بلوچستان کے بیشتر علاقے بارش کے بعد سیلاب کی لپیٹ میں

92

محکمہ موسمیات نے آئندہ تین دنوں تک صوبے بیشتر علاقوں میں مزید بارشوں کی پیشنگوئی کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں کچھ علاقوں کی ندی نالوں میں طغیانی آسکتی ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک رپورٹ کے مطابق  کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں جمعہ کو شروع ہونیوالا بارش کا سلسلہ ہفتے کو بھی جاری رہاجس سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔

گذشتہ  چوبیس گھنٹوں  کے دوران سب سے زیادہ بارش کوئٹہ میں 45 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ بارکھان اور زیارت میں پچیس پچیس ، قلات 9، خضدار 8 ،ڑوب ،4 اور سبی میں 3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ ، ژوب، سبی ، نصیرآباد، مکران اور قلات ڈویڑن کے تقریباً تیس اضلاع میں مزید بارشوں کا امکان ہے جس سے مقامی ندی نالوں میں طغیانی آسکتی ہے اس لئے متعلقہ حکومتی ادارے پیشگی اقدامات اٹھائے اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

پی ڈی ایم اے نے بھی بارشوں کی پیشنگوئی کے پیش نظرمتعلقہ اداروں کو مستعد رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ پی ڈی ایم اے نے ہدایت جاری کی ہے کہ تمام اضلاع کی متعلقہ انتظامیہ پکنک پوائنٹس پر جانے پر پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرائے تاکہ جانی نقصان سے بچا جاسکے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ایران سے مغربی ہواؤں کا سسٹم جمعہ کو بلوچستان میں داخل ہوا جس کے بعد یہ ہفتہ کو بلوچستان بھر میں پھیل گیا اور اتوار کو یہ ملک کے دیگر بیشتر علاقوں تک بھی پھیل جائیگا۔سول ڈیفنس بلوچستان نے تمام عملے کو ڈیوٹیوں پر موجود رہنے اور مستعد رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

دوسری جانب گوادر کی ضلعی انتظامیہ نے ماہی گیروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ طوفانی بارش کے پیش نظر سمندر میں نہ جائیں۔

دریں اثناء کوئٹہ سے ملحقہ پشین کے علاقے بوستان میں کلی ریگی کے مقام پر ایک ہی خاندان کے پانچ افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ بوستان لیویز کے مطابق پانچ میں سے چار افراد ریلے میں بہہ کر جاں بحق جبکہ ایک خاتون بی بی سہارا کو بچالیا۔