گزین “شہید ڈاکٹر شعیب” اپنے منزل تک پہنچ گیا ۔ عابد بلوچ

171

گزین “شہید ڈاکٹر شعیب” اپنے منزل تک پہنچ گیا

عابد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

گزین کون تھا؟ گزین شعیب تھا، وہ تو ایک ڈاکٹر بن رہا تھا، پھر آخر کیا بنا؟ تاریخ سے پوچھو؟ تاریخ بتائے گی کہ شعیب تو گزین بن گیا، پھر سرزمین کے عشق اور شہداء کے محبت میں قربان ہوگیا، انتہائی خاموش مزاج کا یہ نوجوان کیسے اتنے بلندی تک پہنچ سکتا ہے؟

ایک ہی راز ہے اس کامیابی کے پیچھے، وہ ہے اپنے وطن سے عشق۔ اسی عشق نے کتنوں کو نامور بنایا، انسان کبھی زندہ نہیں رہ سکتا لیکن اسے ہمیشہ زندہ رہنے کیلئے اپنی زندگی سے ہوکر گذرنا پڑے گا، گزین تو زندہ ہے، وہ ہمیشہ زندہ ہے، وہ میرے ساتھ ہے۔

کون کہتا ہے گزین مر گیا، مٹ گیا، آؤ چلتے ہیں قلات کے اس پہاڑی کے دامن میں جہاں شہید امیرالملک کا آرام گاہ ہے، امیر الملک بھی زندہ ہے، گزین تو امیرالملک سے ملنے گیا ہے۔ وہ زندہ ہے، شور کے پہاڑ پر چڑھ کر دیکھیں شہداء کے قدموں کے نشان دکھتے ہیں۔ گزین تو اپنے شہداء کے قدموں کے نشان چومنے گیا تھا، کونسے شہداء ؟ وہی شہداء جو موت تک عشق وطن کا دامن نہیں چھوڑیں، پھر انہیں موت کیسے آتی ہے، وہ تو زندہ ہے. جی ہاں شہید حق نواز زندہ ہے، شہید حئی زندہ ہے، شہید جاوید زندہ ہے، سارے شہداء زندہ ہیں۔

چلو شور پارود کے پہاڑ سے پوچھتے ہیں، کل تیرے دامن میں کس کے لاش پڑے تھے؟ جو گولیوں سے چھلنی کردی گئیں تھیں، پتھروں پر گرا کس کا لاش تها؟ وہ تو گزین کا لاش تھا، وہ تو گزین کے ہمسفروں کی لاشیں تھیں، وہ تو صرف تین جسم تھے لیکن ان کا جسم آخر کیوں فتح کا نشان بنائے ہوئے تھے، کیونکہ وہ زندہ ہیں اور ہمیشہ کیلئے زندہ رہیں گے. جی ہاں! میرا یار، میرا ہمسفر گزین زندہ ہے. اس نے کل صرف دشمن سے مقابلہ کیا تھا، اس کا جسم شور پارود میں رہ گیا. اس کا روح آج بھی میرے ساتھ ہے. ہمارا رشتہ تو قومی، فکری، نظریاتی ہے. اس کو تو موت نہیں توڑ سکتا، اس چیز کو موت فنا نہیں کرسکتا، بھلا کوئی ایسی شے دنیا میں ہوگا، جو اس رشتے کو توڑ سکے؟ نہیں نہیں ہر گز نہیں…. گزین تو میرے ساتھ ہے، میں اس سے شعیب کے بجائے گزین کے نام سے پکار کر مخاطب ہوتا ہوں۔ شعیب کا نام تو اس کےگھر والوں نے رکھا، پھراُس نے اپنے اس سفر میں خود کو گزین کا نام دیا، آخری سفر بھی ایسا کہ دونوں نام سے ہمیشہ یاد کیا جاتا ہے۔ پھر وہ تو زندہ ہے، وہ آج بھی کل کی طرح مجھ سے محو گفتگو ہے. وہ آج بھی کہہ رہا ہے ہمیں وطن کا حق ادا کرنا ہے. یہ ایک فرض ہے، اسے ہر حالت میں ادا کرنا ہے. میں تو آج بھی اپنے یار گزین سے اس بات پر تکرار کررہا ہوں کہ میں اپنے آواز سے وطن کا دفاع کروں گا، اپنے نوجوانوں کیلئے شہداء کا گیت گاؤں گا، وطن سے عشق کا درس دوں گا، ہم کتاب و قلم سے دشمن کو شکست دیں گے۔ پھر کیوں میرا یار مجھ سے تکرار کررہا ہے کہ دشمن ہمارے آواز کا جواب آواز سے نہیں بلکہ گولی سے دے رہا ہے، دشمن ہمارے الفاظ کا جواب ٹارچر سیل کے اذیت سے دے رہا ہے، دشمن ایک غیر مہذب ہے، وہ انسانیت کو نہیں جانتا۔ اس نے ہمارے کتنے لیڈرز کے الفاظ کے جواب گولی سے دیا۔ وہ صرف بولتے تھے، لکھتے تھے، پھر دشمن نے کیوں نہیں بولا ؟ کیوں نہیں لکھا؟ آخر دشمن کو بولنے کیلئے الفاظ کہاں سے ملیں گے، وہ تو ایک قبضہ گیر ہے، وہ تو بزور شمشیر ہمارے اوپر حکمرانی کررہا ہے۔

پتہ نہیں میرے یار گزین کو کس نے بتایا تھا کہ اس دشمن سے صرف گولی سے بات کی جاتی ہے، اسے اپنے لہو سے شکست دیں گے، پھر اسی سوچ نے میرے گزین کو مجھ سے ایک سال تک دور کردیا، وہ کہاں ہے؟ کیاں کررہا ہے؟ کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا۔ پهر میری جاہلیت، میرا گمان اس جانب لے گیا کہ اب میرا یار گزین وطن کے عشق میں کمزور پڑا، اب شاید وہ عشق نہیں جس کا مظاہرہ ہم نے طالب علمی کے زمانے میں کیا تھا، پھر گزین تو ابھی تک طالب علم تھا، وہ تو ڈاکٹر بن رہا تھا، پھر خاموشی چھا گئی….. گزین کا کچھ اتا پتا نہیں۔

کس کو پتہ تھا کہ ماں نے اسے رخصت کیا ہے، اس کے ماتھے پر بوسہ دیکر وطن کا سپاہی بنایا ہے، وطن کا سرمچار بن گیا ہے، سرمچار تو ہر وقت دشمن کے تاک میں بیٹھے رہتے ہیں، کب دشمن کے ناپاک قدم اس کے سرزمین پر پڑیں اور وہ اسے توڑ دے۔ پھر میرا یار گزین بھی دشمن کے تاک میں بیٹھا ہوگا، دشمن کو دیکھ کر اس پر وار کیا ہوگا، پھر جوانمردی سے مقابلہ کیاہوگا، آخری گولی تک دشمن کو جواب دیتا رہا، پھر اپنے وطن پر جان فدا کرگیا۔ اس کا پاک جسم تو دشمن کے تحویل میں چلا گیا، پھر آج مجهے اس کے ساتھ دیوان کرنا پڑا، میں نے اپنے یار سے کہا، “گزین یار آپ تو اپنے منزل تک پہنچ گئے۔”


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔