ایٹمی دھماکوں کے حوالے سے مجھے اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا – اختر مینگل

174

ملک میں 80فیصد غدار اور 20فیصد محب وطن ہیں۔جب بلوچوں پر یہ دور گزر رہا تھا تو پشتون خاموش تھے اور آج وہی کانٹوں کا تاج پشتونوں کے سر پر ہے۔وزیرستان کے مسئلے پر پارلیمانی کمیشن بنائی جائے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ وزیرستان کے واقعے پر پارلیمانی کمیشن بنائی جائے تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے ہو اور کمیشن بھی غداروں پر نہیں ملک کے محب وطن پر بنائی جائے تاکہ اصل حقائق کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے اگر پاکستان میں غداروں کی تعداد گنی جائے تو محب وطن سے زیادہ ہیں غداری کے القابات سے مسائل حل نہیں ہونگے غیر سنجیدگی باتیں نہ کی جائیں، فاٹا وزیرستان اور بلوچستان کا مسئلہ طاقت کی بجائے سیاسی طور پر حل کیا جائے ورنہ حالات مزید گھمبیر ہوسکتی ہے۔ 28 مئی کو یوم تکبیر کے نام پر ہر ایک کریڈٹ لینا چاہتے ہیں لیکن 21سال گزرنے کے بعد آج تک کسی نے چاغی کی احساس محرومی ختم کرنے کی کوشش نہیں کی ہے آج بھی وہ علاقہ احساس محرومی کا شکار ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سردار اخترجان مینگل نے کہا کہ 28مئی کو یوم تکبیر کے حوالے سے بہت سے تقاریر ہوئے اور ہر کسی نے کریڈٹ حاصل کرنے کی کوشش کی 28مئی 1998کو جب چاغی میں ایٹمی دھماکے ہورہے تھے اس وقت میں وزیراعلیٰ تھا خوش قسمتی سمجھے یا بدقسمتی سمجھے اس وقت مجھے اعتماد میں نہیں لیا گیا جس پر میں نے احتجاج بھی کیا اور بعد میں جس طرح اس ملک کے حکمرانوں کے ساتھ ہوتا ہے وہی ہمارے ساتھ کیا گیا، 21سال گزر گئے اس خطے کا سینہ چاک کیا آج تک کسی صدر، وزیر اعظم یا وزیر نے چاغی کا دورہ نہیں کیا قدر ی آفات خشک سالی اور سیلاب کے ساتھ ساتھ سرکاری آفتوں نے بلوچستان کو محرومیوں میں دھکیل دیا اس سال بھی جو سیلاب آیا وہ چاغی کاعلاقہ تھا، آج بھی وہ لوگ پینے کی صاف پانی سے محروم ہیں اور بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے وہاں پر حالات دن بدن گھمبیر ہوتی جارہی ہے، احساس محرومی بلوچستان سے بڑھ کر ملک کی کونے کونے میں پھیل گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیرستان میں جو واقعہ ہوا کہ یہ وہ لوگ نہیں تھے جنہوں نے کشمیر کی آزادی میں قربانیاں دی اور آج ان کو غدار کے القابات سے نوازا جاتا ہے اگر اس ملک میں غداروں کی تعداد گنی جائے تو محب وطن سے کئی گناہ زیادہ ہیں پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح، باچا خان، ولی خان، غوث بخش بزنجو، سردار عطاء اللہ مینگل، نواب خیر بخش مری، نواب اکبر بگٹی اور ذولفقار علی بھٹو غدار جبکہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف سیکورٹی رسک تھا جب یہ سب غدار ہیں تو ووٹ دینے والے بھی غدار ہیں اور اس ملک کی آئین بنانے میں ان غداروں نے بڑا کردار ادا کیا، کیا وہ آئین بھی غدار ہے اگر موازنہ کیا جائے تو ملک میں 80فیصد غدار اور 20فیصد محب وطن ہیں۔ پی ٹی آئی کے دوست جو الزامات لگارہے ہیں کل وہ حکومت کاحصہ نہیں ہونگے پھر ان الزامات کا سامنا وہ بھی کرینگے بد قسمتی سے جب کوئی حکومت کا حصہ ہو تو وہ محب وطن اور جب اپوزیشن کاحصہ ہو تو وہ غدار ہوتے ہیں یہ مسئلوں کا حل نہیں ہیں ہم سیاست کرتے ہیں اور سیاست میں غدار اور ملک دشمن کاکوئی حیثیت نہیں ہے تمام تر مسائل کو تشدد اور بندوق کی طاقت سے نہیں بلکہ افوام وتفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل کیاجائے۔

انہوں نے کہا جب بلوچوں پر یہ دور گزر رہا تھا تو پشتون خاموش تھے اور آج وہی کانٹوں کا تاج پشتونوں کے سر پر ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کو چلانے کیلئے غیر سنجیدگی کی باتیں نہ کی جائے بلکہ جو مسائل ہیں ان کو حقیقی معنوں میں حل کیا جائے اور وزیرستان کے مسئلے پر پارلیمانی کمیشن بنائی جائے اور یہ کمیشن غداروں پر نہیں بلکہ ان محب وطنوں پر بنائی جائے جو اس ملک سے پیار اور محبت کرتے ہیں تاکہ وہ وزیرستان اور بلوچستان میں ہونے والے واقعا ت کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں واقعی تبدیلی آگئی پہلے تو نوجوانوں اور بوڑھوں کو اٹھاتے تھے اور اب ترقی اس حد تک پہنچی کہ خواتین کو اٹھا یا جارہا ہے جن کو دہشتگرد اور ملک دشمن کہا جاتا ہے وہ دہشتگرد بن جاتے ہیں جب ان کے گھر نہیں ہوتے، شفقت سے ان کے ساتھ پیش آجائیں اور ان لوگوں نے اپنی ثقافت اورحقوق کیلئے بہت بڑی قربانیا دی ہیں ۔