کوئٹہ: میڈیکل کالجوں کے داخلوں میں تاخیر کے خلاف احتجاج

26

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مکران، جھالاوان اور لورالائی میڈیکل کالجوں میں داخلوں میں تاخیر کے حوالے سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس احتجاجی مظاہرے میں طلباء اور طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے جس میں مطالبات درج تھے کہ طالب علموں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے رہنماوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث آج ایک بار پر طلباء اور طالبات پریس کلب کے چکر کاٹ رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ بولان یونیورسٹی آف ہھلیتھ اینڈ میڈیکل سائنس کی جانب سے بلوچستان کے تمام میڈیکل کالجوں کا ٹیسٹ لیا جا چکا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد طلبا و طالبات شریک ہوئے تھے لیکن آج یونیورسٹی انتظامیہ مختلف حیلے بہانوں کے ذریعے معذرت خواہانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے رہنماوں نے کہا کہ اس وقت 150 طلباء مکران، جھالاوان اور لورالائی میڈیکل کالجز میں زیر تعلیم ہیں اور پچھلے ایک سال سے حکومت بلوچستان خواب خرگوش میں مبتلا ہے۔ ان میڈیکل کالجوں کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے رجسٹرڈ کرنے کے حوالےسے تاحال حکومت بلوچستان نے باضابطہ کونسل کو تحریری طور کچھ بھی نہیں لکھا۔ جسے ہم حکومت بلوچستان کی عدم دلچسپی اور نااہلی سمجھتے ہیں۔ میڈیکل کالجوں کو ایک سال مکمل ہونے کے باوجود اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی پیش کردہ تجاویز کے باوجود حکومت بلوچستان نے ان کی رجسٹریشن کے حوالے سے تاحال کوئی عملی اقدام نہیں کیا ہے ۔

طلباء رہنماوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں میں یہ صورتحال برقرار رہی تو ہمارے ادارے کبھی ترقی نہیں کر پائیں گے ۔ بلوچستان میں نئےمیڈیکل کالجز کسی نعمت سے کم نہیں لیکن اگر حکومتی دلچسپی اسی طرح غیر ذمہ دارانہ رہی تو ہمیں شک ہے کہ بلوچستان ان تینوں میڈیکل کالجوں سے محروم رہے گا ۔

رہنماوں نے آخر میں کہا کہ بحیثیت ذمہ دار طلباء تنظیم ہم ہر فورم پر نئے میڈیکل کالجوں میں داخلوں میں تاخیر کے حوالے سے آواز اٹھائیں گے اور ہم وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف جسٹس ہائیکورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ نئےمیڈیکل کالجوں کے فائنل میرٹ کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ پر دباؤ ڈالیں اور نئےمیڈیکل کالجوں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے رجسٹرڈ کرنے کے لئے باقاعدہ کونسل سے رابطہ کریں بصورت دیگر بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی ملک گیر احتجاج اور سب بڑے شہروں میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے گی ۔