پاکستان میں پھانسی پانے والے ہر پانچ میں سے دو قیدی بے گناہ تھے – رپورٹ

72

پاکستان میں موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے بارے میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2014 سے اب تک پانچ سو افراد کو پھانسی پر چڑہایا گیا لیکن موت کی سزا پانے پانے والے ہر پانچ میں سے دو قیدیوں کو غلط سزا دی گئی یا وہ بے گناہ تھے۔

پاکستان میں، غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر ہر ہفتے اوسطا” دو افراد کی پھانسی پر لٹکایا جاتا ہے۔

یہ اعداد و شمار اسلام آباد میں انسانی حقوق کی تنظیم ‘فاؤنڈیشن فار فنڈامینٹل رائیٹس’ اور بین القوامی غیر سرکاری تنظیم ریپرییو نے اپنی مشترکہ رپورٹ میں جاری کیے ہیں۔

ٹرائل کورٹس میں چھوٹے مقدمات میں بھی سزائے موت دینے کے عمل نے نہ صرف ان قیدیوں کی تعداد میں اضافہ کیا بلکہ ان سزاؤں کے خلاف اپیلیں سپریم کورٹ میں پہنچنے تک ان افراد کو کئی سال قید میں بھی گزارنے پڑتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان  میں 2010 سے 2018 تک سزائے موت کے 78 فیصد مقدمات کے فیصلے سپریم کورٹ نے کالعدم قرار ہیں۔ ماہرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں سزائیں معطل ہونے یا تبدیل ہونے سے ضلعی عدالتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھتا ہے۔

رپورٹ میں پاکستان میں موت کی سزا کے قانون کے مسلسل استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے نا مکمل یا ناقص تحقیقات، عدالتوں سے مقدمے کے فیصلے میں برس ہا برس کی تاخیر یا غلط سزاؤں کی وجہ سے بے گناہ شہریوں کو تکلیف سے گزرنا پڑا اور پھر عدالتوں نے انھیں برّی کر دیا۔

واضح رہے کہ دو برس پہلے تک پاکستان سب سے زیادہ سزائے موت دینے والے دنیا کے پہلے پانچ ملکوں میں شامل تھا جبکہ اس وقت پاکستان کی جیلوں میں سزائے موت پانے والے پونے پانچ ہزار افراد نظرثانی اپیلوں کی شنوائی کے منتظر ہیں۔

رپورٹ میں گزشتہ آٹھ برس کے دوران سپریم کورٹ میں آنے والے مقدمات میں سے 310 کا جائزہ لیا گیا۔ ان مقدمات میں سے 78 فیصد پر نچلی عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے ان مقدموں میں ملزمان کو یا تو بری کر دیا گیا یا ان کی سزا تبدیل کر دی گئی یا ان پر نظرثانی کا حکم دیاگیا۔ اسی عرصے میں ٹرائل کورٹس میں تقریباً 2800 افراد کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے، یعنی ہر سال اوسطا” تین سو افراد کو یہ سزا سنائی جا رہی ہے۔

لیکن صرف 2018 میں ہی سپریم کورٹ میں سزائے موت کی اپیلوں میں سے تین فیصد کی سزا کو برقرار رکھا گیا جبکہ 97 فیصد سزائے موت کے فیصلے کالعدم قرار دیئے گئے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کے عدالتی نظام میں ایک طرف ناقص تفتیش اور کمزور شہادتیں عدل کی راہ میں حائل ہیں تو دوسری جانب طویل یا سست عدالتی عمل انصاف کی تیز رفتار فراہمی میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ عام آدمی کے مقدمات برسوں عدالت میں چلتے رہتے ہیں اور وہ انصاف کے لیے انتظار کی سولی پر لٹکا رہتا ہے۔