شہید شاکر عیدو عرف ڈی جے – ریاست خان بلوچ

162

شہید شاکر عیدو عرف ڈی جے

تحریر: ریاست خان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

یہ 2015 کے غالباً اگست کا مہینہ تھا، موسم شدید گرم اور ہوائیں، مانو چہروں پر آگ کے گولے پھینک رہی ہوں جبکہ کیمپ میں بیٹھے ہوئے دوست حسب معمول ایک دوسرے کے ساتھ شغل و مزاح میں مصروف تھے۔ اتنے میں اوپر پہاڑ کی چوٹی پے پہرہ دے رہے ایک دوست نے آواز دی کے سفر پر گئے ساتھی آتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں. ان کے لیئے چائے تیار رکھو، قریب دس منٹ کے بعد دوست کیمپ کے اندر آتے ہوئے دکھائی دیئے، ان کے ہمراہ چند نئے دوست بھی آئے ہوئے تھے. دوستوں کے ساتھ بلوچی حال احوال کے بعد انہیں چائے پیش کی گئی، جس کے بعد نئے آنے والے دوستوں کا تعارف ہم سے کرایا گیا۔

ان نئے ساتھیوں میں شامل ایک ساتھی شہید شاکر جان تھے، جن کو ساتھ آنے والے دوست فدا کہہ کر مخاطب کر رہے تھے، دراصل بی ایل اے سے وابستگی سے پہلے شاکر جان بی ایل ایف میں کام کر چکے تھے، جہاں ان کا تنظیمی نام فدا رکھا گیاتھا۔.

شہید شاکر جان کا تعلق ضلع گوادر کے علاقے کلانچ سے تھا، وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندان میں پیدا ہوئے، بنیادی تعلیم کلانچ ہی سے حاصل کی اور بعد کی تعلیم کے لئے پسنی چلے گئے، جہاں وہ پہلی بار بلوچ قوم پرستی کے نظریئے سے متاثر ہوئے، جس کے بعد وہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد میں شامل ہوئے۔ جہاں ان کے قوم پرستانہ خیالات پروان چڑھے، ان میں وسعت آتی گئی، جو انہیں آخرکار مزاحمت تک لے آئے۔

بی اس او کے بعد شہید شاکر جان نے مزاحمتی تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی، جس کے بعد انہوں نے ماضی کی آرام دہ زندگی کی طرف ایک بار بھی پلٹ کے نہ دیکھا اور بلوچستان کے سخت اور بےرحم چٹانوں ہی کو اپنا سب کچھ مان لیا۔ کچھ عرصہ بی ایل ایف میں کام کرنے کے بعد وہ چند سیاسی و انتظامی مسائل پر پیدا ہونے والے اختلافات کے باعث بی ایل ایف چھوڑ کر بی ا ایل اے میں شامل ہو گئے۔

کیمپ میں آنے کے چند ہی دنوں بعد شہید شاکر جان باقی دوستوں کے ساتھ یوں گھل مل گئے تھے کہ مانو ایک دوسرے سے ازل کی شناسائی ہو۔

ہمارے گوریلہ کیمپوں میں ایک ضرب المثل مشہور تھی کہ اگر کسی دوست کے قوت برداشت کے متعلق جاننا ہو تو اس کے ساتھ کسی لمبے گشت (سفر) پر چل نکلیں، انسان کتنا ہی خود کو اچھا پیش کرے، مگر دوران سفر اگر اس نے اچھائی کا کوئی بھی خول پہنے رکھا ہو، وہ اتر جائے گا۔

اتفاق سے مجھے شہید شاکر جان کے ہمراہ ایک سفر پر جانے کا اتفاق ہوا. دراصل ایک گوریلہ یونٹ کیلئے بہت ہی اہم ہوتا ہے کہ وہ دشمن کے نظروں سے جتنا ہو سکے خود کو بچائے رکھے اور اس غرض سے اسے ہر وقت اپنے آس پاس کا خبر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

اسی مقصد سے 4 دوستوں کی ایک ٹیم بنائی گئی، جن کے ذمے کیمپ ایریا کے 15 کلو میٹر ریڈیس کے اندر پیدل مارچ کرنا اور اس امر کو یقینی بنانا تھا کہ کسی بھی ممکنہ حملے کے پیش نظر کیمپ کا تحفظ یقینی بنایا جائےاورکیمپ کو آنے والے تمام راستوں کو اچھی طرح چیک کیا جائے تاکہ دشمن کے پیروں کے نشان وغیرہ اگر دکھ جائیں تو بروقت کیمپ کو رپورٹ کیا جاسکے.

اتفاق سے ان 4 دوستوں میں میرا اور اور شہید شاکر جان کا نام بھی شامل تھا، ہمیں اپنا سفر 6 دنوں کے اندر پورا کرنا تھا اور ساتویں دن کیمپ واپس آکر رپورٹ کرنا تھا۔

ہم اپنا راشن پانی لے کر کیمپ سے نکلے اور 3 گھنٹے پیدل سفر کرنے کے بعد ایک پہاڑی پر تھوڑی دیر آرام کرنے کیلئے رکے، تھوڑی دیر بعد شہید شاکر نے ایک سگریٹ سلگھاتے ہوئے مجھے میرے نام سے مخاطب کیا اور کہنے لگے کہ “بی ایل اے ہمارا راشن پانی ہی کیوں نہ بند کرا دے ماسوائے ایک چیز کے جو اگر مجھے میسر نہ ہوا تو میں بی ایل اے کو خیرباد کہہ دونگا۔
میں نے ہنستے ہوئے پوچھا کہ “اور وہ کیا ڈی جے بھائی؟
زور سے قہقہہ لگاتے ہوئے بولے “سگریٹ اور کیا۔”

اپنا راشن اور کھانے کے برتن وغیرہ اپنے کندھوں پر اٹھائے دشوار گذار راستوں سے گذرتے، جب ہم دن بھر کے سفر سے چور رات کو سونے کیلئے ڈیرہ ڈالتے تو تھکان کی وجہ سے پیر اٹھنے کیلئے ساتھ نہ دیتے۔

ایسے میں شہید شاکر جان ہمت دکھاتے اور آٹا گوندنا شروع کر دیتے، لکڑیاں جمح کرتے، جس سے ہماری بھی ہمت بندھ جاتی اور ہم ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانا شروع کردیتے، جب کھانا تیار ہو رہا ہوتا تو شہید شاکر جان اپنی شاعری سے ہمیں مسرور کرتے۔

خیر جب سفر پر نکلے ہمیں تین دن گذرے تو ہمیں کہیں سے دو گدھے مل گئے، جن پر ہم نے اپنا راشن پانی لادھ دیا، جس سے ہمارے کندھوں کا بوجھ ہلکا ہو گیا لیکن اصل مصیبت تو اب بھی ہمارے انتظار میں تھی، کیونکہ جس راستے سے ہمیں جانا تھا وہاں پانی کا پہلا چشمہ ہم سے 5 گھنٹے دور تھا اور جب ہم صبح کو نکلے تو 2 گھنٹوں کے اندر ہی ہمارے ڈبوں میں موجود پانی ختم ہو گیا، تھکے ہارے جب ہم اس جگہ پہنچے جہاں پانی ملنے کا اندیشہ تھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ پانی تو ہے ہی نہیں بس زمیں میں کچھ نمی باقی ہے جسے دیکھ کر ہمارے پیروں کے نیچھے سے مانو زمین ہی کھسک گئی کیونکہ پانی کا اگلہ چشمہ وہاں سے 2 گھنٹہ اور دور تھا اور ہم میں ایک قدم چلنے کی بھی سکت باقی نہیں تھی۔

پیاس سے نڈھال ہم نےاس جگہ کی کدھائی شروع کر دی، تقریبًا 20 منٹ کدھائی کے بعد ہمیں پانی میسر آیا، جب پانی پینے کیئلے اٹھایا تو گویا پانی نہیں بلکہ کسی جنگلی جانور کا پیشاب پی رہے ہوں۔ اس پر شاکر جان نے زور کا قہقہہ لگایا اور بولے ” لعنت ہو تجھ پے اے پاکستان کہ تو نے ہمیں اس قدر ذلیل کیا ہوا ہے، اس کا بدلہ تو تمہیں چکھنا ہی پڑے گا۔”

ان 6 دنوں میں میں نے شہید شاکر جان کی شخصیت کو قریب سے دیکھا، وہ ایک سادہ طب بہادر اور سنجیدہ سیاسی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عمدہ سامع اور ایک پائے کے شاعر بھی تھے۔ شہید شاکر جان کی یادوں سے منسوب ایک اور قصہ جسے یاد کر کے آج تک میں اپنی ہنسی روک نہیں پاتا ہوں۔

دراصل اپنے حفاظت کے پیش نظر ہمیں اپنا کیمپ ہر 20 یا 30 دنوں کے اندر تبدیل کرنا ہوتا تھا اور ایک نئی جگہ اپنا کیمپ منتقل کرنا ہوتا۔

جب ہمیں 25 دن پورے ہوئے تو ہم نے نئی جگہ منتقلی کا ارادہ کیا. کیمپ میں دوستوں کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے اردہ کیا کہ پہلے آدھے دوست گاڑی و موٹر سائیکلوں پے سوار آدھے راستے تک جائیں گے اور گاڑی واپس باقی دوستوں کو لے جانے کیلئے بھیج دی جائے گی۔

پہلے شفٹ میں میں اور شہید شاکر جان بھی گاڑی پے سوار ہوئے، ہمیں بیچ راستے میں چھوڑ کر گاڑی کو دوسرے دوستوں کو لے آنے کیلئے بھیج دیا گیا۔

یہ غروب آفتاب کا وقت تھا، اوپر جو دوست پہرہ دے رہا تھا دوڑ کر ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا کہ دور سے کوئی پندرہ بیس گاڑیوں کی لائٹس آتے ہوئے دکھائی دے رہی ہیں۔ ہمیں پکا یقین ہو گیا کہ ہو نہ ہو یہ گاڑیاں فوج کی ہی ہونگی، ہم نے فیصلہ کیا کہ گاڑیوں کی آمد سے پہلے ہم سڑک پے جا کر مورچہ بند ہو جائیں گے اور اچانک دشمن پر ہلہ بول دیں گے۔ ہم نے اپنی بندوقیں وغیرہ اٹھائیں اور سڑک کی طرف دوڑ لگا دی، ہم نیم راہ پہنچے ہی تھے کہ گاڑیاں ہم سے پہلے ہی وہاں سے گذر گئیں، جس پر بے ساختہ ہم سب کی ہنسی نکل گئی اور رات دیر تک ہم سب ہنستے رہے، بعد میں پتہ چلا کہ وہ گاڑیاں فوج کی نہیں بلکہ بارڈر سے ڈیزل اسمگل کرنے والوں کی تھیں جن پر ڈیزل لدھا ہوا تھا۔

خیر زندگی کا پیا گھومتا رہا اور ساتھ میں ہم، چند مہینوں بعد کی بات ہے، ایک دن شہید شاکر جان نیٹورک سے واپس آئے اور بہت ہی خوش معلوم پڑتے تھے۔ ایک دوست نے ان سے پوچھا “کیا خبر سن کے آئے ہو جو اتنا اچھل رہے ہو؟
شاکر نے مسکرا کر کہا ” ہا ہا ہا ہا باپ جو بن گیا ہوں، الللہ پاک نے ایک اولاد سے نوازا ہے”
جب دوستوں نے پوچھا کہ کیا نام رکھا ہے اپنے بچے کا تو بولے کہ “رژنا بلوچ رکھا ہے۔”

اس سے اگلے دن وہ نیٹورک پوائٹ پر چلے گئے اور رات دیر تک اس انتظار میں بیٹھے رہے کہ رژنا بلوچ کی ایک تصویر کوئی ان تک وٹس اپ کردے۔ جب رات کو واپس لوٹے تو رژنا جان کی تصویر کے ہمراہ آئے، جو ایک لمبے عرصے تک ان کی وال اسکرین پر رہا۔

خداوند غرق کرے اس پاکستان کو جس نے ننھی رژنا سے اس کا ابو چھین لیا، ایک شاعر کو قلم کے بجھائے بندوق اٹھانے پر مجبور کر دیا۔

قومی فرائض کی بجاآوری بھی کیا چیز ہے کہ جس نے ہمیں کہاں کہاں سے لا کر یک جاہ کیا تھا اور پھر ایک دوسرے سے دور بھی کردیا، تنظیمی ضروریات کے پیش نظر شہید شاکر کو اپنے آبائی علاقے جانا پڑ گیا اور میری اس دن کے بعد نہ کبھی شاکر جان سے بات ہو پائی اور نہ ہی کوئی حال احوال، جب بھی شاکر کے متعلق سوچتا تو یہی شے ذہن میں آتا کہ وہ اپنے فکری دوستوں کے ہمراہ پہاڑوں میں کہیں مورچہ بند ہو کر لڑ رہا ہوگا، بے خوف کسی پہاڑی چوٹی پے بیٹھا شاعری کر رہا ہوگا۔ یہ سب سوچ کر دل کو تسلی ہو جاتی۔

اور پھر ایک دن ایک دوست نے فون کر بتایا کہ “یار ڈی جے (شاکر) ہمارے بیچ نہیں رہے۔” جس پر بے ساختہ میں نے پوچھ لیا کب؟ کیسے؟ تو اس نے مجھے پوری روداد سنائی کہ ان چند مہینوں کہ جب سے ہم شاکر جان سے الگ رہے، ان کے ساتھ کیا کچھ ہوا، ان کے گھر والوں کو دھمکیاں دی گئیں، قابض فوج کے ایماء پر کام کرنے والے عیسیٰ نوری جیسوں نے ان کے گھر پر دھاوا بولنے کیلئے کئی بار غنڈے بھیجے تاکہ شاکر کو فوج کے سامنے ہتھیار پھینکنے پر مجبور کیا جا سکے پر شاکر جان جیسے وطن کے دیوانوں کو بھلا ایسے گرے ہوئے ہتھکنڈوں سے کہاں کوئی زیر کر سکتا تھا، شاکر ساعت شہادت تک بلوچ پرستی کے لبادے میں لپٹے رہے، جس کی گواہی ہم سمیت بلوچ دھرتی اور اس دھرتی پے موجود بلند و بالا پہاڑ و اسکے اوپر چلنے والی ہوائیں تا قیامت دیتی رہیں گی۔

آخر میں بس اتنا ہی کہونگا کہ شاکر کے قاتل اور اس قاتل کے اشاروں پے ناچنے والے نام نہاد مذہبی ملا اور قبائلی عمائدین یہ اچھی طرح سے جان لیں کہ ان سب کو شاکر کے جسم سے جدا ہوئے ہر ریشے کا حساب دینا ہوگا.

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔