ہم کریں تو ظلم اور تم کرو تو انصاف – زہرہ جہان

173

ہم کریں تو ظلم اور تم کرو تو انصاف

تحریر: زہرہ جہان

دی بلوچستان پوسٹ

زہرہ بلوچستان میں کیا ہوا ہے؟ آج جب میں کالج گئی تو سہیلیوں نے بتایا اورماڑہ میں 14 نہتے لوگوں کو بس سے اتار کر, سر میں گولیاں مار کر قتل کیا گیاہے.
یہ کیا چل رہا ہے؟
کیا یہ سچ ہے؟
میرے دوست مجھے کہہ رہے ہیں کہ تم بلوچستان والے بہت ظالم ہو. تم مسافروں کو بھی نہیں بخشتے ہو.
یہ بھی کوئی طریقہ ہے.
اور پھر کہتے ہو فوج بلوچستان میں آپریشن کرکے بے گناہ لوگوں کو غائب کرتا ہے اور پھر مارکے پہاڑوں اور ویران میدانوں میں پھینک دیتا ہے. تم لوگ غریب مزدوروں کو جو رزق کی تلاش میں مجبورا بلوچستان جاتے ہیں، مارتے ہو تو کیا فوج تمھیں چھوڑیگی. جیسا کروگے ویسا بھروگے. آئندہ سے ہمارے سامنے یہ نہ کہنا پاکستانی فوج ظالم ہے بلوچستان کے لوگوں پہ ظلم کرتی ہے.

اب بتائیں زہرہ باجی میں کیا جواب دوں اپنے سہیلیوں کو؟
وہ مجھ سے ناراض ہوگئے ہیں.
یہ باتیں میری کزن کی ہیں جو کالج کی طالبہ ہے. وہ لوگ کچھ سال پہلے بلوچستان کے نا گفتہ حالات اور فوج کے آۓ روز آپریشن و ریڈ سے تنگ آکر سندھ ہجرت کر گئے تھے تاکہ سکون کی زندگی گذار سکیں لیکن غلام وطن کی باتیوں کے لیۓ کیا آرام کیا سکون.

میں نے اسے کہا جو تم نے سنا ہے وہ صحیح سنا ہے.
بلوچستان اورماڑہ میں 14 لوگوں کو بس سے اتار کر قتل کیاگیا ہے. لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہے. یہ تو آۓ روز ہوتا ہے بلوچستان میں. روزانہ کی بنیاد پہ بلوچستان کے نہتے لوگوں کو اغواء کیا جاتا ہے بنا عمر و جنس کی تمیز کیۓ. خدا جانے کتنے سالوں سے بہن بھائی کی, بھائی بھائی کی, بیوی شوہر کی, والدین بیٹے کی راہ تک رہے ہیں. کچھ بد نصیب والدین کو نہ بیٹے کا آخری دیدار نصیب ہوا اور نا ہی بیٹوں کو والدین کا. یہ بد نصیبی ان خاندانوں کی نہیں بلکہ بلوچستان کی بدنصیبی ہے. لیکن فرق اتنا ہے کہ اگر کسی بلوچ کو مارا جاۓ تو میڈیا اور لوگوں کو جیسے سانپ سونگ جاتا ہے اور جب خود پہ ایسے حالات آۓ تو رونے پیٹنے پہ آکر آسمان سر پہ اٹھاتے ہیں.

کل کے جو مارنے والے ہیں، وہ بدنام و گمنام ہوکر بھی خوشنام ہیں.جیسا بھی ہے کم ازکم نا معلوم نہیں ہیں. سب کو پتہ ہے وہ سرمچار, بلوچستان کے رکھوالے, ہیں. انہوں نے باقاعدہ ثبوت کے ساتھ واضح کردیا ہے کہ یہ واردات ہم نے کی ہے ہم قبول کرتے ہیں اور اسکا وجہ تو خیر سب کو پتہ ہے انہوں نے کیوں کیا۔ گوکہ انہوں نے خود اسکا اقرار بھی کیا سوشل میڈیا پہ بیان کے ذریعے. لیکن بلوچستان کے ان لوگوں کا کیا جنکو گاڑی سے اتار کر لاپتہ کیا جاتا ہے. یہ بھی نہیں بتایا جاتا ہے کہ انکا گناہ کیا ہے. کس بنیاد پہ انہیں اغواء کیا جارہا ہے ثبوت تو بہت دور کی بات ہے. جسکا مثال بلوچ طالب علم الیاس نظر کا مسخ شدہ لاش اور باپ کے تلاش میں بچپن سے لڑکپن تک پہنچنے والے علی حیدر کے لاپتہ والد محمد رمضان ہین. اور ایسے واقعات انگنت ہے. انکو ایک ساتھ قلم بند کرنا شاید نا ممکن ہو.

آپ اپنے سہیلیوں سے پوچھو کہ بلوچستان میں ہردن لوگ اغواء کیۓ جاتے ہیں. چادر و چاردیواری کی پامالی کی جاتی ہے. گھروں کو لوٹا جاتا ہے. مسخ شدہ لاشوں کو بلوچستان کا مقدر بنا دیا گیا ہے. بلوچستان کے وسائل پہ بلوچون کا حق چھینا گیا ہے. کبھی انکے لیۓ آواز کیوں نہیں اٹھاتے ہو؟ وہ جو نامعلوم بنے پھرتے ہیں انکو جان کر بھی کیوں انجان بنتے ہو؟ مجھ سے کیوں نہیں پوچھتے کہ میں بلوچستان کیوں چھوڑنے پہ مجبور ہوئی ہوں؟ بلوچوں کا قتل تمھارے لیۓ ثواب و جائز اور جب بلوچ گناہ گار کو اس کے گناہ کی سزا دے تو کیوں یہ گناہ اور ناجائز بنتا ہے؟

سرمچار جو کرتے ہیں وجوہات کی وضاحت کرتے ہیں اور ثبوت بھی فراہم کرتے ہیں تاکہ کوئی انکاری نہیں ہو لیکن پھر بھی تم انکی بات کیوں نہیں مانتے ہو؟ اور وہ جو بنا کسی وجہ و ثبوت کے لوگوں کو مارتے پھرتے ہیں. اپنے ہی گھر میں لوگوں کو بے گھر کیۓ گھومتے ہیں انکا قصور و ظلم کبھی تمھیں کیوں نظر نہیں آیا؟

چلو آنکھوں پہ کالی پٹی باندھ کر, دماغ کے جو سوچنے والا دریچہ ہے اسے بند کرکے ایک لمحے کے لیۓ مان لیتے ہیں کہ وہ مزدور تھے. وہ کام کی غرض سے بلوچستان آۓ تھے. لیکن سوال یہ ہے وہ کونسی مزدوری کرنے آۓ تھے (بٹے پہ کام کرنے یا مقامی لوگوں کو بٹھی میں ڈالنے آۓ تھے) ؟ سب سے زیادہ غربت و بے روزگاری بلوچستان میں ہے لیکن وہ پھر بھی خوشحال پنجاب کو چھوڑ کر کیوں یہاں مزدوری کرنے آۓ تھے. چلو مزدور تو اور بھی ہیں صرف کچھ کو ہی کیوں مارا جاتا ہے؟

وہ کہ جن کی آئی ڈی کارڈز چیک کرکے قتل کیا گیا وہ سب کے سب پاکستان نیوی، کوسٹ گارڈز اور فضائیہ کے ملازم تھے۔
وہ فوجی تھے۔
اپنے سہیلیوں سے پوچھو ہمیشہ تصویر کے ایک ہی رخ کو کیوں سب کچھ سمجھتے ہو.اپنے فیصلے دل کی بجاۓ دماغ سے کیوں نہیں کرتے ہو؟ ہمیشہ اپنے آپ کو ہی حق اور سچ پہ کیوں ٹہراتے ہو؟ صرف نام نہاد بکاؤ پاکستانی میڈیا پہ ہی یقین کیوں کرتے ہو؟ تالاب کے باہر بھی تو ایک دنیا ہے. اس دنیا میں کیوں نہیں جھانکتے ہو کبھی؟ کیوں کبھی اس دنیا کے حالات و واقعات پہ غور نہیں کرتےہو؟ جب یہی مزدور ظلم کے نئے نئے طریقے آزماتے ہیں، بلوچستان میں وطن پرستی و غداری کے نام پر تب تمھاری افسوس و انسانیت کہاں گھاس چرنے جاتی ہے؟ افسوس و انسانیت کا خیال صرف تب ہی کیوں تمھارے کالے دلوں میں آتا ہے جب کوئی مظلوم گناہ گار کو اسکے گناہ کا سزا دیتا ہے؟ یہ دوغلے پالیسی ہمیشہ بلوچستان کے ساتھ کیوں چلاتے ہو؟ بلوچستان ہضم کیوں نہیں ہوتا کبھی تمھیں؟ محبت کے نام پہ دل جلانا بلا کہاں کی الفت و محبت ہے؟

اپنے سہیلیوں سے کہو کہ اگر وہ تھوڑا بہت حقیقت میں حقیقت پسند اور حقیقت شناس بن جائیں تب ان سوالات و جوابات کی نوبت ہی نہیں آئیگی. بلوچستان ایک کھلی کتاب کی مانند ہے اب یہ ان پہ منحصرہے کہ وہ پڑھینگے اور سمجھینگے بھی اسے یا صرف نام ہی کو سب کچھ جانیں گے.

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔