پی ٹی ایم کے کارکنان پر حملے پر مہران مری کا شدید رد عمل

137

دی بلوچستان پوسٹ سوشل میڈیا رپورٹر کے مطابق بلوچ قوم پرست رہنماء نواب خیر بخش مری کے صاحبزادے نواب مہران مری کی جانب سے پی ٹی ایم کے کارکنان پر فورسز کی جانب سے حملے پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ پی ٹی ایم کے پرامن پشتون مظاہرین پر فوج کی جانب سے فائرنگ کی گئی اور پی ٹی ایم رہنماوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم بلوچ تو پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ پاکستان میں یا تو فوج رہ سکتی ہے یا پھر پاکستان دونوں ایک ساتھ نہیں رہے سکتیں۔

واضح رہے پی ٹی ایم کارکنان پر وزیرستان میں فائرنگ کا واقعہ گذشتہ روز اتوار کو پیش آتا تھا جس میں آخری اطلاعات تک پی ٹی ایم کے تین کارکنان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبحق ہوئے تھے جبکہ پی ٹی ایم کے رہنماء علی وزیر کو دیگر کارکنان کے ہمراہ حراست میں لیا گیا۔

دوسری جانب پاکستان فوج کے تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے واقعے کے حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے الزام لگایا گیا کہ محسن داوڑ اور علی وزیر کے سربراہ میں مذکورہ افراد نے فورسز کے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کرکے گرفتار دہشت گرد کو بازیاب کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اس دوران فورسز کے پانچ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر کے ان الزام کو پی ٹی ایم قیادت اور سماجی حلقوں کی جانب سے رد کیا جاچکا ہے۔