بی ایل اے نے گوادر پی سی ہوٹل حملہ آوروں کا آخری ویڈیو پیغام جاری کردیا

1429
سکرین شاٹ

چین بلوچستان سے نکل جائے ورنہ شدید حملے ہونگے۔ حملہ آوروں کا آخری پیغام

دی بلوچستان پوسٹ سوشل میڈیا نمائیندے کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا ونگ ” ہکل” نے ایک تین منٹ طویل ویڈیو جاری کیا ہے، جس میں گذشتہ روز گوادر پی سی ہوٹل حملہ آوروں کو تربیت لیتے اور مشق کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو میں دو حملہ آوروں حمل فتح بلوچ عرف حبیب اور اسد بلوچ عرف محراب کو اپنا آخری پیغام انگریزی میں دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ پیغام گوادر پی سی ہوٹل پر حملے سے پہلے بنایا گیا تھا۔

یاد رہے گذشتہ دن چار مسلح حملہ آور سیکورٹی حصار توڑ کر گوادر میں واقع فائیو اسٹار ہوٹل پرل کانٹینینٹل میں داخل ہوکر اس پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے تھے، بلوچ لبریشن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملہ انکے مجید بریگیڈ نے کیا ہے اور حملے میں درجنوں بیرونی سرمایہ کار اور فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ چوبیس گھنٹے گذرنے کے باوجود ابھی تک آپریشن جاری ہے اور فوجی حکام نے ہوٹل کو “کلیئر” نہیں کیا ہے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق ابھی تک فائرنگ کی آوازیں بھی آرہی ہیں۔

ویڈیو میں ایک حملہ آور حمل فتح بلوچ عرف حبیب پیغام دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ” بلوچ فرزندان وقتاً فوقتاً چین کو متنبہہ کرچکے ہیں کہ وہ بلوچ سرزمین کے وسائل کی لوٹ مار بند کردے، لیکن چین نے ہمارے جائز خدشات پر کان نہیں دھرا، چین اپنے شیطانی منصوبوں کے تکمیل کیلئے بلوچ سرزمین کو استعمال کررہا ہے اور اس غرض سے وہ پاکستانی فوج کی ہر ممکن تعاون کررہا ہے کہ وہ بلوچوں کو کچل دے۔”

وہ اپنے پیغام میں سی پیک کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” چین اپنے منصوبوں کے تکمیل کیلئے پاکستان کی ہر ممکن امداد کررہا ہے، اور پاکستان بدلے میں بلوچ آبادیوں کو کچل رہا ہے۔ گوادر کے بلوچوں کے پاس پینے کا پانی تک نہیں ہے اور انکا واحد ذریعہ معاش بھی یہ پروجیکٹ چھین رہا ہے۔”

” لیکن بی ایل اے اس استحصال کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیگا۔ ہم، جنرل اسلم بلوچ کے ساتھی، انکے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ مجید بریگیڈ پاکستان اور چین پر کہیں بھی اور کبھی بھی حملہ کرے گا۔” یہ پیغام دوسرے حملہ آور اسد بلوچ عرف محراب نے دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ” پاکستان اور چین کو اپنے گناہوں کا حساب دینا ہوگا، گوادر بلوچوں کا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت بلوچوں کے منشاء کے بغیر گوادر کو اپنے مکارانہ عزائم کیلئے استعمال نہیں کرسکتا۔”

Video message to China and Pakistan by Gwadar PC Hotel attackers of BLA from Hakkal on Vimeo.

انہوں نے اپنے پیغام میں یہ واضح کیا کہ چین و پاکستان بلوچستان چھوڑ دیں بصورت دیگر مزید شدید حملے ہونگے۔

اس ویڈیو پیغام کا اختتام چاروں حملہ آوروں کے ان نعروں پر ہوتا ہے کہ ” بی ایل اے زندہ بار” اور بلوچستان زندہ باد”۔

دفاعی تجزیہ نگار گوادر پی سی ہوٹل حملے کو ایک ” شدید حملہ ” قرار دے رہے ہیں کیونکہ بی ایل اے ایک فوجی زون کے اندر اس گہرائی تک داخل ہوکر ایک اہم ہوٹل پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔

ایک ریٹائرڈ امریکی کرنل اور دفاعی تجزیہ نگار لارنس سیلین نے اس حملے کے بابت ایک ٹویٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ” بی ایل اے کی حکمت عملیوں میں ان حالیہ تبدیلیوں کا ذمہ دار انکے سربراہ اسلم بلوچ ہیں، جو گذشتہ سال ایک خود کش حملے میں شہید ہوئے۔ اس سے پہلے انکے اپنے بیٹے ریحان بلوچ نے ضلع چاغی میں چینی انجنیئروں پر ایک خود کش حملہ کیا تھا۔”


 

یاد رہے چینی انجنیئروں پر خود کش حملے کے بعد گذشتہ سال نومبر میں تین فدائی حملہ آوروں نے کراچی میں واقع چینی قونصل خانے پر حملہ کیا تھا۔ ان تمام حملوں کی ذمہ داری بی ایل اے کے فدائی یونٹ مجید بریگیڈ نے قبول کی تھی۔ مجید بریگیڈ کے بانی بی ایل اے کے سابق سربراہ اسلم بلوچ تھے۔