ‘بہت اچھی خبر: کچھ روز کی پرسرار گمشدگی کے بعد علی حیدر واپس آگئے۔’