اخترمینگل کو سنگت جیئند کا قرض چُکانا ہوگا – میربلوچستانی

302

اخترمینگل کو سنگت جیئند کا قرض چُکانا ہوگا

تحریر: میربلوچستانی

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان کے باقی تمام سیاسی جماعتوں کے برعکس اختر مینگل صاحب نے جبری گمشدگیوں یا لاپتہ افراد کا مدعا عوامی طبیعت و مزاج کے عین مطابق کیش کرکے اسکے گرد بڑی حمایت حاصل کر لی ہے اور عوام کا اختر مینگل صاحب کو اتنا اعزاز و احترام بخشنا ثابت کرتا ہے کہ یہ مسئلہ کس قدر اہم و فوری حل طلب ہے، جس سے عوام کے وسیع تر حلقوں کی حمایت و ہمدردیاں بڑے پیمانے پر جُڑی ہوئی ہیں۔ حالیہ عام انتخابات میں اختر مینگل صاحب کے جماعت کی پذیرائی و مقبولیت باقی سیاسی جماعتوں کے نسبت اسی وجہ سے کافی زیادہ تھی اور اس میں نوجوان پرت زیادہ متحرک دکھائی دیا۔

اپنی حساس طبیعت اور قومی دردمندی کے پیش نظر بی ایس او کا سرگرم رُکن سنگت جیئند بلوچ بھی خود کو روک نا پایا اور اس آس و امید کے ساتھ کہ مینگل صاحب بلوچ ماؤں کے بچھڑے لختِ جگروں کو واپس لانے میں کامیاب ہونگے، وہ بھی مینگل صاحب کے کیمپین کا حصہ بن گئے حالانکہ بی ایس او کا بالائی ادارہ تنظیمی ممبران کو کسی بھی جماعت کے الیکشن کیمپین کا حصہ نا بننے کی تاکید بھی کر چُکا تھا۔

مگر سنگت جیئند بلوچ تھے کہ بس نکل پڑے، اپنے محلے ہُدّہ میں لوگ جمع کیئے، سٹیج سجایا، پارٹی قیادت کو مدعو کیا اور کمپئین کی کاروائی کی از خود نگرانی کی۔ اسی مدعے پر تنظیم نے سنگت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔ ان سے سختی سے جواب طلبی کی تو سنگت نے تحریری طور پر تنظیم سے معافی مانگی، شرمندگی کا اظہار کیا اور وضاحت پیش کی کہ ان کا خیال ہے کہ اگر اختر مینگل کی جماعت اقتدار میں آئیگی تو بلوچستان کے باسیوں کے گھر اجڑنا بند ہونگے۔ سنگت کی خلوص کی قدر کرتے ہوئے انکی اس حرکت کو درگزر کیا گیا اور انہیں دوبارہ ڈسپلن کی پاسداری کا پابند رہنے کی تلقین کی گئی۔

خیر! سنگت جیئند کے حلقے کا نمائندہ کامیاب ہوئے اور اسمبلیوں میں پہنچ گئے۔ جیئند کی طرح ان کے جیسے بیشمار نوجوان منتظر رہے کہ انکے دیرینہ زخموں کو دوا دی جائیگی اور بلوچ ماؤں کے دلوں کو راحت نصیب ہوگی۔ مگر، ہوا یہ کہ تاحال کچھ بھی نہ ہوسکگا۔ مینگل صاحب حکومت میں بھی براجمان رہے اور اپوزیشن میں بھی ہیں۔ اس گول مال گن چکر کو جوان نسل سمجھنے سے تاحال قاصر ہیں۔ کمزورصحیح مگر پھر بھی آس کی لڑی ابھی تک چھوڑی نہیں گئی ہے۔ کیونکہ مینگل صاحب اور ان کی جماعت کے کچھ حضرات تقریریں جو بڑی اچھی کرتے ہیں۔

انتخابات کا چرچہ ایوانوں میں ٹھنڈا پڑ رہا تھا کہ ۳۱ نومبر ۲۰۱۸ کو جیئند بلوچ ان کے گھر ہُدّا سے اغواء کیئے گئے اور جن لاپتہ افراد کی وہ کھوج لگا رہا تھے، خود اس فہرست میں شامل ہوگئے۔ یقیناً اس کے حلقہ احباب کیلئے یہ انتہائی کربناک خبر تھی مگر سب سے بڑھ کر اس کے گھر اور محلے کیلئے سوگوار پیام تھا۔ بی ایس او سے اس کے ساتھی اپنی بساط کے مطابق انکا چرچا میڈیا اور عوام کی وسیع تر حلقوں تک پھیلانے میں لگے رہے۔ تمام جمہوری حقوق کا استعمال عمل میں لایا گیا۔ پریس کانفرنس، احتجاج، ریلی اور سوشل میڈیا کیمپین کے زریعے انکی جبری گمشدگی کی مذمت کی جاتی رہی اور بازیابی کا مطالبہ کیا جاتا رہا تاکہ کہیں نہ کہیں سے داد رسی ہو اور حکام بالا سے رحم کی نظرِ کرم نصیب ہو مگر ہوا یہ کہ تنظیم کی مرکزی قیادت ہی کو اٹھا کر لاپتہ کردیا گیا۔

سوچتا ہوں سنگت جیئند زندان میں جہاں اپنے تنظیمی ساتھیوں سے اپنے حق میں آواز اٹھانے کی امید لگاتا ہوگا، وہیں کچھ امید اسے ان نمائندگان سے بھی ہوگی جن کیلئے اس نے کیمپین کرکے تنظیمی ساتھیوں کو آگے شرمندگی کو قبول کیا تھا۔ مگر اسے کیا خبر کہ یہ نمائندگان تو فقط بڑھک بازی کے ہی شیر ٹِہرے۔ ان سے عمل کی توقع آج تک بھول ہی ثابت ہوئی ہے۔ سنگت جیئند کی اس امید کو اس کے ساتھیوں نے ان کے نمائندگان تک بھی پہنچایا مگر لاتعلقی ہی رسید ہوئی۔

جس محلے اور جس مقام پر جیئند بلوچ نے ان نمائندگان کیلئے الیکشن کیمپین کا اسٹیج سجایا تھا اسی مقام یعنی ہُدّا مینگل چوک سے جیئند بلوچ کی بازیابی کیلئے ان کے احباب و اہلیان کی جانب سے ایک پرامن ریلی نکالی گئی اور حلقے کے نمائندگان کے گھروں اور پارٹی دفتر کے آگے سے ہوتے ہوئے ریلی پریس کلب تک گئی مگر نا حلقہ نمائندگان کہیں نظر آئے اور نا ہی پارٹی ممبران کو شرکت کیلئے بھیجا گیا۔

یہ اجر تھا جیئند بلوچ اور ان جیسے سینکڑوں ساتھیوں کی انتھک محنت کا جس کے بَل پر یہ قومی رہنما اسمبلیوں تک پہنچے ہیں۔

آج جب بلوچ نوجوان ممبران قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڈ کو دیکھتے ہیں جوکہ پشتون تحفظ موومنٹ کے سرکردہ رہنما ہیں تو یقیناً سرمشار ہیں کہ یہ پشتون رہنما ہمہ وقت اپنے عوام کے ہر چھوٹے بڑے مسئلے پر میدان میں ہم قدم و کاندھے سے کاندھا ملائے کھڑے رہتے ہیں، مگر بلوچ قیادت صرف عوامی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی حد تک ہی اکتفا کیئے ہوئے ہیں۔

مگر یاد ہو کہ جیئند بلوچ کی گمشدگی کا بوجھ جنابِ اختر مینگل صاحب اور انکی جماعت پر خصوصی طور پر قرض ہے اور اس کے علاوہ قوم کی نمائندگی کے تمام دعویدار بھی اس قرض سے قطعاً بری نہیں ہیں۔ جیئند بلوچ کی جبری گمشدگی کو چھ مہینے پورا ہونے کو ہے کہ ان کے اہل و عیال انکی باحفاظت بازیابی کے منتظر ہیں۔

ہمارا جناب اختر مینگل صاحب سے مطالبہ ہے کہ جس طرح سنگت جیئند بلوچ نے آپکا بینر اٹھا کر آپکو اسمبلی تک پہنچانے کی تگ و دو کی تھی، اسی طرح آپ بھی ان کا بینر اٹھا کر ان کی بازیابی کا مطالبہ کریں اور اپنا قرض چُکتا کریں۔ ہمیں آپکی جذباتی تقریروں میں زیادہ دلچسپی نہیں ہے بلکہ ہمیں ہمارا ساتھی واپس لوٹا دیں۔ اپنا فرض پورا کریں۔

ساتھ ہی بلوچستان کے تمام سیاسی جماعتوں بشمول حکومتی جماعت (بلوچستان عوامی پارٹی) سے بھی التجاء ہیکہ جیئند بلوچ کو انسانی ہمدردی کی بنا پر بازیاب کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ طلباء سیاسی کارکنوں کو سیاسی احترام کی بنیاد پر تحفظ فراہم کریں۔ کل کا بلوچستان آپ تمام جماعتوں کے رہبروں سے بے لوث کارکنوں کا تقاضہ کریگا اور آپ جیئند بلوچ جیسے نوجوانوں کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہونگے۔ خُدارا! مستقبل کے ان روشن ستاروں کو تاریکیوں سے نکالنے میں اپنا تاریخی کردار ادا کریں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔