کتابیں اور بلوچ طلباء – لونگ بلوچ

66
تصویر: کمانچر بلوچ

کتابیں اور بلوچ طلباء

تحریر: لونگ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

دنیا میں آج تک جتنی بھی کامیابیاں ملی ہیں یا ترقیاں ہو چکی ہیں، اس کی وجوہات یہ رہی ہیں کہ اس معاشرے میں اُس کے نوجوانوں کا رجحان صرف کتابوں کی طرف ہوئی ہے، کیونکہ وہی راستے دکھانے والے ذرائع ہیں، ہر چیز کی جانکاری و معلومات اسی میں ہے، ہر ایک کامیاب شخص کی کارکردگی یہیں پر لکھا ہوا ہے۔

اب اگر ایک نظر ہم اپنے بلوچستان پر ڈالیں تو بہت سی چیزیں ہمارے لیئے واضح ہیں، جوسلوک پاکستانی ریاست نے بلوچ طلباء کے ساتھ روا رکھا ہے، وہ ہمارے لوگوں کے سامنے ہے۔ کیا بلوچ نوجوان کو اتنا بھی نہیں پتہ کہ پاکستان میں صرف ایک قسم کی لٹریچر کی اجازت ہے اور وہ جہادی لٹریچر ہے، کیا جہادی لٹریچر اسٹال پر نہیں ملتی؟

ویسے تو بلوچستان کے بارے میں پاکستانی ریاست کو بہت کم علم ہے لیکن یہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ یہاں کے نوجوانوں میں کتاب اور اخبار بینی کا شوق ہے۔ شاید آپ کو اتنی بڑی تعداد میں کہیں اور جگہ کے نوجوان اخبار پڑھتے نظر نہیں آئیں لیکن بلوچستان میں طلباء سیاست نے جو ایک اچھی روایت ڈالی ہے وہ بلوچ نوجوانوں میں پڑھنے کا، ہر چیز کی جانکاری رکھنے کا رجحان حد سے بھی زیادہ ہے۔

کتاب بینی ایک غیر معمولی خوبی ہے اورجہاں تک میرا خیال ہے جس شخص کو کتاب پڑھنے کا شوق ہوا، تو سمجھو اس نے آدھی دنیا فتح کرلیا۔ جیسے کہ آپ کو پتا ہوگا کہ جب ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن پکڑا گیا ان کے گھر سے محض سی ڈی برآمد ہوئیں۔

جب پنجاپ یونیورسٹی میں چھاپہ مارا گیا تو اسلامی جماعت طلباء کے کمروں سے شراب کی بوتلیں اور اسلحہ برآمد ہوا اور جب بلوچستان میں عطاء شاد کالج پہ چھاپہ پڑا تو اُن تمام طلباءکے ہاسٹل کے کمروں سے کتابیں برآمد ہوئیں، جو کہ دنیا کے مشہور باغیوں کے حوالے سے تھے، جن میں چے گویرا، گاندھی جی، سبھاش چندر بوس، بھگت سنگھ، ڈاکٹراللہ نظر کے نام شامل تھے۔ آج ہم یہ فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے اور اُن بلوچ بچوں کے والدین کو فخر ہونا چاہیئے کہ ہر کسی کے کمرے سے یہ کتابیں برآمد نہیں ہوتے ہیں۔

جب ڈاکٹر نصیر دشتی کی دو کتابوں پہ پابندی عائد ہوئی تو بلوچ طلباء اکثر ڈاکٹر سے پوچھتے تھے کہ ہمیں کس قسم کی کتابیں مطالعہ کرنا چاہیئے تو وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ ایسی کتابیں مطالعہ کریں جن پہ پابندی عائد ہو کیونکہ اِن کتابوں میں کچھ ایسی حقیقت چھپی ہوتی ہے جو حکومت عوام کے سامنے لانا نہیں چاہتا ہے، بالکل ایسے ہی جب سے بلوچستان کے آزادی پسند تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے تو ان کی کتابوں پہ بھی پابندی عائد ہوچکی ہے۔

آخر مِیں مَیں بذاتِ خود بلوچ طلباء سے یہی عرض کرنا چاہونگا کہ وہ سنگر، سگار اوردنیا کے جتنے انقلابی جنگیں ہوچکی ہیں ان کا مطالعہ کریں اور اپنے بلوچ قومی تحریک کا مطالہ کرکے ان میں فرق کریں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔