بلوچستان: طوفانی ہوائیں اور بارشیں، متعدد علاقے زیر آب آگئے

159
File Photo

بولان میں سیلابی پانی میں ڈوب کر بچی جانبحق ہوگئی جبکہ متعدد اضلاع کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے متعدد اضلاع میں طوفانی ہواؤں اور بارشوں نے تباہی مچادی، کئی علاقے زیر آب آگئے، متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا جبکہ بولان میں سیلابی پانی میں ڈوبنے سے ایک بچی جانبحق ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق ضلع نصیر آباد میں طوفانی اورتیزہواؤں کے ساتھ موسلادھاربارش سے گندم کی تیارفصل کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ بارش کے باعث ڈیرہ مرادجمالی شہر تالاب کا منظرپیش کرنے لگا اور نشیبی علاقے زیرآب آگئے جبکہ دیہاتوں کے راستے منقطع ہوگئے ۔ لاکھوں ایکڑز پر تیار شدہ گندم کی فصلیں تباہ ہونے سے زمینداروں اور کاشتکاروں کو اربوں روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

نصیر آباد کے قبولہ واہ اور ربی ایریاز میں بھی بارشوں کے پانی کے باعث نچلے درجے کے سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے اس سلسلے میں اتنظامیہ بھی الرٹ ہوگئی۔ نصیر آباد کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ڈیرہ مرادجمالی میں طوفانی بارشوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچادی بڑی تعداد میں کچے مکانات اوراس کی دیواریں گرگئی بارشوں کا پانی گلی محلوں میں جمع ہو کر ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگے مین بازار قومی شاہراہ پر تین سے چار فٹ بارش کا پانی جمع ہونے سے قومی شاہراہ پر چھوٹی بڑی گاڑیاں پھنس کررہ گئی جس سے مسافروں کوسخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی طرح بولان کے پہاڑی علاقوں میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے بارشوں کے باعث بولان بی بی نانی کے مقام پر کوئٹہ کے رہائشی حاجی امیر خان اپنے دو بیٹیاں اور بیٹاکے ہمراہ بولان میں پکنک منارہے تھے اسی اثناء میں سیلابی پانی کا تیز ریلا آگیا جہاں حاجی امیر خان اور اس کے بچے پانی میں پھنس گئے جبکہ ایک کمسن بچی سیلابی پانی کی نذر ہوگئی ہے ۔

ریسکیو کیئے جانے والے حاجی امیر خان نے بتایا کہ میری ایک کمسن بیٹی سیلابی پانی کی نذرہو گئی ہے جو کہ کافی تلاش کے بعد اب تک نہ مل سکی جس کی تلاش جاری ہے۔

دریں اثناء سبی کے گردو نواح اور پہاڑی علاقوں میں گذشتہ تین روز سے جاری طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی ہے ، تلی ندی اور لہڑی ندی میں اونچے درجے کا سیلابی ریلہ ،دریائے ناڑی میں درمیانے درجے کا سیلابی ریلہ گذر رہا ہے،سلطان کوٹ کے قریب بچاؤ بند ٹوٹنے کے باعث سیلابی پانی نے یونین کونسل مل کے بعض علاقوں میں تباہی مچا دی ہے ،ہزاروں ایکر گندم کی کھڑی فصیلوں کو سیلابی پانی بہا کر لے گیا ،درجنوں افراد سیلابی پانی میں پھنس گئے ۔

دوسری جانب بارش نے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر سمیت پسنی اور پورے ضلع کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ بارش اورتیز ہواؤں کی وجہ سے چاردیواریاں منہدم ہوگئی اور بجلی کے متعدد کھمبے زمین بوس ہوگئے ہیں جس سے بجلی کا نظام متاثر ہوا ہے۔اڑتالیس گھنٹے گزرنے کے بعد بھی پسنی سٹی ون اور فیڈر ٹو کی بجلی کو بحال نہیں کرایا جاسکا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق سب سے زیادہ بارش جیونی میں ریکارڈ ہوئی ہے۔

دکی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لونی کے مقام پر کلی بگوٹ اور مضافات میں سیلابی ریلہ آنے کے خطرے کے باعث مساجد میں اعلان کیئے گئے ہیں تاکہ علاقہ مکین محفوظ مقامات پر منتقل ہو۔

بلوچستان کے دیگر اضلاع میں بارش کا سلسلہ جاری جس کے باعث جانی و مالی نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔