کوئٹہ: دوران احتجاج لاپتہ امتیاز احمد کی والدہ بے ہوش

70

لاپتہ امتیاز احمد کی والدہ کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے ۔

دی بلوچستان پوسٹ نمائندہ کوئٹہ کے مطابق کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج میں شامل لاپتہ امتیاز احمد کی والدہ بے ہوش ہوگئی۔

امتیاز احمد کی والدہ کو طبی امداد کے لیے کوئٹہ پریس کلب سے ہسپتال منتقل کردیا گیاہے ۔

یاد رہے امتیاز احمد کو گذشتہ سال لاپتہ کیا گیا تھا، امتیاز احمد کی بھتیجی عالیہ بلوچ کا گذشتہ مہینے اس حوالے سے پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ امتیاز احمد لہڑی کو 9 جون 2018 کو سریاب روڈ طارق اسکول کے سامنے سے ایف سی اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں دن دھاڑے اٹھاکر لے گئے جبکہ امتیاز احمد اسکول وین ڈرائیور تھا۔

اپنے پریس کانفرنس میں عالیہ بلوچ کا کہنا تھا کہ امتیاز کی والدہ ماری ماری پھرتی ہے، مایوسی کے راج میں امید اور حوصلے کے سہارے جی رہی ہے کہ ایک دن امتیاز کو واپس لاوں گی۔ اقوام عالم تک ہماری آواز پہنچتی ہے لیکن پاکستان کے اداروں کے دلوں پر مہر لگ چکے ہیں۔

امتیاز احمد کی بھی والدہ دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین طرح روزانہ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج میں شریک ہوتی ہے۔