کوئٹہ: لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج جاری

48

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ 3594 دن مکمل ہوگئے۔ ڈیرہ غازی خان سے سیاسی و سماجی کارکن اللہ رکھیا بلوچ، محمد نواز بلوچ و دیگر نے کیمپ کا دورہ کرکے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان وسیع پیمانے پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے عام آبادیوں کو نشانہ بنارہا ہے جس کی زد میں بلوچستان کے مکران، ساراوان، کوہلو ڈیرہ بگٹی سمیت دیگر علاقے ہیں۔ پاکستانی فورسز روزانہ کی بنیاد پر فوجی آپریشن کررہے ہیں جس کے دوران متعدد افراد کو نشانہ بناکر خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے پھر جھوٹ کا سہارا لیکر قتل کیئے گئے افراد کو مزاحمتکار کا نام دیکر دکھایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تمام عالمی قوانین پاوں تلے روند رکھا ہے۔ بلوچستان پر پاکستان کی جنگ غیر قانونی اور ناجائز ہے۔ ہماری جدوجہد قانون اور انصاف پر مبنی ہے۔عالمی اداروں کی فرض بنتی ہے کہ عالمی قوانین کے تحت پاکستان کی جانب سے بلوچستان میں جاری خونی کھیل کو رکھنے میں کردار ادا کریں۔