زِر پہازگ آپریشن ۔ سامری بلوچ

110

زِر پہازگ آپریشن

سامری بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے زِر پہازگ کی کامیابی پر سب سے پہلے میں بلوچ قوم، بلوچ مسلح تنظیموں، بلوچ سرمچاروں سمیت پوری قوم کو اس پر مبارک بات دیتا ہوں۔ زِر پہازگ ایک بلوچی لفظ ہے اس کی معنی و مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ زِر ساحل یا سمندر کو کہتے ہیں جبکہ پہازگ حفاظت کو کہتے ہیں یعنی کہ سمندر یا ساحل کی حفاظت سے منصوب بلوچ لبریشن آرمی کا حملہ ایک طرف دشمن کی ناکامی اور شکست ہے تو دوسری جانب چین سمیت پوری دنیا کو ایک واضح پیغام ہے کہ بلوچ محافظ یعنی بلوچ سرمچار اپنی سمندر کی حفاظت جانتے ہیں چونکہ گوادر کی سب سے اہم چیز سمندر ہے اس لیئے کارروائی کا نام زرِ پہازگ آپریشن رکھا گیا ہے۔

بلوچ دھرتی کے چار عظیم سپاہی اور سرمچار شہید سنگت کچکول بلوچ، شہید سنگت اسد بلوچ، شہید سنگت منصب بلوچ اور شہید سنگت ھمل بلوچ نے جس بہادری، ہمت، عزمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قابض دشمن کے سارے خوابوں کو چکنا چور کر دیا گوادر جس کو پاکستان دنیا کیلئے ایک پرامن ترین شہر بتانے کی کوشش کرتا تھا، گوادر جہاں دشمن یہ دعویٰ کرتا تھا کہ یہاں فوج کے مرضی و منشاء کے بغیر کوئی پرندہ پر نہیں مار سکتا، وہاں بلوچ لبریشن آرمی کے جانباز سپاہیوں نے داخل ہوکر دشمن کے ستر سے اسی اہلکاروں، سرمایہ کاروں کو مار کر یہ ثابت کر دیا کہ گوادر کسی کا نہیں ہے بلکہ گوادر بلوچستان کا ہے اور گوادر بلوچستان کا ہی رہے گا۔ اگر کوئی بھی طاقت گوادر پر بلوچ قوم کی مرضی و منشاء کے بغیر قابض ہونے کی کوشش کرے گا تو اُس کا سامنے ان ہی جیسے وطن زادوں سے کرنا پڑے گا۔ بلوچستان کی سرزمین کے ان عظیم سپوتوں نے دشمن پر اتنا بڑا حملہ کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بلوچ سرمچار جہاں بھی چاہیں وہاں پر حملہ کر سکتے ہیں۔ بلوچ سرمچاروں کا قلعہ ہے بلوچستان یہاں کوئی بھی ایسا علاقہ قصبہ شہر نہیں ہے جہاں پنجابی قبضہ کر سکیں۔ یہ بلوچ قوم کی سرزمین ہے اور یہاں بلوچ سرمچار جہاں چاہیں وہاں پر حملہ کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔

دھرتی کے ان عظیم سپوتوں نے دشمن پر یہ قہر نازل کرکے دشمن سمیت چین کے سارے خواب مٹا دیئے، چین کو پہلے قابض پاکستان کے بہکاوے میں آیا تھا کہ وہ سی پیک کو پروٹیکشن دے گا لیکن وطن زادوں کے اس عظیم کارروائی نے دشمن کے سارے جھوٹے دعووں کا پول کھول دیا ہے، بلوچ سرمچاروں نے نہ صرف گوادر میں گھس کر دشمن پر حملہ کر دیا بلکہ ہزاروں فوجیوں، ہزاروں کمانڈوز، سمیت ہیلی کاپٹروں اور جنگی طیاروں سے تقریباً چوبیس سے زائد گھنٹوں تک لڑتے ہوئے تاریخ رقم کردی، بلوچ سرمچاروں کی کامیاب زِر پہازگ آپریشن چین کو یہ باور کرانے میں ضرور کامیاب ہوگا کہ یہ وطن بلوچوں کا ہے اور یہاں بلوچ ہی فیصلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، اگر کوئی بھی طاقت سامراجی ریاست بلوچ قوم کی مرضی کے بغیر قابض پاکستان کے ساتھ ملکر بلوچستان پر قبضہ کرنے کی خواہش رکھتا ہے، تو یہ قابض ریاست کی بھول ہوگی کیونکہ بلوچ دھرتی کے عظیم سپوت اپنے دھرتی ماں کی حفاظت کیلئے کسی بھی طرح کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔

کل ہی بلوچ لیڈر و رہبر اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ واجہ ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ نے کہا تھا کہ بلوچ قوم لاوارث نہیں ہے اس کے ساتھ ساتھ چیئرمین سنگت بشیر زیب جو بلوچ لبریشن آرمی کے موجودہ سربراہ ہیں نے اپنے ایک ٹویٹ میں بھی ان خیالات کا اظہار کیا تھا کہ سی پیک سمیت کوئی بھی منصوبہ بلوچ قوم کے مرضی و منشاء کے بغیر پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ بلوچ قومی فوج بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے کامیاب زِر پہازگ آپریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ قابض کا کوئی بھی منصوبہ بلوچ قوم کی مرضی و منشاء کے بغیر تکمیل نہیں ہو سکتا۔ اس آپریشن میں شامل عظیم بلوچ ماں کے بیٹوں نے اپنا قرض چکا دیا اور بلوچ قوم پر یہ واضح کر دیا کہ بلوچستان کیلئے آج بھی مرنے والے ہزاروں بلوچ زندہ ہیں جو اپنی جان دے کر مادر وطن کی حفاظت کرنے کو تیار ہیں۔

دھرتی کے ان عظیم سنگتوں کا یہ عظیم قربانی صدیوں تک یاد رکھا جائے گا، ان دھرتی کے عظیم سپوتوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بلوچ ماں بانجھ نہیں ہے ایسے دھرتی کے عظیم سپوت آئے دنوں جنم لیتے ہیں۔

آخر میں میں سر جھکا کر ان عظیم سنگتوں کو ان کی بہادری، ہمت اور قوم دوستی کیلئے سلام پیش کرتا ہوں اگر آج بلوچ قومی تحریک سلامت ہے تو اس کی وجہ یہی ہیں، انہی جیسے عظیم لوگ ہیں، انہی جیسے عظیم کردار ہیں، بلوچ ماں کے انہی بیٹوں کی وجہ سے آج بلوچ قومی تحریک قابض کی سختیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے منزل کی جانب گامزن ہے۔ منزل اُس وقت حاصل ہو سکتا ہے جب ہم ان عظیم سنگتوں کے قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلیں ہماری منزل انہی کی چنی ہوئی راہ پر ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔