علی حیدر کو لاپتہ کرنا ان دھمکیوں پر عمل درآمد ہے جو ہمیں احتجاج ختم کرنے کیلئے دی جارہی تھی – ماما قدیر

76

صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو دعویٰ کررہے ہیں کہ لاپتہ لوگ بازیاب ہورہے ہیں یہ سب لغو دعوے ہیں چند ایک لوگوں کو بازیاب کرکے ایک مختصر مدت میں سینکڑوں لوگ فوج اور خفیہ اداروں نے لاپتہ کردیئے ہیں۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پریس کلب کے باہر قائم احتجاجی کیمپ میں علی حیدر بلوچ کی جبری گمشدگی کے حوالے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقعے پر مختلف سیاسی و سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین بھی موجود تھے۔

ماما قدیر بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج اس ہنگامی پریس کانفرنس کا مقصد علی حیدر کی گمشدگی کے خبر کو آپ تک اورآپ کے ذریعہ دنیا تک پہچانا ہے، مجھے معلوم ہے کہ آپ کے اخبار، آپ کے ٹی وی چینل اس خبر مشکل ہی سے چھاپ دیں گے یا نشر کریں گے، اس میں آپ کی کوئی قصور نہیں، ریاست پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر اُس آواز کو دبایا جائے جو ریاست کے مظام اور بربریت کو آشکارا کرے۔

ماما قدیر بلوچ نے علی حیدر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ غالباً آپ سبھی اس بچے کے نام کے واقف ہے ہیں، علی حیدر اپ بچہ نہیں بلکہ جوان ہوچکا ہے اور بچپن سے جوانی کا سفر علی حیدر نے احتجاجی کیمپوں، جلسوں، جلوسوں اور دنیا کی طویل لانگ کے دوران طے کیا۔ لاپتہ علی حیدر لاپتہ رمضان بلوچ کا بیٹا ہے ان کا بنیادی طورپر تعلق مشکے سے ہے لیکن وہ روزگار کے لئے مشکے سے گوادر منتقل ہوئے اور وہاں لانڈری کی چھوٹی سی دکان کھولی اور گوادر ہی اس خاندان کا مستقل مسکن بن گیا۔

انہوں نے کہا 24 جولائی 2010 کی دن علی حیدر کے کسی قیامت سے کم نہ تھی جب ان کے آنکھوں کے سامنے فورسز نے ان کے والد کو سفر کے دوران زیروپوائنٹ کے مقام پر حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔ اس واقعے نے علی حیدر کی زندگی کو تہہ و بالا کردیا اور وہ بچپن نہ دیکھ سکا اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتاجی سلسلے کا حصہ بن گیا۔

ماما قدیر بلوچ نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا رمضان بلوچ ایک عام بلوچ مزدور تھا اور اس کا جرم محض باشعور بلوچ ہونا تھا اسے دیگر ہزاروں بلوچوں کی طرح حراست میں لے کر لاپتہ کردیا گیا ذاکر مجید بلوچ، ڈاکٹر دین محمد، علی اصغر بنگلزئی، ذاکر مجیدبلوچ، زاہد بلوچ، شبیر بلوچ ایسے سینکڑوں نام جن سے آپ واقف ہیں لیکن ایسے ہزاروں نام ایسے بھی ہیں جن سے شائد آپ واقف نہیں ہیں لیکن یہ سب انسان ہیں، ان کے خاندان ہیں، ان کے بال بچے ہیں، ان کے احساسات ہیں، انہیں زندگی کا حق ہے لیکن نہ صرف یہ لوگ بربریت کا شکار ہوچکے ہیں بلکہ ان کے خاندان بھی اذیت سے دوچا رہیں اور علی حیدر کل تک جس اذیت سے دوچار تھا آج خود اس بربریت کا شکا ر بن گیا۔

علی حیدر آپ کے نظروں کے سامنے اپنے والد کی بازیابی کے لئے آواز اٹھاتا رہا، چیختا رہا کہ اگر ان کے والد پر کسی قسم کا الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، انہیں جو بھی سزا دیں ہمیں قبول ہے لیکن کیا ہوا؟ آج ریاستی اداروں نے اس باہمت بچے کو اپنی غیرانسانی ہوس نشانہ بنایا اور گوادر سے انہیں اٹھا کر لاپتہ کردیا۔

ماماقدیر بلوچ نے کہا قیام پاکستان سے لیکر آج تک بلوچ عتاب کا شکار ہے، بلوچ کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا جارہا ہے، بلوچوں کی نسلی صفایا کیا جارہا ہے، بلوچ کی ثقافتی و تہذیبی حوالے سے نسل کشی کی جارہی ہے۔ ایک منظم منصوبے کے تحت بلوچستان میں منشیات کو عام کیا جارہا ہے، قبائلی جھگڑوں کو ہوا دی جارہی ہے، تعلیمی اداروں پر قدغن لگائی جارہی ہے۔اور اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ آواز اٹھانے والوں کو اٹھایا جارہا ہے۔ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ بلوچستان میں بلوچوں کی جبری گمشدگی کا ایک لامتناعی سلسلہ جاری ہے کہ اور اب تک 47 ہزار سے زائد بلوچ لاپتہ کئے جاچکے ہیں جن میں پیر و ورنا خواتین و بچے حتی کہ شیر خوار طفل بھی شامل ہیں۔

انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید بتایا کہ علی حیدر 2013 میں کوئٹہ تا اسلام آباد لانگ مارچ میں ہمارے ساتھ کم عمری میں شامل تھے یہ سفر آسان نہیں تھا لیکن اس بچے نے بہادری اور ہمت سے اپنے والد سمیت ہزاروں لاپتہ افراد کے آواز اٹھایا اور ایک مثال قائم کی، ہماری معلومات کے مطابق علی حیدرکو 16 اور 17 جولائی کے درمیانی شب گوادر میں اس کے گھر سے آرمی و سادہ کپڑوں میں ملبوس ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اغوا کیا کیا چار دن گزرنے کے باوجود بھی اس کا کوئی حال خبر نہیں۔

ماما قدیر بلوچ صوبائی حکومت سے لاپتہ افراد کے بارے میں بات چیت کے بارے میں بتایا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ہم نے صوبائی سرکاری دعووں، یقین دہانیوں پر ان سے مذاکرات کئے اور ایک قسم کا معاہد ہ بھی طے پایا لیکن ہماری مذاکرات کو ایک دن بھی نہیں گزرا تھا کہ لوگوں کو اٹھا کر لاپتہ کرنے کے سلسلے میں مزید تیزی لائی گئی، جس کی میں نے اس وقت نشاندہی کی تھی اورآج بھی صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو دعویٰ کررہے ہیں کہ لاپتہ لوگ بازیاب ہورہے ہیں یہ سب لغو دعوے ہیں چند ایک لوگوں کو بازیاب کرکے ایک مختصر مدت میں سینکڑوں لوگ فوج اور خفیہ اداروں نے لاپتہ کردیئے ہیں بلکہ اس کے دور میں سب سے زیادہ بلوچوں کو لاپتہ کیا گیا۔

آج میں واضح کرتا چلوں کہ ہم پرعرصہ دراز سے احتجاجی کیمپ بند کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے ہمیں قتل و جبری گمشدگی کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، علی حیدر ہمارا باہمت ساتھی اور لاپتہ افراد کے لئے ایک توانا آواز ہے اور انہیں اٹھانے کی صورت میں ان دھمکیوں پر عمل درآمد شروع کیا گیا ہے اگر مجھ کو جان سے مارا گیا یا میں منظر عام سے غائب ہوگیا تو اس کا ذمہ دار آرمی و ایجنسیاں ہونگے۔

پریس کانفرنس کے آخر میں انہوں اپیل کرتے ہوئے کہا میرا تمام صحافیوں، سول سوسائٹی، سیاسی پارٹیوں، انسانی کے اداروں سمیت تمام انسان دوستوں سے پر زور اپیل ہے کہ علی حیدر سمیت دیگر ہزاروں بلوچوں کے پاکستان آرمی کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے خلاف ہماری آواز بنیں، ہمارے احتجاج میں شامل ہوجائیں، انسانیت کی مدد کریں، ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔