سیاسی کارکنان کو آئینی و جمہوری حقوق مانگنے کی پاداش میں اذیتیں دی جارہی ہے – غلام نبی مری 

30
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری نے اپنے ایک بیان میں ڈی سی نوشکی کی جانب سے پارٹی کے رہنماوں کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کرنے، بی ڈی اے ملازمین کو مستقل نہ کرنے اور تنخواہوں کی بندش، ہرنائی سے پارٹی کے متحرک فعال ساتھی، ضلعی لیبر سیکرٹری ہینگل مری کی اغواء نما گرفتاری اور گذشتہ رات کلی کمالو سریاب میں سرچ آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بی این پی کے کارکنوں امین اللہ، حاجی عبدالغفار مینگل و دیگر کے گھروں پر چھاپے اور گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں اور انتظامیہ کا آج بھی یہ کوشش اور روش ہے کہ عوامی مسائل اور اجتماعی حقوق پر چشم پوشی اختیار کرکے انہیں نظر انداز کیا جائے اور کوئی ان کے خامیوں کرپشن، کمیشن، کمزوریوں اور نا اہلیوں پر لب کشائی نہ کرے۔ عوامی مسائل اور بنیادی حقوق کا روز اول سے لے کر آج تک نظر انداز کرکے پامال کیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں آج سماج، معاشرہ اور عوام گھمبیر مسائل و مشکلات کی لپیٹ میں بحرانی کیفیت سے دوچار ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار اور دیگر حکومتی و انتظامی منصب پر فائز ہر ایک کا یہ خواہش ہوتا ہے کہ تمام مراعات، پروٹوکول، اختیارات کو اپنے پاس رکھ کر عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا جائے اسی روش نے آج عوام اور شہریوں کی اکثریت، حکومتی پالیسیوں سے نالا و لاتعلق اور احساس بیگانگی، مایوسی کے شکار اور عوام کی اکثریتی خاموشی مایوسی، لاتعلقی کے شکار پر مبنی بننے والا لاوا کسی بھی بڑے سانحہ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ناعاقبت اندیش حکمران اور با اختیار قوتوں کو عوام کی درد اور دکھ کو دور کرنے اور بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی کے سلسلے میں کوئی احساس نہیں ہورہا ہے ۔ انہیں صرف اس اقلیتی مراعات یافتہ لوگوں کی مفادات کی تحفظ کا فکر ہے جنہوں نے گذشتہ 70 سالوں سے غریب شہریوں کے بنیادی اور عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈال کر رکھا ہے اور وہ حقیقی بنیادی ایشوز کو حل کرنے پر کوئی دلچسپی اور ہمدردی نہیں رکھتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ آج 21 ویں صدی جو کہ ترقی، خوشحالی، شعور و علم کے دور میں اپنے شہریوں کو زیادہ دیر تک بنیادی حقوق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا ۔ آج دنیا کی وہ قومیں کامیابی، ترقی و خوشحالی کی وہ منازل طے کرتے چلے آرہے ہیں جنہوں نے اپنے عوام کو تمام بنیادی سہولیات زندگی کی فراہمی ان کی گھروں کی دہلیز تک پہنچا کر اپنے حکومتی فرائض کو ایمانداری، خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے چلے آرہے ہیں لیکن یہاں تو عوامی مسائل کو سننے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے جس کی واضح مثال گذشتہ دنوں جب پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر میر خورشید احمد جمالدینی، ضلعی صدر میر عطاء اللہ مینگل ، جنرل سیکرٹری حمید گل اور پارٹی کے سینئر ساتھی میر ثناء اللہ جمالدینی ضلع نوشکی میں بڑھتی ہوئی امن وامان کی ابتر صورتحال کے سلسلے میں ضلعی سربراہ ڈی سی سے ملاقات کے لئے ان کے پاس گئے اور ان کی توجہ ضلع میں خراب امن وامان کی صورتحال کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کرائی گئی تو اس دوران ڈی سی نے پارٹی رہنماوں کو سننے کی بجائے ہتک آمیز رویہ اختیار کرکے یہ ثابت کیا کہ انہیں ضلع میں لوگوں کو درپیش مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے جبکہ بی ڈی اے کے 7 سو 72 ملازمین گذشتہ 15 سالوں سے عارضی بنیادوں پر کام کرتے ہوئے اپنے خدمات سرانجام دے رہے ہیں اس دوران وہ اوور ایج بھی ہوگئے ہیں اور انہیں مستقل نہیں کیا جارہا ہے بلکہ ان کی تنخواہیں گذشتہ کئی مہینوں سے بند ہے جس کے باعث وہ آج اپنے بنیادی مطالبے کے سلسلے میں تادم مرگ بھوک ہڑتال کررہے ہیں جس میں بہت سے ملازمین کی حالت تشویشناک ہیں لیکن حکمرانوں کو بی ڈی اے ملازمین کی تکلیف اور پریشانی سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی اس نام نہاد جمہوری دور حکومت میں سیاسی کارکنوں کو محض اپنے بنیادی آئینی اور جمہوری حقوق طلب کرنے کی پاداش میں گرفتار کرکے اذیتیں اور ذہنی کیفیت سے دوچار کیا جارہا ہے اگر سیاسی کارکن پر کوئی بھی کیس ہو تو ملکی قوانین کے تحت انہیں گرفتار کرکے عدالتوں میں پیش کیا جائے ان پر سیاسی اور جمہوری انداز میں جدوجہد کرنے کی دروازیں بند کرنے، دیوار سے لگانے اور انتقامی کارروائیوں سے یہاں سیاسی بحران جنم لے سکتا ہے۔ بی این پی یہاں کے عوام کی ایک ذمہ دار عوامی نمائندہ جماعت کی حیثیت سے عوام کے خلاف روا رکھے گئے نا انصافیوں پر کسی بھی صورت میں خاموشی اختیار نہیں کرے گی اور ہر فورم پر سیاسی اور جمہوری انداز میں آواز بلند کرتے ہوئے حکمرانوں کی غلط و ناروا پالیسیوں پر عوام کو تنہاء نہیں چھوڑے گی ۔