اسلام آباد: پی ٹی ایم رہنماء گلالئی کی گرفتاری کے لیے گھر پر چھاپہ

110

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے پختون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی رہنما اور انسانی حقوق کی کارکن گلالئی اسماعیل کے گھر پر اسلام آباد میں چھاپہ مارا ہے۔ تاہم، گھر پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے گلالئی اسماعیل کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے یہ کارروائی گلالئی اسماعیل پر حال ہی میں پاکستان مخالف تقاریر پر دائر مقدمے کے بعد سامنے آئی ہے۔

فرشتہ کے قتل کے بعد متاثرہ خاندان کو فوری انصاف دلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے گلالئی اسماعیل نے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو جاری کی تھی جس کے بعد ان پر ’’پاکستان مخالف تقریر‘‘ کرنے اور ’’پشتون عوام کے دلوں میں پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے‘‘ کے الزامات پر انسداد دہشت گردی کی دفعہ 6/7 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

پی ٹی ایم کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ علی الصبح قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری نے، جس میں اسلام آباد پولیس، سادہ لباس میں ملبوس اہلکار اور خواتین پولیس اہلکار شامل تھیں، اسلام آباد میں واقع گلالئی اسماعیل کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی۔

ان کے مطابق، گلالئی اسماعیل گھر پر موجود نہیں تھیں۔ تاہم، اہلکار ان کے والد سے پوچھ گچھ کے بعد واپس روانہ ہوگئے۔

محسن داوڑ نے کہا کہ پی ٹی ایم کے کارکنوں کو گرفتار کرنے اور ہراساں کیے جانے کے واقعات تواتر سے ہو رہے ہیں جن کا مقصد ان کی جماعت کی سرگرمیوں کو روکنا اور خوف و ہراس پیدا کرنا ہے۔ ان کے مطابق، گلالئی اسماعیل اس حوالے سے خاص مثال ہیں، کیونکہ وہ عالمی دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے ایک آواز کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

محسن داوڑ کے مطابق، پولیس گلالئی اسماعیل کو گرفتار کرنے آئی تھی۔ تاہم، گھر پر موجود نہ ہونے کے باعث انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

پی ٹی ایم رہنما کے مطابق، اس واقعے کے بعد ان کا گلالئی اسماعیل سے رابطہ نہیں ہو سکا اور ان کے گھر پر چھاپے کی اطلاع ان کے والد کے ذریعے موصول ہوئی۔

اسلام آباد پولیس نے اس حوالے سے کسی قسم کا بیان جاری نہیں کیا، اور پولیس ترجمان نے رابطہ کرنے پر چھاپہ مارنے کی تصدیق یا تردید کرنے سے اجتناب کیا۔

اس سے قبل گزشتہ سال گلالئی اسماعیل کو وفاقی تحقیقاتی ادارے نے برطانیہ سے واپسی پر تحویل میں لیا اور ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا۔ تاہم، چند گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

گلالئی اسماعیل کی جانب سے اپنا نام سفری پابندیوں کی فہرست سے نکالنے کے لئے دائر درخواست پر سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل خالد محمود نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملک کے اعلیٰ تحقیقاتی ادارے، آئی ایس آئی نے بیرون ملک، پاکستان مخالف سرگرمیوں کی بنا پر گلالئی اسماعیل کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا کہا تھا۔

گلالئی اسماعیل انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور پختون تحفظ موومنٹ کی رہنما ہیں، جنہیں انٹرنیشنل ہیومینسٹ اینڈ ایتھیکل یونین کے ‘ہیومینسٹ آف دے ایئر’ ایوارڈ اور شیراک فاؤنڈیشن کے امن ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

گلالئی اسماعیل صوابی میں پیدا ہوئیں۔ وہ اسکول ٹیچر اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن محمد اسماعیل کی بیٹی ہیں۔ گلالئی اسماعیل نے 2002 میں قائد اعظم یونیورسٹی سے فلسفے میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔