صدیوں میں جنم لینے والا بیٹا شہید طارق کریم – الیاس بلوچ

147

صدیوں میں جنم لینے والا بیٹا شہید طارق کریم

الیاس بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

دنیامیں پیداہونے والا ہر انسان اپنا ایک مقصد رکھتا ہے، جس کو حاصل کرنے کیلئے وہ پوری زندگی جدوجہد کرتا رہتا ہے لیکن کچھ عظیم لوگوں کی زندگی کا مقصد ہمیشہ اجتماعی اور قومی ہوتاہے۔ جو صبح ، شام اور دن ، رات اسی مقصد کو پانے کیلئے جدوجہد کرتے ہیں۔ اور اپنی منزل اور اجتماعی مفادات کی خاطر کسی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف قوم اور اپنے لوگوں کیلئے جدوجہد کرنا ہوتا ہے اور تادم مرگ اپنے قومی فرض کو سرانجام دیتے ہوئے جان سے گذر جاتے ہیں۔

بلوچ قوم کی تاریخ ایسے ہزاروں فرزندان سے بھراپڑاہے جنہوں نے اپنی جان بلوچ قومی بقاء کیلئے قربان کی، ہزاروں ماؤں نے اپنے لخت جگر سرزمین کی آزادی کیلئے وقف کیئے اور آج بھی ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزندان قابض پاکستانی فوج کے زندانوں میں قید و بند، تکلیف و اذیت برداشت کر رہے ہیں۔

بلوچ دھرتی ماں کی آزادی کیلئے ہزاروں قربان ہونے والوں میں ایک شہید طارق جان ہے، جس نے اپنا نام بھی انہی وطن زادوں میں شامل کر لیا ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے انفرادی مقصد کو بلوچ قوم کی اجتماعی مقصد کیلئے قربان کرتا تھا، اُس سے میں ایک بات ہمیشہ سے سنتا کہ قوم سے زیادہ کچھ نہیں، دھرتی ماں کی آزادی کیلئے قربانی ہرحال میں دینا ہے تاکہ اپنے دھرتی کو اس قابض اور جابر سے آزاد کرا سکیں، آج بلوچ سرزمین ہم سے خون کا تقاضہ کررہا ہے، اگر آج ہم نے مصلحت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ذاتی زندگی کی خاطر بلوچ قومی آزادی کے پروگرام سے دستبردار ہوئے تو تاریخ میں ہم مجرم قرار دیئے جائیں گے۔ اپنے دھرتی ماں اور اپنے گل زمین کے غدار ٹہرائے جائیں گے اور آنے والی نسلیں ہم پر لعنت بھیجیں گے، ہمیں قابض کے ظلم کے آگے جھکنے سے مرنا سیکھنا چاہیے۔

بلوچستان کے اس عظیم بیٹے کو اپنے دھرتی ماں کا ہمیشہ درد رہتا تھا، وہ اپنے مظلوم قوم کے بھلائی اور قومی تشخص کیلئے قربان ہونے کو سکھاتاتھا اور سمجھاتے سکھاتے خود شاہراہ ء آزادی پہ قربان ہوکر ہمیشہ کیلئے تاریخ کا حصہ بن گیا۔

آج بھی بسیمہ کی خاموشی اور سنسان راہیں طارق جان کو یاد کرتے ہیں اور دعاکرتے ہیں کہ اک بار پھر سے طارق جان آئے اور انہی خاموش راہوں کی خاموشی توڑ دے اور وہاں پھر سے آزاد بلوچستان کا پرچم لہرائے اور دنیا کو یہ باور کرائیں کہ آج بھی اس سرزمیں کیلئے ہزاروں فرزند قربان ہونے کو تیار ہیں۔

گیارہ مئی بہت ہی ظالم اور سیاہ ترین دن کی حیثیت سے مانا جاتاہے، ہمیشہ یہی دعا رہتاہے کہ یہ دن کبھی نہ آئے۔ آج شہید طارق جان کی شہادت کے دن کی مناسبت سے ہم اس کی قربانیوں کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں، دھرتی ماں کے ایسے عظیم سپوت صدیوں میں جنم لیتے ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔