بلوچستان کے 33 اضلاع میں پولیو مہم کا آغاز

38

 کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 33اضلاع میں پولیو مہم کا آغاز ہوچکا ہے مہم کے دوران 24لاکھ 69ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انسدادپولیو مہم ایمرجنسی سینٹر کے سربراہ راشد رزاق کے مطابق مہم میں دوران پولیو کے 10ہزار 9سو 77ٹیمیں حصہ لے رہی جبکہ ان ٹیموں کی فرنٹیئر کور بلوچستان ،پولیس اور لیویز کے اہلکار سیکورٹی پر تعینات ہونگے تفصیلات کے مطابق بلوچستان کو پولیو سے پاک رکھنے کیلئے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 33 اضلاع میں انسداد پولیو مہم کاآغاز ہوگیاہے ۔

انسداد پولیو مہم میں 24لاکھ69 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے مہم کیلئے 10ہزار977ٹیمیں تشکیل دی گئی جس میں 8ہزار886موبائل ٹیمیں،652فکسڈ سائٹ اور951ٹرانزٹ پوائنٹس شامل ہیں۔

کمشنر نصیرآباد ڈویژن جاوید اختر محمود نے کہا کہ پولیو کے خلاف جاری جنگ میں ہمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے تاکہ اس موذی اور خطرناک مرض کو جڑ سے ختم کیا جائے جو ہمارے بچوں کو عمر بھر کی معذوری میں مبتلا کر رہا ہے ۔

بلوچستان  حکومت پولیو کے خاتمے کے لیے اپنے تمام وسائل برو ئے کار لا رہی ہے ہم سب پر لازم ہے کہ ہم مل کر پولیو کی جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اس میں کسی قسم کی کوتاہی یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے ۔

پولیو کے ورکرز اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑیں حکومتی سطح پر ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد آغا شیر زمان خان نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر تین روزہ انسداد پولیو مہم کا افتتاح کر دیا اس موقع پر ڈی ایچ او جعفرآباد ڈاکٹر سرفراز احمد جمالی سمیت دیگر ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف موجود تھا ۔

ڈپٹی کمشنر جعفرآباد آغا شیر زمان خان نے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہم سب پر لازم ملزوم ہے کہ ہم مل کر اس جہاد میں عملی جدوجہد کریں تاکہ اس مرض کوختم کیا جا سکے اور بلوچستان کو پولیو سے پاک کیا جائے پولیو کے خاتمے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی جائے پولیو مہم میں کسی قسم کی غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائیگی ۔

پولیو کے قطرے نہ پلانے والے افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اس موقع پر ڈی ایچ او جعفرآباد ڈاکٹر سرفراز احمد جمالی نے بتایا کہ تین روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران ایک لاکھ سینتالیس ہزار چھ سو نوے بچوں کو قطرے پلائے جائینگے جس کیلئے 340 ٹیمیں۔ 18فکسڈسینٹرز جبکہ 35 ٹرانزٹ پوائنٹ بنائے گئے ہیں جو گھر گھر جاکر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گے عوام اس قومی فریضے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ ملک کے بچوں کو اپاہج ہونے سے بچایا جاسکے۔

بلوچستان کے دیگر اضلاع کی طرح لسبیلہ میں تین روزہ انسداد پولیو مہم کا آج سے آغاز ہو گیا سہ روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران لسبیلہ کی تمام تحصیلوں میں پانچ سال تک کی عمر کے ایک لاکھ پندرہ ہزار تین سو سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤکے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اس مہم کے دوران 320کے قریب ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔جن میں موبائل ٹیمیں،30فکسڈسائٹ اور 18ٹرانزٹ پوائنٹس شامل ہیں لسبیلہ کے صنعتی شہر حب ٹاؤن میں کمشنر قلات ڈویژن حافظ محمد طاہر کاکڑ ،ڈپٹی کمشنر شبیر احمدمینگل اسسٹنٹ کمشنر کیپٹن مہراللہ بادینی،ٹیم لیڈراین اسٹاپ بلوچستان ڈاکٹر آفتاب کاکڑ، ڈی ایچ او ڈاکٹر احمد بلوچ اور پی ای او ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر عبدالحمید اور اے ڈی ایچ او ڈاکٹر عارفہ نے ای پی آئی سینٹر حب میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پلا کر پولیومہم کا افتتاح کیا۔

اس موقع پر ڈبلیو ایچ او کے ایریڈکشن آفیسر پولیو ڈاکٹر عبدالحمید بھی موجود تھے انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے بیرون ملک سفر کرنے سے پہلے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پولیو ویکسینیشن کو لازمی قرار دیا جا چکا ہے اور ہمارے تمام ایئرپورٹس پر پولیو ویکسینیشن بوتھ قائم کر دئیے گئے ہیں ۔

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے 26 اپریل سے شروع ہونے والے ہنگلاج میں پولیو مہم کے انتظامات کئے جارہے ہیں ہنگلاج میلے میں پاکستان بھر سے ایک لاکھ یاتریوں کی متوقع آمد کے پیش نظر انکے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کیلئے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اس سلسلے میں ہنگلاج میلے کی پولیو کیلئے 8ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

ڈسٹرکٹ سول اسپتال قلات میں تین روزہ پولیومہم کا افتتاع کردیا گیا مہم کا افتتاع ڈپٹی کمشنر قلات شیہک بلوچ نے بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر کردیا اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نسیم لانگو فوکل پرسن عبدالفتاع ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر گھنشام داس ایم ایس ڈاکٹر اقبال نورزئی صدر پیرامیڈیکس عبددالوحید بلوچ د یگر بڑی تعداد میں موجود تھے ۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر شیہک بلوچ نے کہا کہ پولیو ایک موذی مرض ہے جو زندگی بھر کے لیے اپاہج بنا دیتا ہے اپنی نئی نسل کو ہمیشہ کی معذوری سے بچانے کے ہم سب کو پولیو کے خلاف جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا مہم کے دوران غفلت اور لاپروائی کی کوئی گنجائش نہیں کمزوری دکھانے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کاروئی عمل میں لائی جائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کے دران والدین اور علاقہ معتبرین پولیو ورکرز کے ساتھ بھر پور تعاون کرتے ہوئے پانچ سال تک کے تمام بچوں پولیو سے بچاؤ کے قطرہ پلائیں تا کہ علاقے میں کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پلانے سے نہ رہے جائے اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نسیم لانگو نے ڈپٹی کمشنر شیہک بلوچ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تین روزہ پولیو مہم کے دوران ضلع کے 19یونین کونسلز میں 58ہزا ر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں جائیں گے ۔

مہم کے دوران پولیو کی ٹیمیں گھر گھر جا کر پانچ سال تک کے عمر کے بچوں کو پولیوں سے بچاؤ اور وٹا من اے کے قطرے بھی پلائیں گے۔ سول ہسپتال ڈھاڈر میں اسسٹنٹ کمشنر ڈھاڈر منیر احمد سومرو نے تین روزہ انسداد پولیو مہم کا افتتاح بچوں کو قطرے پلا کر کیا ۔

انہوں نے کہا کہ ضلع بھر میں مہم کو کامیاب بنانے کیلئے والدین مختلف مکاتب فکر کے لوگ کردار ادا کریں پولیو ایک موذی مرض ہے جو بچوں کو لاحق ہوکر انکو عمر بھر کیلئے معذور بنا دیتا ہے پولیو کے وائرس بچوں کی خوشیوں کا قاتل ہے ۔

ڈی ایچ او کچھی ڈاکٹر شاہد محمود نے کہا کہ انسداد مہم میں ضلع بھر کے 69000سے زائد پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو حفاظتی قطرے پلائیں جائیں گے اس دوران والدین گھر گھر آنے والے محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اپنے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو حفاظتی قطرے ضرور پلائیں ۔

اگر اس دوران کسی کا کوئی بچہ قطرے پلانے سے رہ جائے تو محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ تعاون کرکے اپنے بچوں کو قطرے ضرور پلائیں تاکہ پھول جیسی بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچاکر انکی خوشیوں کو عمر بھر دوام دیا جاسکے۔