ہزارہ برادری کا قتل عام جنگی جرم ہے- بی این ایم

85

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری دل مراد بلوچ نے کہا ہے ہزارہ برادری کا قتل عام جنگی جرم ہے۔

انہوں نے ریڈیوزرمبش سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ کوئٹہ میں آج کا ہزارہ برادری کے قتل کاواقعہ انتہائی قابل مذمت ہے ،بلوچ نیشنل موومنٹ ہزارہ برادری کے قتل عام کا شدید الفاظ میں مذمت کرتاہے ،ہم سمجھتے ہیں کہ یہ انسانیت کے خلاف واضح جرم ہے ،یہ جنگی جرم ہے اوریہ پہلا واقعہ نہیں کہ ہزارہ برادری کے ساتھ یہ انسانیت سوز ظلم ہوا ہوابلکہ دوچار ماہ بعد انہیں ہدف بناکر قتل کیا جاتاہے اوریہ کوئی فرقہ واریت نہیں ،یہ کسی انتہاپسند گروہ یاتنظیم کا نہیں ہے بلکہ یہ کچھ ریاست کا کیادھرا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ تجربہ یہ ثابت کرچکاہے کہ ریاست پاکستان یہ کرتارہے گا اوراس کے وجوہات بلوچ نیشنل موومنٹ پہلے بھی واضح کرچکاہے کہ بلوچستان میں آزادی کی تحریک جاری ہے اور یہ تحریک نیشنلزم کے سیکولرنظریے کے تحت جاری ہے اور بلوچ سماج مذہبی منافرت اور شدت پسندی سے کوسوں دور ہے ،فرقہ واریت یا مذہب کے نام پر قتل عام بلوچ سماج کے لئے ایک اجنبی قسم کا لفظ ہے ۔

دل مراد بلوچ نے کہاکہ بلوچ سماج مذہبی تفریق کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور چونکہ پاکستان کے پاس اس بلوچ قومی تحریک کاکوئی توڑ نہیں ہے ،پاکستانی فوج ایک قوم کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہوچکاہے اس لئے پاکستان نے افغانستان ،بھارت سمیت دنیابھر میں اپنے پراکسی وار کے لئے جتنے تنظیمیں یا صاف الفاظ میں فوج کے متوازی طاقت کے جتنے مراکز قائم کئے ہیں انہیں بلوچ قومی تحریک کو کچلنے ،بلوچ سماج میں مذہبی منافرت کا بیج بونے کے لئے بلوچستان میں منتقل کیاجاچکاہے ،یہاں انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جاچکی ہیں ،یہاں انہیں ،ہڈف تلاش کرکے دیا جاتاہے یہ کام بھی ریاست اور ریاست کا فوج کررہاہے لیکن استعمال انہی دہشت گردوں کا کیاجاتاہے تاکہ ریاست پر الزام نہ آئے لیکن اب دنیاجان چکاہے ،ہزارہ برادری بھی جان چکاہے کہ یہ کا م کوئی اور نہیں ریاست کررہاہے بلکہ یہ دہشت گردی براہ راست ریاست کررہاہے ۔

انہوں نے کہاکہ اور تو اور ریاست پاکستان کے وزیراعظم یہ اقرار جرم کرچکاہے کہ فوج نے شدت پسند تنظیمیں بنائی تو تھیں لیکن اب ان کا ضرورت نہیں رہا،یہ واضح اقبال جرم ہے کہ دہشت گردی کے پیچھے ریاست ہے ۔

انہوں نے آخر میں کہابلوچ قوم دودہائیوں سے نسل کشی سے دوچار ہے ،بلوچ قوم ہزارہ کے دکھ درد میں برابر کا شریک ہے ،ضرورت اس بات کی ذمہ دار بین الاقوامی ادارے اس نسل کشی کا نوٹس لیں اورپاکستان کے خلاف راست اور واضح اقدام اٹھائیں ۔