کوئٹہ: پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج

70

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج کو 3595 دن مکمل ہوگئے۔ سندھ کے علاقے شہداد کوٹ سے جسقم رہنما شاہنواز کھوسو، سرفراز علی، شہزاد احمد اور الطاف حسین نے کیمپ کا دورہ کرکے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی جبکہ اس موقعے پر لاپتہ افراد نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ میں اس وقت حالات کی سنگینی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ظلم اور جبر میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پاکستانی ریاست بلوچ، سندھی اور پشتون نسل کشی کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار نظر آتا ہے جبکہ پارلیمانی پارٹیاں اپنے مفادات کی خاطر لاپتہ افراد کے زندگیوں کا سودا کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے ہیں، لاپتہ افراد، مسخ شدہ لاشیں ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لوگوں کے گھروں پر بمباری، خواتین و بچوں کا اغوا اور ان کی بے حرمتی پارلیمنٹ میں بیٹھے افراد کو نظر نہیں آتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان ممیں پاکستانی میڈیا بالکل بلیک آوٹ ہے، ایسی پالیسی لائی گئی ہے کہ بلوچستان کے مسائل کو اجاگر کرنے کو شجر ممنوعہ کرار دیا گیا ہے۔ پاکستانی میڈیا کے سارے اینکر، صحافی اور نام نہاد دانشور ریاست کی پالیسی پر گامزن نظر آتے ہیں اور اگر بلوچستان کے مسئلے پر بات کی جاتی ہے تو لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے ان مسائل کو کچھ اور رنگ دے کر پیش کیا جاتا ہے۔