جینا ہے تو لڑنا ہوگا – شہیک بلوچ

119

جینا ہے تو لڑنا ہوگا

تحریر: شہیک بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

شال میں جو کچھ ہوا وہ ہرگز ان دیکھا نہیں بلکہ یہ ان سب کے منہ پر تمانچہ ہے جو نوآبادیاتی نظام میں رہ کر نجات کی راہ تلاش کرتے ہیں۔ شال میں وقوع پذیر ہونے والا حالیہ واقعہ ریاست کی نوآبادیاتی پالیسیوں کا وہ غلیظ تسلسل ہے جو محکوموں کے نسلوں کو اجاڑ کر اپنے جبر کے خوف کو برقرار رکھنے کے لیئے ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا لفاظی مذمت یا ہمدردی کے ذریعے اس صورتحال کو بدلا جاسکتا ہے؟ جو ریاست ہی غیر فطری جبر پر قائم ہو اس میں ایک کنفیڈریشن کا تصور کیا گمراہ کن دھوکا نہیں؟ آج شاید بلوچ سمیت دیگر محکوموں کو سمجھ جانا چاہیئے کہ کیوں بابا مری مسلسل مزاحمتی فکر پر زور دیتے رہے کہ اس ریاست میں بقا باہمی کا کوئی بھی راستہ نہیں بلکہ جس حد تک آپ کوشش کرینگے آپ کی نسلیں اتنی ہی اجڑی ہوئی ملینگی کیونکہ یہ دیوہیکل قبضہ گیر نسلیں اجاڑ کر ہی انرجی حاصل کرتا ہے۔ اس سے مکمل آزادی کے علاوہ محکوموں کے تاریخی تکالیف کا کوئی اور مداوہ نہیں ہوسکتا اور جب تک محکوموں اس کے سائے تلے ہونگے تب تک اس کی فوجی بربریت کی تلوار ان کے سروں پر لٹکتی رہیگی۔ یہ پیسے کے لیئے اپنے اسٹریٹجک اثاثوں کے ذریعے بھی قتل عام کراسکتے ہیں اور خود بھی اپنے جیٹ طیاروں و ٹینکوں سے محکوموں کو روندنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں لیکن سوال محکوم اقوام کا ہے کہ وہ مزید کس حد تک اپنی نسلوں کو اجڑتا دیکھ کر خاموش تماشائی بنے رہینگے؟

بلوچ تو پھر بھی آزادی کی جدوجہد کے آڑ میں مارے جارہے ہیں لیکن پشتون، سندھی و ہزارہ کو کس کھاتے میں مارا جارہا ہے؟

کل تک جب بلوچ آزادی پسندوں پر انگلی اٹھائی جاتی تھی کہ جذباتی ہیں لیکن آج گذرتے وقت کیساتھ ثابت ہورہا ہے کہ بلوچ حریت پسندوں کا فیصلہ بالکل برمحل و برحق تھا۔ یہ ایک انتہا پسند غیر فطری ریاست ہے جو ملیٹرائزڈ ہے اور پیسوں کے لیئے قتل عام اس کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، ایسے میں کنفیڈریشن کا تصور یا صوبائی خودمختاری ایک بھونڈا مذاق بن کر رہ جاتا ہے۔

اب محکوم اقوام کو ایک منظم تحریک کی صورت میں مزاحمتی کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ ریاست کیساتھ چین اور سعودی جیسے مکار طاقتیں بھی کھڑی ہیں، جبکہ محکوموں کے پاس ماسوائے مزاحمتی فکر کے کوئی اور طاقت نہیں اور یہ طاقت تمام طاقتوں پر حاوی ہوسکتی ہے کیونکہ انسانی تاریخ میں محکوموں کی فتح مزاحمتی تحریکوں کی بدولت ہی ہوئی ہے اور مصلحت پسندی نے طوق غلامی کے سوا کچھ بھی نہیں دیا۔ ویسے ہی اگر مرنا ہے تو پھر کیوں نا ایک عظیم مقصد کی خاطر۔۔۔

تاریخ میں ان اقوام نے ہی نجات پائی جنہوں نے بامقصد جدوجہد کا راستہ اپنایا، ہماری اپنی دھرتی میں ایسے کردار تھے جنہوں نے ہمیں یہ راستہ دکھایا وہ خود عملی طور پر اسی راستے پر چل پڑے۔ آج بلوچ جہدکار اگر ریاستی جبر کے خلاف برسرپیکار ہیں تو یہ تاریخی شعور کا حاصل ہے نا کہ چند جذباتی نوجوانوں کا ایڈوینچرازم ہے، بلوچ جہدکار اپنا کردار ادا کررہا ہے، تمام تر مصائب کے باوجود وہ ثابت قدم ہے، استاد جیسے کرداروں سے محروم ہونے کے بعد بھی جہدکاروں کا عزم مزید پختہ ہوا ہے لیکن بلوچ قوم سمیت پشتون، سندھی اور ہزارہ کے لیئے یہ سوال ہے کہ وہ کس راستے کا مسافر بنتے ہیں۔ اگر مصلحت کی اندھیری راہوں میں نسلوں کو اجاڑنے کا سودا قبول کرتے ہیں تو پھر ہر تباہی پر ماتم کرنے کی بجائے جشن منائیں لیکن اگر وہ نسلوں کو ایک آزاد زندگی کی روشنائی بخشنا چاہتے ہیں تب راستہ مسلسل مزاحمتی فکر کا ہے۔

یہی راستہ مستقل جبر سے آزادی فراہم کرسکتا ہے۔ انسانی بنیادوں پر رشتے ایک آزاد سماج میں ہی ممکن ہے وگرنہ ایک مصنوعی مذہبی ریاست محکوموں کے لیے اذیت گاہ سے کسی صورت کم نہیں۔

باقی جہاں تک بلوچ جہدکاروں کا تعلق ہے وہ اپنے عزم میں مکمل پختہ ہیں اور وہ اس جدوجہد کو اسی طرح برقرار رکھینگے لیکن بلوچ سمیت دیگر اقوام کی بھی انسانی ذمہ داریاں بنتی ہیں کہ وہ دھرتی کے فرزندوں کا ساتھ دیں۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔