مخبروں سے متعلق الزامات – جیئند بلوچ

212

مخبروں سے متعلق الزامات

جیئند بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

گذشتہ دو دہائیوں سے بلوچ سرزمین پر جاری قومی جنگ میں قطع نظر اس بات پہ کہ کیا فوائد و کیا نقصانات اٹھائے گئے ہیں ( یہ سوچنا اور اس پہ تدبر قیادت کا کام ہے) اس پہ اگر بات کی جاۓ کہ ان دو دہائیوں میں جنگ کو لے کر جو سب سے زیادہ منفی پروپگنڈہ کیا گیا وہ مخبروں کی ہلاکت کے معاملے میں رہا ہے۔ تمام مزاحمتی تنظیموں نے اس دوران جب وہ دشمن سے نبرد آزما تھے اندرونی دشمنوں پر بھی کام کیا، جو مخبری کے ذریعے مزاحمت سے وابستہ سپاہیوں حتیٰ کہ سیاسی کارکنوں تک کے خلاف دشمن فوج کو خبر دے کر ان کے لاپتہ کرانے سمیت مسخ لاش کی صورت پھینکنے میں غلیظ کردار کے بڑے محرک رہے۔ ایسے افراد کو درجنوں سے بڑھ کر ہلاک کیا گیا بلکہ کئی کے اعترافی بیانات اور ویڈیو و صوتی پیغامات ریکارڈر کراکے شائع بھی کرائے گئے تاکہ ان کے جرائم مزید قوم پہ واضح ہوسکیں لیکن پھر بھی یہ بدقسمتی رہی کہ اسی پہلو کو لے کر قومی جنگ کے خلاف موثر منفی پروپگنڈہ کیا گیا، جس کے یقیناً کافی اثرات عام اذہان پر ثبت ہوئے۔ لوگوں کو اس موثر منفی پروپگنڈہ سے شک بھی گزرا حالانکہ اس عمل میں دشمن کی مشینری کے ساتھ بعد ازاں سردار ھیربیار مری کا بھی نمایاں ہاتھ رہا، جنہوں نے اپنے طفیلیوں کی مدد سے کھلے عام بالخصوص بی ایل ایف کی دشمنی میں یہ بدبودار عمل کرایا یہ محض الزام نہیں سوشل میڈیا کے ساتھ روزنامہ توار اور آنلائن ہمگام کے آرٹیکل و مضامین ریکارڈ پر ہیں۔

مگر وقت و حالات کی تلخیاں جونہی شدت اختیار کرتی گئیں، یہ ثابت ہوتا گیا کہ دراصل اکا دکا غلطی کے علاوہ تمام ایسے واقعات جن میں مقامی مخبروں کونشانہ بنا کر ان کو ہلاک کیاگیا بالکل صحیح تھے کیوںکہ جن لوگوں کو اس بنا پر ہلاک کیا گیا وہ کسی نا کسی طور پر اور کہیں نا کہیں اس غلیظ عمل کا حصہ تھے، جن کا ان پر الزام تھا۔ یہ ڈھکی چپھی نہیں کہ تربت راشد پٹھان کے دست راست کو جب بی ایل ایف نے چھ مخبروں کے ساتھ دشت میں کامیاب کاروائی کر کے ہلاک کیا تو فوج کی حکم پر مقامی میڈیا تنظیم کے خلاف بیان دےکر یہ الزام لگایا گیا کہ مذکورہ مخبر بے گناہ تھے۔

علاوہ ان سب کے اب اگر صورتحال کا معائنہ کیا جاۓ تو یہ حقیقت بعینہ آشکار ہوگی کہ جونہی مزاحمتی فیکٹر کا شہری علاقوں میں اثر کم ہوا ہے، سرکاری ایجنٹ اور مخبر کس تیزی کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ مکران ڈویژن میں ایف سی نے تربت کو الگ ہیڈکوارٹر بنانے کے بعد تربت میں الگ سدرن کمانڈ بنانے کا اعلان کر رکھا ہے، جہاں پہ آئی جی کے ساتھ اب ایک کور کمانڈر بیٹھے گی اور ہزاروں کی تعداد آرمی مذید یہاں آئے گی۔ ایسے میں اس علاقے کے شہری ایجنٹ اور مخبر مذید بے خوفی محسوس کرینگے جیسا کہ اب ہے۔

اس وقت پنجگور اور گوادر کو چھوڑ کر صرف تربت میں اگر مقامی ایجنٹ اور مخبروں کا ریکارڈ اکھٹا کیا جائے تو حیران کن ہونگے۔ اگر ایک دن کے لیئے ایف سی ہیڈکوارٹر آپسر اور ایف سی ساؤتھ کے ہیڈکوارٹر تربت کی نگرانی کی جائے تو کتنے لوگ نظر آئینگے، جو ان کی گیٹوں سے آتے اور جاتے ہونگے جبکہ خفیہ اداروں کے دفاتر میں شام سے رات گئے تک آمد ورفت الگ ہے۔ ان سب کے ساتھ شہر اور دیہی علاقوں میں ان ایجنٹ اور بندوق بردار مسلح گماشتوں کی تعداد کا اندازہ لگایا جاۓ تو بھی یہ حقیقت عیاں ہوگی کہ فوج اور خفیہ اداروں نے کتنے کرایہ داروں کو اپنے ساتھ لگالیا ہے۔

اگر ان میں سے کسی کو مارا جائے یا شہری علاقوں میں دوبارہ تنظیموں کا اثر بڑھ جائے تو یقیناً ان تمام مخبروں کا انجام موت کی صورت وقوع پذیر ہوگا، جو ایف سی اور فوج کی نفری بڑھنے کے بعد آشکار ہوئے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی یا بہت سے اپنے انجام سے دوچار ہوجائیں تو وہی الزامات ایک بار پھر سر اٹھائینگے جو قبل ازیں سرکار اور سردار نے مل کر تنظیموں پر لگائے تھے؟ کیوںکہ یہ تو لازمی ہے کہ حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے آج نہیں تو کل فوج کا اثر لازمی کم ہوگا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔