نوشکی: بدامنی، چوری ڈکیتی کے خلاف احتجاج

29

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام میر گل خان نصیر چوک پر بد امنی چوری ڈکیتی و دیگر مسائل کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

مظاہرے سے بی این پی کے ضلعی صدر عطاءاللہ مینگل، مرکزی کمیٹی کے رکن میر خورشید جمالدینی، نزیر بلوچ، میر ثناءاللہ جمالدینی، حمید بلوچ و دیگر نے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی ایک جمہوری سیاسی پارٹی ہے اور جمہوری طرز سیاست پر یقین رکھتے ہوئے پر امن انداز میں عوام کی حقوق کے لئے جد جہد کر رہی ہے مگر افسوس اس بات کی ہے کہ جب پارٹی نے نوشکی کے عوام کو درپیش مسائل کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کو یاداشت پیش کرنا چاہا تو یہ عمل نازک مزاج آفیسران کو برا لگا اور پارٹی کے ضلعی و مرکزی عہدیداروں سے یاداشت کی وصولی سے انکار کرتے ہوئے پارٹی عہدیداروں کو دفتر سے نکال دیا بعد ازاں پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے اپنی کمزوریوں کو چھپانے اور عوام کے جذبات سے کھیلتے ہوئے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے بلوچستان نیشنل پارٹی کو شر پسند عناصر کا ٹولہ قرار دیا۔ یہاں عجیب بات ہے کہ شر پسند عناصر قرار دیئے گئے ٹولے کا سربراہ سردار اختر مینگل قومی اسمبلی کا ممبر ہے۔

مقررین نے کہا کہ آج عوام خود فیصلہ کریں کہ نوشکی میں چوری ڈکیتی کے حوالے سے جو دعوے کیئے گئے کیا وہ حقیقت پر مبنی ہے یا بی این پی فوبیا میں سب کچھ کو بہتر کہا جارہا ہے۔ دوسروں کو بلیک میلر کہنے والوں کے بھتہ خوری سے ہر ذی شعور واقف ہے۔

مقررین نے کہا کہ آج نوشکی کے نواحی علاقوں میں بجلی کی فراہمی میں کمی ہے، سیلاب سے متاثرین کی بحالی کے لئے کچھ نہیں کیا جارہا ہے۔ چوروں اور ڈاکووں کے خلاف بات کرنا اب تو جرم عظیم قرار پایا ہے۔

مقررین نے کہا کہ عوام با شعور ہے انہیں عملی اقدامات کرنے والوں اور خالی خولی دعویداروں کی پہچان ہے۔ بی این پی عوام کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چوڑے گی جبکہ کل کے پریس کانفرنس میں اعلانیہ طور پر مسائل کے لئے آواز بلند کرنے والوں کی ہڈیاں توڑنے کی جو دھمکی دی گئی ہے اس کے بعد اگر پارٹی کے کسی دوست کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری دھمکی دینے والوں پر عاہد ہو گی، بی این پی اپنے ورکروں اور عوام کی حفاظت بخوبی جانتی ہے۔

مقررین نے مطالبہ کیا کہ حکام بالا ایسے دھمکی دینے والوں کے خلاف کارواہی کرتے ہوئے انھیں فوری طور ٹرانسفر کرے بصورت دیگر بی این پی جمہوری انداز میں اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

یاد رہے گذشتہ روز ڈی سی نوشکی عبدالرزاق بلوچ نے ایسی پی خالد باقی کے ہمراہ نوشکی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ مفاد پرست لوگ ڈی سی آفس آتے ہیں بعد میں چوک پر اسٹیج سجاتے ہیں، کوئی پریشر گروپ اور مفاد پرست ٹولہ ہمارا مورال کم نہیں کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا نوشکی پولیس کے خلاف آئے روز ایک مسئلے پر لب کشائی کرنا ان افراد کے ذاتی مفادات ہے۔ پولیس عوام کا خادم ہے ڈیڑھ لاکھ کے آبادی کو مفاد پرست ٹولے کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ عوام ان چھ لوگوں کے بہکاوے میں نہیں آئے جو انہیں اپنے اداروں کے خلاف گمراہ کررہے ہیں۔

انہوں کا مزید کہنا تھا کہ قانون تھوڑنے والے کی ہڈی توڑ دی جائیگی۔