کوئٹہ: لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج جاری

54

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج کو 3625 دن مکمل ہوگئے، پسنی سے سیاسی و سماجی کارکن میرشہباز خان بلوچ، جان محمد بلوچ اور کوئٹہ سے بلوچ اسٹوڈنٹس آگنائزیشن پجار کے رہنماء ابرار برکت بلوچ اور دیگرافراد نے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہاد یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ سامراج لواحقین کے پر امن احتجاج کو سبوتاژ اور منشتر کرنے کے لیے ڈیتھ اسکواڈ کی تخلیق اور ان کی ہر طرح سے مالی عسکری اور سیاسی پشت پناہی کرکے استعماری قوتوں کا سب سے مقبول ترین بدنام زمانہ حربہ استعمال کرکے سرگرم رہنماؤں اور کارکنوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانا بنایا جارہا ہے۔ اس احتجاج کے بھرپور حمایتی عوام کو بھی انسانیت سوز ذرائع سے سفاکانہ سزائیں دی جاتی ہیں یہ سزائیں بظاہر کسی عدالت کے ذریعے نہیں بلکہ استعماری اذیت گاہوں میں دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا سازش کے تحت سب سے پہلے متعلقہ معاشرے میں قبائلی تنگ نظری اور غلام محکوم عوام کو باہم تقسیم کرنے والے دیگر ہتھکنڈوں کا سب سے زیادہ استعمال عمل میں لایا گیا جس میں استعماری قوتوں کو کسی حد تک کامیابی بھی ملیں مگر جہاں غلام قوم طبقات کی فکری نظریاتی بنیادوں پر منظم اور اپنے معاشروں میں انتہائی گہری سماجی جڑے اور وسعت رکھتی ہے وہاں یہ حربے ناکام ہونگے۔

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ وی بی ایم پی نے بلوچستان میں بلوچ نسل کشی، ریاستی جرائم کو پوری دنیا پر واضح کرنے کیلئے کلیدی قردار ادا کیا اس کے علاوہ لاپتہ بلوچ لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے دس سال سے جاری بھوک ہڑتال سمیت احتجاج کے تمام پر امن ذرائع کے استعمال اور بلوچ قوم کے بھرپور آواز نے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری کو متوجہ ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔