افغانستان: بغلان میں پولیس مرکز پر حملہ ، متعدد افراد ہلاک و زخمی

52

 افغانستان کے شمالی صوبہ بغلان میں پولیس ہیڈ کوارٹرز پر خودکش حملے  کے بعد مسلح افراد اور فورسز کے درمیان جھڑپ میں  متعدد سیکیورٹی اہلکار مارے ۔

 دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک رپورٹ کے مطابق  حملے میں عام شہریوں سمیت فورسز کے اہلکار زخمی ہوئیں ۔

 بغلان کے سیکیورٹی زرائع  کے مطابق  پُلِ خمری میں  پولیس ہیڈکوارٹر کے قریب حملے کا آغاز ایک بم دھماکے سے ہوا۔ اس کے بعد مسلح لوگوں نے گولیاں چلانا شروع کردیں۔

دوسری جانب طالبان  ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ  حملہ آور ہیڈکوارٹر کے اندر داخل ہو گئے تھے۔

طالبان کے جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا ایک خودکش حملہ آور بارود سے بھری ایک ہموی جیپ پر سوار تھا، اس نے اس جیپ کو ہیڈکوارٹر کے سامنے دھماکے سے اُڑا دیا۔

بغلان کے گورنر کے ترجمان، محمود حقمل وائی، نے حملے کی تصدیق کی ہے لیکن نقصانات کے بارے میں کہا کہ تاحال ان کے پاس کافی معلومات نہیں تھیں، لیکن ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور مارے گئے ہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق، بم دھماکے ہیڈکوارٹر کے قریب ہوئے، ایک حملہ آور نے ہدف سے قبل اپنے آپ کو ہلاک کیا تھا۔

دوسری طرف، بغلان کے پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹر مبارک حبیب نے کہا کہ ہسپتال میں زخمیوں کی ایک بڑی تعداد لائی گئی ہے۔

ڈاکٹر حبیب کا کہنا ہے کہ بغلان کے سینٹرل ہسپتال میں گولیوں سے زخمی 40 افراد لائے گئے ہیں جن میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

بغلان کے ایک نجی اسپتال کے سربراہ فواد احمدی نے بتایا کہ ان کے ہسپتال میں آٹھ اہلکاروں کو لایا گیا جن میں دو اہلکاروں کی حالت تشویشناک ہے۔

دوسری جانب ایران سے متصل افغان صوبے فراہ کے ضلع بکواہ میں امریکی جنگی طیاروں نے طالبان کے متعدد ٹھکانوں پر اندھا دھند بمباری کی جس کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق طالبان کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ۔