کوئٹہ: لاپتہ افراد کے لواحقین کا کیمپ 3593 ویں دن بھی جاری رہا

28

پاکستان بلوچستان میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کا مرتکب ہے۔

بلوچستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کوئٹہ پریس کلب سامنے قائم لاپتہ افراد کے لواحقین کے کیمپ کو 3593 دن مکمل ہوگئے مختلف مکاتب فکر و سیاسی کارکنوں نے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی –

کیمپ آئے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ پاکستانی ایجنسیاں اور حکمرانوں کے مظالم اور حرکات کو باریک بینی سے پرکھا جائے تو آسانی سے پتا چل جاتا ہے کہ پاکستانی ادارے جنیوا کنونشن کے قواعد و ضوابط کی کتنی پاسداری کررہے ہیں بلکل واضح طور دیکھا جاسکتا ہے کہ ریاستی ایجنسیاں کھلے عام اپنی سنگین جرم کا اعتراف فخر سے کرتے ہیں –

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ریاستی ادارے لوگوں کو اٹھا کر بدترین تشدد کرکے جسموں کو چیر کر اپنے درندگی کا ثبوت دیتے ہیں اور اس تشدد سے نوجوانوں کو کی شہادت ہوجاتی ہے اور پھر ان کی لاشوں کو بھی مسخ کردیا جاتا ہے ان انسانی حقوق کی پالیسیوں کے خلاف ورزی پر دنیا کے انسانی حقوق کے اداروں کی حق بنتی ہے کے وہ ریاست کے مظالم پر آگے آکر پاکستان کو روکے –

ماما قدیر بلوچ مزید کہا ہے کنونشن کی دفعہ36 طبعی امداد کی گاڑیوں اور ہوائی جہازوں پر زخمیوں اور بیماریوں کی نقل و حمل حفاظت اور ضمانت فراہم کرتی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستانی خفیہ ایجنسیاں ان گاڑیوں میں بلوچ نوجوانوں کو اٹھا کر ٹاچر سیلوں میں تشدد کے بعد مسخ لاش پھینک کر سرے عام جنیوا کنونشن کے خلاف ورزی کرتے پھرتے ہیں-