وطن کے فدائین – میرک بلوچ

111

وطن کے فدائین

میرک بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تاریخ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جب کسی بالادست، جابر و ظالم ریاست نے اپنی خودغرضانہ مفادات کیلئے کسی کمزور و نہتے کی سرزمین پر قبضہ کیا تو اس مظلوم و محکوم قوم نے اپنی تمام تر دستیاب وسائل کو بروئے کار لاکر قبضہ گیر کو اپنی دھرتی سے نکالنے کے لیے یا بھگانے کے لئے کبھی طویل کبھی مختصر جدوجہد کے ذریعے قبضہ گیر کو شکست سے دوچار کردیا۔ قبضہ گیر کا ایک عجیب نفسیات ہوتا ہے کہ وہ طاقت و جبرویت کے ذریعے مغرور و خود سر ہوجاتا ہے۔ اس کی نفسیات میں یہ بھی ہے کہ وہ مظلوم و محکوم کو حقیر و جاہل قرار دیکر خود کو مہذب اور شائستہ تہذیب یافتہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا یہ اسرار ہوتا ہے کہ وہ اس حقیر و جاہل قوم کی ترقی و خوشحالی چاہتا ہے، جب قبضہ گیر اپنی تمام تر چالاکیوں کے باوجود مظلوم و محکوم کو زہر نہیں کرسکتا تو جارحیت اور تشدد کو تیز کرتا ہے، مظلوم و محکوم بھی اپنی آزادی کیلئے مکار دشمن پر بھرپور حملہ کرکے مزاحمت شروع کرتی ہے۔ تو قبضہ گیر انھیں مٹھی بھر شرپسند، دہشت گرد، امن دشمن قرار دیکر یہ کہتا ہے کہ ان چند شرپسندوں کو کسی کی حمایت حاصل نہیں۔ اکثریتی عوام امن پسند ہیں اور ہمارے ساتھ ہیں ۔قبضہ گیر کچھ مقامی لالچی خود غرض دانشوروں اور سیاستدانوں کا ضمیر خرید کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اچھے لوگ ہمارے ساتھ ہیں جو ترقی و خوشحالی چاہتے ہیں۔

پاکستانی ریاست اور اس کے حکمران بھی مسلسل یہی راگ الاپتے آرہے ہیں اور ان کے زرخرید اپنے مظلوم قوم سے دغا بازی کرکے پاکستانی ریاست کے ہمنوا بنے ہوئے ہیں۔ لیکن بلوچ قومی آزادی کی جاری تحریک نے اپنی جہد مسلسل کی بدولت ان سارے ہتھکنڈوں کو ناکام بناکر دنیا کے سامنے قبضہ گیر ریاست کو بے نقاب کردیا ہے۔ اور یہ ثابت کردیا ہے کہ پاکستانی ریاست بلوچستان پر غیر قانونی، ناجائز اور تمام بین الاقوامی قوانین کو روند کر قابض ہے۔

بلوچ قومی آزادی سے وابسطہ سرمچاروں نے تحریک کو ایک نئی سمت دی ہے۔ اور وہ ہے جنرل اسلم شہید کی شاندار حکمت عملی مجید برگیڈ کے عظیم فدائین نے قابض ریاست اور توسیع پسند چائنا کے ہوش اڑا دیئے ہیں۔ یہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ ایسا بھی ہوگا۔ ہر قابض کی طرح پاکستانی قبضہ گیر جدوجہد آزادی کے جذبوں کو سمجھنے سے قاصر ثابت ہوا۔ ہر قبضہ گیر کی طرح پاکستانی قبضہ گیر بھی اپنی طاقت کی نشے میں چور تھا۔ ہر قبضہ گیر کی طرح پاکستانی قبضہ گیر بھی اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ چند مفاد پرست وطن فروش بلوچ سیاستدانوں اور دانشوروں کو اپنے ساتھ ملاکر اپنے مفادات کو سر انجام دیگا۔ ہر قبضہ گیر کی طرح پاکستانی قبضہ گیر بھی اپنی سازشوں اور ہتھکنڈوں کو کامیاب سمجھ رہا تھا۔

فدائیان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ انہیں اپنے عمل پر بھرپور بھروسہ ہوتا ہے کہ وہ ایک عظیم مقصد کے لیئے اپنی قیمتی شے، اپنی قوم وطن اور آئندہ آنیوالی نسلوں کے لئے نچھاور کررہے ہیں۔ انھیں اپنے نظریات پر پختہ یقین ہوتا ہے۔

جدید تاریخ میں ہمیں فدائین حملہ 1947ء میں جاپانی ایئر فورس کے ہوا بازوں کے حملوں میں ملتا ہے۔ جاپانی ایئر فورس کے ان فدائیان نے دوسری جنگ عظیم میں ایک تاریخ رقم کردی۔

1940ء کی دہائی میں دوران جنگ امریکی نیول بیس واقع پرل ہاربر ان جاپانی فدائیان نے اپنی بمبار طیاروں سمیت امریکی بیس پر گراکر پرل ہاربر کے نیول بیس کو نیست و نابود کر دیا۔ اس کے علاوہ بھی دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے ان ہوابازوں کے فدائی حملے جاری رہے۔
ویتنام جنگ کے دوران ویتنامی سرمچاروں کا فدائین دستہ جذبہ حب الوطنی کے ساتھ جاری رہا۔ 1950ء 1960ء تا 1970ء کی دہائیوں میں جنرل گیاب کی تشکیل دیئے ان فدائیان نے اپنی قوم و وطن کے لئے خود کو فدا کرکے ویتنام اور ویتنامی قوم کو آزادی کی عظیم نعمت عطا کی۔

مظلوم فلسطین کی تحریک آزادی بھی فدائیان کی قربانی سے عبارت ہے۔ پاپولر فرنٹ آف فلسطین( جارج جبش ) کے فدائی حملوں نے 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں عروج حاصل کی اور ساری دنیا نے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں بھرپور مظاہرے کیئے۔

کیوبن انقلابی جدوجہد کے دوران عظیم چے گویرا نے فدائیان دستے تشکیل دیئے اور سب سے پہلے اپنا نام پیش کیا لیکن دوسرے تمام فدائین نے چے گویرا سے کہا کہ ہم سب پہلے جائینگے ہم سب کے بعد آخر میں آپ کا نام ہوگا۔ بہر حال کیوبا کے ان فدائین نے بھی عظیم تاریخ رقم کی۔

لاطینی امریکہ کے کی تمام تحریکوں میں فدائین کا کردار نمایاں رہا۔ اور یورپ میں اسپین سے اپنی وطن کی آزادی کے لئے باسک تحریک جسے باسک اینڈ لبرٹی بھی کہا جاتا ہے کہ فدائین نے اسپین کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ اسی طرح شمالی آئرلینڈ کی تحریک میں فدائین نے برطانوی ریاستی جبر کو ساری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔

بلوچ فدائین نے توسیع پسند چائنا اور قبضہ گیر ریاست پاکستان کی مکاریوں کو بھی دنیا کے سامنے طشت از بام کیا ہے۔ کیونکہ جب کسی قوم کے جانثار اپنے فدائی حملوں سے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں تو عالمی برادری کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے کہ ان مظلوموں کے ساتھ ظالم نے بے پناہ ظلم کیا ہے، تب ہی یہ مظلوم اپنے لہو کا نذرانہ دیکر ہمیں متوجہ کررہے ہیں کہ آو ہماری آواز سنو اور ظالم مکار کو لگام دو اور اسے ہماری سرزمین سے نکالنے کے لیے ہماری مدد کرو۔

بلوچ سرمچاروں کے مجید برگیڈ کے عظیم فدائیان نے PC ہوٹل گوادر جو کہ پاکستانی فوجی انٹیلیجنس اور چائنا کے فوجی مشیروں کا گڑھ تھا، اس پر حملہ کرکے ساری دنیا تک اپنا پیغام پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔

ان نونہالوں نے اپنا عظیم قومی فرض ادا کیا۔ اور توسیع پسند چائنا کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستانی قبضہ گیر کے ساتھ دنیا کی کوئی بھی طاقتور ملک بلوچ گل زمین پر آنے کی کوشش کرے گا اسکا یہی انجام ہوگا۔ اور پاکستانی جابر ریاست کو بھی یہ واضح پیغام دیا ہے کہ خواہ وہ کتنے بھی پاپڑ بیلیں بلوچ گل زمین سے اسے اپنا بوریا بستر لپیٹ کر نکلنا ہوگا۔ اور بلوچ وطن کی مکمل آزادی تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔