قابض کاساتھ دینے والے بلوچ قوم کے انتقام سے نہیں بچ سکیں گے۔ ڈاکٹراللہ نذر

321

بلوچ آزادی پسند رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچ قومی تحریک ایک منظم شکل میں اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔ اس میں کامیابی یقینا حق اور سچ کی ہوگی جس میں ہزاروں بلوچ فرزندوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ پاکستانی فوج، اس کے ہمنوا اور پراکسیوں نے اس جد و جہد کو کچلنے کیلئے جو مظالم ڈھائے ہیں ان کی مثال تاریخ میں بہت کم ملتے ہیں۔ چالیس ہزار سے زائد بلوچ فرزند لاپتہ، ہزاروں شہید اور لاکھوں بے گھر ہو کر کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس جدوجہد کو کچلنے اور بلوچ قوم کو نیست و نابود کرنے کیلئے دشمن کے علاوہ کالی بھیڑیوں، آستین کے سانپوں، دوست نما دشمنوں نے بھی بلوچ قوم کے خلاف کئی گھناؤنے سازشیں کی ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیئے تاریخ بے رحم ہوتاہے اور ان سے حساب لینا یقینی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی تحریک میں غدار اور دلاروں کا ہونا ایک انہونی بات نہیں ہے۔ بلوچ قومی تحریک کے غداروں کویاد رکھنا چاہئے کہ ماضی میں ان جیسوں کا انجام کیا ہوا ہے۔ آج کے غداروں اور دشمن کا ساتھ دینے والوں کو ان سے سبق حاصل کرنا چاہیئے کہ قوموں کو نہ کوئی گروہ ختم کرسکتا ہے اور نہ ہی قابض ریاستیں اور ان کی افواج۔ بلوچستان نہ صرف یہاں کے بلوچوں بلکہ دنیا میں جہاں بھی ایک بلوچ آباد ہے سب کی سرزمین ہے۔ بلوچ قوم کا ہر فرزند اپنے وطن کی حفاظت کیلئے اپنے فرض سے واقف ہے۔ اس میں چند لالچی، دھوکہ باز اور عارضی مراعات کیلئے دشمن کا ساتھ دیکر اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ وہ تا ابد اس سے فائدہ حاصل کرتے رہیں گے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ اس طویل جد و جہد اور گراں بہا قربانیوں کے سامنے کوئی بھی شخص دشمن اور قابض ریاست کا ساتھ دے گا تو وہ بلوچ کی انتقام سے نہیں بچ سکے گا۔

بلوچ رہنما نے کہا کہ پاکستان نے جس طرح بنگلہ دیش میں پراکسیوں کا استعمال کیا اور وہ غدار آج بنگلہ دیشی ٹریبونل کے سامنے کھڑے ہوکر نسل کشی، جنگی جرم اور نسل کشی کا مرتکب ہونے پر تختہ دار پر لٹکائے جا رہے ہیں۔ پاکستان نے اپنے زر خریدوں سے کام نکلوا کر انہیں پس پشت ڈال کر ایک مثال قائم کی ہے کہ زرخرید کی حیثیت صرف استعمال کی حد تک ہوتاہے اس سے آگے ان کی مقدر میں صرف رسوائی ہی رہ جاتی ہے۔

ڈاکٹر اللہ نذربلوچ نے کہا کہ بلوچ قوم دشمن کے ساتھ تاریخ ساز جنگ لڑ رہی ہے۔ ان حالات میں کوئی باشعور شخص ایک ایسے دشمن کا ساتھ نہیں دے گا لیکن جو بھی دشمن کا دست و بازو بن کر بلوچ فرزندوں کے ٹارچر اور قومی نسل کشی جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے وہ انسانی صفات سے محروم اور دشمن کے ساتھ برابر کے شریک جرم ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بلوچ قومی تحریک عالمی اصولوں، انسانی اقدار کی مکمل پاسداری کرتا ہے لیکن ہمارا دشمن ان سے یکسر عاری اور ایک درندہ ہے۔ اس جدید سائنسی اور جمہوری دور میں ہر قوم کو اپنے طریقے سے رہنے اور جینے کا حق حاصل ہے لیکن پاکستانی ریاست، اس کی فوج اور خفیہ ادارے بلوچستان میں انسانی عظمت سے کھیل رہے ہیں۔ اس ریاست کا ہر ستون اور ہمنوا بلوچ قوم کا دشمن ہے۔ اگر انہوں نے اپنا قبلہ درست نہیں کیا تو بلوچ قوم ان کا بے رحمانہ احتساب کرے گا۔