انسانی حقوق کی تنظیمیں بولان سمیت پورے بلوچستان میں فوجی آپریشنوں اورانسانی حقوق کی سنگین صورت حال کا نوٹس لیں – بی این ایم

61

بولان میں پاکستان کی زمینی اور فضائی فوج بڑے پیمانے پر عام آبادیوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ اس آپریشن سے ہزاروں لوگ متاثر ہیں۔ متعدد افراد شہید اور متعدد افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا ہے۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے بولان میں فوجی آپریشن کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 13جون سے بولان و ہرنائی کے مختلف علاقوں مارگٹ، بزگر، چھلڑی، جھالڑی، سارو سانگان کے علاوہ ہرنائی، شہرگ، یخو لاکی، لکڑ، غربک سخت فوجی محاصرے میں ہیں۔ ان علاقوں کے عام آبادی قابض فوج کے ہولناک آپریشن کی زد میں ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق فوج نے متعدد گاؤں نذرآتش کیئے ہیں، جنگی ہیلی کاپٹروں نے متعدد مقامات پہ شدید بمباری کی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بولان و ہرنائی کے وسیع و عریض میں اس سے قبل بھی بے شمار آپریشن ہوئے ہیں لیکن موجودہ آپریشن اب تک کی سب سے بڑی اور شدید ترین آپریشن ہے جس میں پاکستان کی زمینی اور فضائی فوج بڑے پیمانے پر عام آبادیوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ اس آپریشن سے ہزاروں لوگ متاثر ہیں۔ متعدد افراد شہید اور متعدد افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا ہے۔ لوگوں کے گھر بار جلائے اور مال مویشی لوٹنے کی اطلاعات ہیں لیکن نقصانات کی مکمل تفصیلات تک رسائی محاصرہ اور مواصلاتی نظام کے بندش کی وجہ مشکل بنایا جاچکا ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ فوج ان علاقوں میں قتل و غارت گری کی نئی مثال قائم کرنے جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بولان، ہرنائی کے ساتھ دشت اور آواران میں بھی پاکستانی فوج بڑے پیمانے پر ملٹری آپریشن میں مصروف ہے لیکن میڈیا بلیک آؤٹ کی وجہ سے ایسے خونریز اور ہولناک آپریشنوں کی خبریں دنیا تک پہنچنے کے بجائے وہاں دب جاتے ہیں اور پاکستانی فوج ایک اور آپریشن کی جانب بڑھ جاتا ہے، گذشتہ انیس سالوں سے یہ معمول بن چکا ہے۔ ہر آپریشن میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ جن جن علاقوں میں آپریشن کیئے جاتے ہیں وہاں پاکستانی فوج کی بربریت اور مظالم آبادیوں پر قہر برپا کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بولان سمیت پورے بلوچستان میں جاری پاکستان کے فوجی آپریشنوں اورانسانی حقوق کی سنگین صورت حال کا نوٹس لیں۔ ذمہ دار عالمی اداروں کی خاموشی سے بلوچستان میں مکمل طورپر ایک انسانی المیہ جنم پا چکا ہے، یہاں انسانیت سسک رہا ہے۔ بلوچستان میں انسانیت کے خلاف جرائم پر پاکستان کے خلاف ا قدام نہ اٹھانا عالمی ضمیر کے لئے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔