لاپتہ افراد جلد بازیاب ہونگے،حکومت سے بات چیت ہوچکی ہے – آغا حسن

92

 بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے چھ نکاتی ایجنڈے پر ہمارے ساتھ تفصیلی بات چیت کی جلد بلوچستان کے لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کیلئے اقدامات کئے جائینگے۔

بلوچستان اور ملک میں جبری گمشدگی بل کے متعلق کہا گیا کہ تحریک انصاف بھی اس بل کی مکمل حمایت کرے گی یہ بل جو کہ قانون انصاف کے محکمے میں غور وغوص کے بعد اسے جلد قومی اسمبلی میں پیش کر کے تحریک انصاف بھی ا س کی مکمل حمایت کرے گی بلوچستان کے عوام کا ایک اہم دیرنہ مسئلہ جو افغان مہاجرین کے حوالے سے ہیں تمام خدشات اور تحفظات حکمران جماعت کے سامنے تفصیل سے بیان کیا گیا اور حکومتی وفد نے کہا کہ جس طرح خیبر پختونخوا ہ میں ہماری حکومت افغان ہماجرین کی انخلاء چاہتی ہے بلوچستان میں بھی جلد ہی افغان مہاجرین کی انخلا کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائینگے اور انہیں باعزت طریقے سے افغانستان بھیجا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز بی این پی او تحریک انصاف کا مشترکہ اجلاس گزشتہ روز پارٹی کے مرکزی صدر اختر مینگل کی رہائش گاہ پارلیمانی لاجز میں منعقد ہوا تحریک انصاف کے وفد کی سربراہی وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کررہے تھے اور کمیٹی کے ممبران میں قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری،وزیر اعظم کے مشیر اراباب شہزاد موجود تھے جبکہ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی،مرکزی سیکرٹری اطلاعات ایم این اے آغا حسن بلوچ،مرکزی رہنماء ایم این اے حاجی محمد ہاشم نوتیزئی بھی موجود تھے۔

اجلاس میں پارٹی کے چھ نکات پر تفصیل سے گفت شنید کی گئی جس میں سہر فرست بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی تھی اس مطابلق حکومت وفد نے کہا کہ جلد بلوچستان کے لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کیلئے اقدامات کئے جائینگے بلوچستان اور ملک میں جبری گمشدگی بل کے متعلق کہا گیا کہ تحریک انصاف بھی اس بل کی مکمل حمایت کرے گی یہ بل جو کہ قانون انصاف کے محکمے میں غور وغوص کے بعد اسے جلد قومی اسمبلی میں پیش کر کے تحریک انصاف بھی ا س کی مکمل حمایت کرے گی۔

بلوچستان کے عوام کا ایک اہم دیرنہ مسئلہ جو افغان مہاجرین کے حوالے سے ہیں تمام خدشات اور تحفظات حکمران جماعت کے سامنے تفصیل سے بیان کیا گیا اور حکومتی وفد نے کہا کہ جس طرح خیبر پختونخوا میں ہماری حکومت افغان مہاجرین کی انخلاء چاہتی ہے بلوچستان میں بھی جلد ہی افغان مہاجرین کی انخلا کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائینگے اور انہیں باعزت طریقے سے افغانستان بھیجا جائے گا۔

بلوچستان اور گوادر کے عوام اپنے ہی سرزمین پراقلیت میں تبدیل نہ ہو اس حوالے سے جلد قانون سازی کی جائے گی اور بل قومی اسمبلی میں لا یا جائے گا تاکہ دیگر صوبوں کے لوگ ضلع گوادر میں شناختی کارڈز،لوکل حاصل نہ کرسکے اور انتخابی فہرستوں میں بھی ان کی مکمل اندراج کی ممانعت ہو تحریک انصاف کے وفد نے اس متعلق بھی یقین دہانی کرائی کہ ہم اس بل کی مکمل حمایت کرینگے اور اپنے دیگر اتحادیوں سے بھی کہیں گے کہ وہ اس بل کی حمایت کریں تاکہ با آسانی بل قومی اسمبلی سے پاس ہوسکے مرکزی محکموں میں بلوچستان کے چھ فیصد کوٹے پر عملدرآمد نہیں کی جارہی ہے۔

وفد کو بتا یا گیا کہ بلوچستان میں بے روزگاری بڑتی جارہی ہے لیکن مرکزی محکموں میں بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار نہیں دیا جاتا ہے اور نہ چھی فیصد کوٹے پرعملدرآمد کی جارہی ہے تو تحریک انصاف کے اکابرین نے کہا کہ جلد اس حوالے سے اقدامات کرینگے تاکہ بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو مرکزی محکموں میں روزگار کی فراہمی کو یقینی بناسکے۔

اجلاس میں کہاگیا کہ ماضی میں مرکزی محکموں میں جتنے لوگ بھی بھرتی کئے گئے ہماری حکومت ان لوگوں کے لوکل ڈومیسائل کی تصدیق بھی کرارہی ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ آیا ان کا تعلق بلوچستان سے ہے یا جعلی لوکل ڈومیسائل کے ذریعے بھرتی ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے فارن سروسز سے متعلق بھی کہا گیاکہ بلوچستان کے با صلاحیت نوجوان ملک کے فارن سروسز میں نہ ہونے کے برابر ہے پارٹی چاہتی ہے کہ فارن سروسز میں بلوچستان کے باصلاحیت نوجوانوں کو روزگار دیا جائے جو ماضی میں ہمیشہ انہیں نظر انداز کیا گیا ہے یہاں بھی ہمارے چھ فیصد پر عملدرآمد کیا جائے۔