براس حملہ اور پاکستانی لبرلز – میار بلوچ

203

براس حملہ اور پاکستانی لبرلز

میار بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

۱۸ اپریل ۲۰۱۹ کو بلوچستان کے علاقے اورماڑہ کے حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی، جو کچھ اسطرح تھی کہ نامعلوم مسلح افراد نے اورماڑہ بُزی ٹاپ کے مقام پر کوچ روک کر اُن میں موجود مسافروں کے شناختی کارڈ دیکھ کر بعد میں قتل کردیا۔ جب یہ بھی پبلک ہوئی تو ایک بحث پاکستانی میڈیا پاکستانی، دانشوران، لبرلز، انسانی حقوق کے چیمپینز سب نے یک مُشت و یک آواز ہوکر کہا کہ یہ قتل صرف لسانی بنیاد پر کیئے گئے ہیں کیونکہ ہلاک شدگان کا تعلق پنجاب سے ہے۔ اور وہ اس پروپیگنڈہ کو شدت کے ساتھ بڑھا رہے تھے کہ پاکستانی ریاست نے مجبوراً یہ اعتراف کیا کہ جو لوگ مارے گئے ہیں وہ تمام پاک بحریہ، فضائیہ یا کوسٹ گارڈ سے وابستہ تھے ۔ جس سے کم از کم ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے بلوچ سرمچار جنہوں نے ایک موثر اور بہترین پلیننگ کے زریعے دشمن پر ویسا ہی وار کیا جیسا وہ بلوچ سیاسی کارکنان و عام افراد کیخلاف گذشتہ ۲۰ سالوں سے کرتا آرہا ہے۔

اس واقعے کی ذمہ داری بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) نے قبول کی تھی، براس جوکہ بلوچ مسلح تنظیموں بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی آر جی کے اتحاد کا نام ہے۔ اور ابتک براس نے جتنی بھی کاروائیاں کی ہیں اس کا ہدف ہمیشہ ہی پاکستانی و چینی منصوبے یا ان منصوبوں کی حفاظت پر مامور فورسز رہی ہیں۔ براس کے ترجمان بلوچ خان اس سے قبل بھی پاکستان چائنا و سعودی عرب کو تنبیہہ کرچکے ہیں کہ بلوچ سرزمین پر دشمن طاقتوں کا مقابلہ ہر ممکن حد تک کی جائے گی پھر چاہے ہمیں اپنے جانوں کا نذرانہ ہی کیوں نہ پیش کرنا پڑجائے۔

اورماڑہ واقعے کو مذہبی دہشتگردی، لسانی بنیاد پر قتل سمیت دیگر کئی نام دینے کی کوشش کی گئی کسی نے ہندوستان تو کسی نے ایران پر الزام لگاکر یہ کوشش کی کہ بلوچ سرمچاروں اور بلوچوں کے جدوجہد کو بدنام کیا جاسکے، مگر تاریخ اور زمینی حقائق سے نابلد لوگوں کو یہ اندازہ ہی نہ تھا کہ آج کے اس دور میں اگر پاکستانی میڈیا، پاکستانی دانشور، پاکستانی شاعر، پاکستانی لبرلز سمیت دیگر جتنے بھی ریاست کی زبان میں پروپیگنڈہ کررہے تھے انکے جھوٹ اور پروپیگنڈہ سے عالمی میڈیا کے سامنے اس جھوٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی بلکہ بلوچ خان کے بیان اور بلوچ سرمچاروں کے بہترین کاروائی کا حقیقی رخ دنیا کے سامنے آشکار ہوجائے گا۔

براس کے حملے کے بعد حسب روایت پاکستان نے اسے بارڈر پار سے دہشتگردی کی کاروائی قرار دیکر ایران پر الزام لگاکر یہ کہا کہ یہ حملہ آوار ایک ہی دن میں ایران سے اورماڑہ آئے حملہ کیا اور پھر ایران روانہ ہوگئے۔ جب کہ دوسری جانب ایران و بُزی ٹاپ کے درمیان کے فاصلے کو اگر دیکھا جائے تو اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں ہوگا کہ پاکستانی وفاقی وزیر بلوچستان کے جغرافیہ سے بھی اتنا ہی بے خبر ہیں جتنا کہ وہ بلوچ سماج و بلوچ روایات سے بے خبر ہیں۔ دوسری جانب ہم نے دیکھا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے ایران جاتے ہی اعتراف کرلیا کہ ہماری سرزمین ایران کیخلاف استعمال ہوئی، جس سے پاکستانی ریاست کی منافقانہ پالیسیوں و مکاریوں کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔

اس واقعے کو جواز بنا کر پاکستانی فورسز نے بلوچستان میں اپنے ظلم و بربریت میں تیزی لاکر آواران پیراندر کراچی و حب چوکی میں آپریشن کرکے کئی بےگناہ بلوچوں کو اغواہ کیا۔ جب کہ آواران کے علاقے سے عورتوں اور نومولود بچوں کو بھی اغواء کیا گیا جنہیں دو دن کے بعد بازیاب کیا گیا۔ ان واقعات و بلوچ عورتوں کی گمشدگیوں کیخلاف بلوچ رہنماوں ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ، چیرمین بشیر زیب بلوچ، کمانڈر اختر ندیم بلوچ سمیت دیگر سے سخت مذمت کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچ سرزمین پر بلوچ عورتوں اور بلوچ بچوں کے ساتھ دشمن کے اس سلوک کا بھرپور جواب دیا جائیگا۔

یقیناً جو لوگ پنجابی فورسز کے اہلکاروں کو مزدور بناکر پیش کررہے تھے انہوں نے حسب معمول بلوچ خواتین کی اغواء اور عصمت دری کو کوئی اہم خبر نہ سمجھتے ہوئے اس کی جگہ پاکستانی وزیراعظم کی آفاقی بارڈروں کے بیان پر گھنٹوں گھنٹوں مباحثات کیئے، جس سے یہ حقیقت بخوبی سمجھ آتی ہے کہ بلوچ عورتوں کی عزت و آبرو سے عمران خان کی بکواسیات کی زیادہ اہمیت ہے۔ اب بلوچ تحریک کے حقیقی وارثوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ دنیا کو بلوچ مسئلہ کی طرف متوجہ کرنے کی خاطر دشمن کے ہر ایک عمل کا جواب بھرپور شدت سے ہی دینا ہوگا کیونکہ اس ریاست نے نا کبھی سیاسی زبان کو اہمیت دی ہے اور نہ ہی پرامن احتجاج و جدوجہد سے واقفیت رکھتا ہے۔ اور آج کی دنیا بھی اسی قوت کو اہمیت دیتی ہے جو حقیقی قوت بنکر ابھر سکتی ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔