مفروضوں کی سحر میں – شہیک بلوچ

52

مفروضوں کی سحر میں

تحریر: شہیک بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

مفروضات پر حتمی رائے قائم کرکے انہیں حرف آخر قرار دینا اور ایک مخصوص خول میں خود کو قید کردینا تیسری دنیا کی ایک ایسی حقیقت ہے جس کو کنٹرول کرنے میں استحصال کار کا ہاتھ ہے۔ مفروضے حقیقت تک پہنچنے کی ایک کوشش تو ہوسکتی ہیں لیکن سائنسی طور پر بھی دیکھا جائے تو سائنسی طریقہ کار میں ابتداء مفروضے سے ہی کی جاتی ہے لیکن اکتفا اس بات پر نہیں کیا جاتا کہ مفروضہ ہی حرف آخر ہے بلکہ مزید حقائق کو اکھٹا کرکے مشاہدے کی روشنی میں تجزیہ کیا جاتا ہے۔ تیسری دنیا کا باشندہ اپنے بے شعوری کے ہاتھوں مارا جاتا ہے وہ خود تجربات کا ایندھن بن جاتا ہے لیکن تاریخی عمل کے تجربات سے ملنے والی روشنی پر ذرا بھی غور نہیں کرتا اور یہی اندھا پن اسے غلامی کے اندھیرے میں دھکیلے رکھتی ہے۔ محدود سے محدود تر ہوکر وہ ایک مزید گھٹن کو جنم دیتا ہے اور ایک ری ایکشنری کردار بن کر رہ جاتا ہے اور اپنے آپ کو مکمل نوآبادکار کے ہاتھ میں دے دیتا ہے اور نوآبادکار کا کھلونا بن کر وہ اپنے تاریخی کردار سے بہت دور نکل جاتا ہے۔

بلوچ سماج میں ہم نے کسی بھی نوآبادیاتی پالیسی کا جم کر مقابلہ نہیں کیا بلکہ ہم ان کی پالیسیوں کا شکار ہوکر مزید کمزور ہوتے گئے اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے حقائق کے بجائے مفروضاتی اپروچ کو اپنایا۔ ہر جگہ میں، میرا مہان لیڈر، میری عظیم تنظیم کا راگ الاپ کر ہر طرح کے منفی رجحان کو جائز قرار دیا گیا اور یوں ہم نے کرتے کرتے اس حد تک الجھنیں قائم کرلی جو ہم پر حاوی ہوگئیں، مزید الجھنوں کیساتھ مزید مفروضات اور ہر مفروضہ حتمی قرار دیا گیا یوں گھٹن زدہ بحران تک ہم پہنچ گئے۔ اس سارے عمل میں ریاست دیکھ رہا تھا اس میں اس کا کوئی کردار نہیں تھا بلکہ اس ساری صورتحال کو تشکیل دینے میں ہمارے اپنے واہمے تھے اپنی من گھڑت مفروضات تھے۔
فینن جس طرح کہتا ہے کہ دیسی نوآبادکار کی جگہ لینا چاہتا ہے اسی طرح مسائل کے حل بابت ہم نے اپنے نوآبادکار کو اپنا رول ماڈل بنا لیا، کوئی تسلیم کرے یا نہیں لیکن بلوچ نے پنجابی سیاسی ماڈل جب تک اپنایا تب کردار کشی، میڈیا ٹرائل اور پروپیگنڈہ تک ہی سوچ محدود رہی اور سب سے زیادہ نقصان اسی مرحلے میں نفسیاتی طور پر ہوا۔ اس کے بعد جب مفروضات سے آگے بڑھ کر حقائق کی بنیاد پر سوچ کو ترتیب دی گئی تب تجربات کی مدد سے یہ ثابت ہوا کہ اس محدود سوچ سے بالاتر ہوکر ہی مسائل کا حل ممکن ہے اور پھر کافی حد تک مسائل حل بھی ہوئے لیکن آج بھی کچھ لیڈر اور ان کے حمایتی مفروضات پر قائم ہیں جس کا نقصان تحریک کو ہورہا ہے۔

آج ازسر نو غور و فکر کی ضرورت ہے کہ ان مفروضات کو گھڑ کر کیا کھویا کیا پایا؟ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ جن منفی رجحانات کی حوصلہ افزائی کرکے ہم نے اجتماعی طور پر کچھ حاصل کیا تو اس کی دانش پر ماتم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جس صورتحال کی تشکیل منفی رجحانات نے کی اس سے نکلنے کے لیے جہدکاروں کو بہت بھاری قیمت چکانا پڑی اور فدائی حملوں کے بعد تحریک ایک نئے فیز میں داخل ہونے میں کامیاب ہوسکی جب سارا دھیان ساری انرجی دشمن کے خلاف صرف کی گئی۔ کم از کم لیڈرشپ اور ان کے حمایتی اس بات پر غور و فکر کریں کہ ان کے منفی رویوں نے اور خالی خولی مفروضات نے کس حد تک نقصان دیا اور ان کی تلافی کے لیے انقلابی اقدام یہی ہوگا کہ وہ اس خول سے نکل کر اجتماعی مفادات کے لیے جدوجہد کو ترجیح دیں۔

ایک قوم کی بقاء کے لیے اپنی انا کی قربانی عظیم عمل ہے اور یہی تاریخ میں سرخرو ہونے کا واحد راستہ ہے۔ تحریک کی اجتماعی ناکامی کی صورت میں آپ کونسا انفرادی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں اور وہ کس حد تک دیر پا ثابت ہوسکتی ہے۔ ایک عظیم منزل کے لیے اپنے ذات کی قربانی کوئی بڑا سودا نہیں ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔