سنگت جمال کی کُچھ یادیں ۔ گزین بلوچ

90

سنگت جمال کی کُچھ یادیں

تحریر۔ گزین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

جب میں اپنے دل و دماغ کو خوابوں میں گم ہونے کے لیئے بند کرتا ہوں، تو میرے خیالوں میں ہمیشہ ایک ہی عظیم انسان اور عظیم کردار کا مالک ایک شخص نظر آتا ہے، جب میں تقریباً 16سال کی عمر میں تھا تو سنگت جمال جان بلوچ وطن کی آزادی کے ایک سپاہی تھے، ان سے میری پہلی ملاقات جب کسی جگہ پر ہوئی تو وہ اپنے چند اور دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے دیکھا سنگت جمال جان نے سب دوستوں سے زیادہ مُجھے پیار دیکر اپنے پاس بُلاکر بیٹھنے کو کہا، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یار یہ تو کتنا انساں دوست بندہ ہے، انہوں نے مُجھ سے کچھ علاقائی حال احوال و پوچھ گچھ کی، پھر مجھے بہت قریب سمجھ کر اپنا سب حال احوال دے دیا۔

دو دن سنگت کے پاس گذارنے کے بعد میں نے ان سے کہا کہ سنگت اب میں جاؤنگا واپس اپنے گھر، تو وہ مُجھ سے مخاطب ہوکر بولے “یار مت جاؤ گھر، یہ پہاڑ ہمارا اور تمھارا گھر ہی تو ہے”۔ پھر وہ بولا “یار یہ سرزمین کی جنگ ہے، اِدھر خون کی ندیاں بہانا پڑیں گی، سرزمین کے فرزند میں اور آپ لوگ ہیں، میرا مقصد بلوچ وطن کی مُکمل آزادی ہے، آزادی کے لیئے ہمیں قربانی دینا ہوگا، کوئی اور ہمارے لیئےآکر جنگ نہی لڑیگا، میں اور تم باقی سب بلوچ دھرتی کے نوجوانواں کو دُشمن سے لڑنا ہوگا۔”

میں نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ آپ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں تو پھر سنگت نے مجھ سے کہا میں آپ سے ایک سوال پوچھتاہوں؟ بلوچ قوم کی نوجوان اکثر بے روز گار ہیں، مزدور ہیں اور بے تعلیم ہیں لیکن کُچھ تعلیم یافتہ بھی ہیں پھر بھی کبھی دُبئی، کبھی مسقط وبحرین یا کسی اور جگہ جاکر روزگار کی تلاش میں کیؤں سرگرداں ہیں؟ میں نے کہا کہ مجھے اس کے جواب کا علم نہیں، تو پھر سنگت نے جواب دیا افسوس ہزار یہ سب بے تعلیمی اور غلامی کی وجہ سے ہے کہ میں ایک عظیم اور مالا مال وطن کا مالک ہوں پھر بھی دُنیا سے بے خبر ہوں، اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ ہمیں غیر فطری ریاست پاکستان نے اپنا ذہنی غلام بنا رکھا ہوا ہے، ہمارے وطن بلوچستان میں کوئلہ، تانبا، سونا، چاندی، تیل و گیس، سنگ مرمر وغیرہ سب کچھ نکلتا ہے لیکن بلوچ پھر بھی ترستا ہے، ایک وقت کی روٹی روٹی میسر نہیں ہوتی۔ بلوچ کی نفسیات کو سمجھ کر ریاست نے ہمیں مختلف شکلوں میں بانٹ دیا ہے، کسی کو مذہب کے نام پر، کسی کو سردار کی شکل میں، کسی کو میر و معتبر اور کسی کو نمازی اور ذکری کی شکل میں بانٹ دیا ہے اور بلوچ قوم کو اپنا ذہنی غلام بنا کر، بلوچ وطن پر اپنا پورا قبضہ جما لیا ہے لیکن ایسے بلوچ ہیں کہ ریاست کے ایسی پروپیگنڈوں اور چالوں کو سمجھ کر ریاست پاکستاں سے بخوبی واقف ہیں اور اس جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکں ہم رہیں یا نہ رہیں، یہ جنگ جاری رہے گی، بس ہر کسی کو اپنے سرزمین کی جنگ میں شامل ہوکر اپنافرض ادا کرنا ہوگا۔

آخر کار سنگت شہید جمال جان عرف “جے کے” نے اپنے وطن کا قرض ادا کردیا اور 3 مئی 2010 کو بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے سوراب میں ایک پٹرول پمپ پر ریاستی ڈیتھ اسکواڈ اور پاکستانی آرمی نے انہیں ایک اور ہمراء کے ساتھ اغواء کرکے غائب کردیا، بعد میں 21 مئی 2010 کو ضلع خضدار میں شہید کی تشدد زدہ لاش ایک ویرانے میں پھینک دی گئی، لاش پانچ روز پرانا تھا۔ بلوچ قوم کے لیئے شہید کی فکر اور شہادت مشعل راہ ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔