امریکہ کو خلیجی ممالک کی سمندری حدود میں فوج تعینات کرنے کی اجازت

87

سعودی عرب سمیت خلیج تعاون کونسل میں شامل ممالک نے امریکا کو خلیجی ملکوں کی سمندری حدود میں فوج تعینات کرنے کی اجازت دے دی۔

سعودی اخبار کے مطابق امریکا نے ایران کیخلاف خلیجی سمندری حدود میں فوج تعیناتی کی اجازت مانگی تھی عرب اخبار الشرق الاوسط نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا نے ایران سے مقابلہ کرنے کیلئے اپنی فوج خلیجی ملکوں اور ان کی سمندری حدود میں تعینات کرنے کی اجازت مانگی تھی اس درخواست پر خلیج تعاون کونسل نے خلیجی پانیوں میں امریکی فوج کی تعیناتی کی باقاعدہ اجازت دے دی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں امریکا نے ایرانی تیل کی درآمدات پر دی گئی چھوٹ ختم کردی اور خبردار کیا کہ اب جو بھی ملک ایران سے تیل خریدے گا اسے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ایران نے امریکا کے اس اقدام کی مذمت کی اور اسے معاشی دہشت گردی قرار دیا ساتھ ہی ایران نے 2015 میں ہونے والے عالمی جوہری معاہدے کے اہم حصے سے دستبردار ہونے کا بھی اعلان کردیا جس سے امریکا گزشتہ برس ہی پیچھے ہٹ چکا ہے بعد ازاں امریکا نے اپنا بحری بیڑہ اور بی 52 بمبار طیارے خلیج فارس کی جانب روانہ کردیے جس نے ایران کو مزید مشتعل کردیا اور تہران نے بیان دیا کہ خلیج فارس میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا ذمہ دار امریکا ہوگا۔

ایران نے امریکی صف بندی کو نفسیاتی جنگی حربہ قرار دیا ہے جس کا مقصد ان کے ملک کو دھمکانا ہے اس حوالے سے پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ تصادم نہیں چاہتا لیکن واشنگٹن خطے کے مفاد اور امریکی فوج کے دفاع کے لیے تیار ہے بیان میں مزید کہا گیا کہ محکمہ دفاع خطے میں ایران کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔