اورماڑہ حملے میں ملوث افراد ایران سے آئے تھے – پاکستان

88

پاکستان نے الزام لگایا ہے کہ رواں ہفتے بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں فوج کے 14 اہلکاروں کو بسوں سے اتار کر قتل کرنے میں ملوث افراد ایران سے آئے تھے۔

ہفتے کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اورماڑہ حملے میں بلوچ علیحدگی پسند ملوث تھے جن کے ٹھکانے ان کے بقول ایران میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یہ معاملہ ایران کی حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے اور ایرانی وزیرِ خارجہ نے اس معاملے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وزیرِ خارجہ نے اعلان کیا کہ پاکستان نے حالیہ حملے کے تناظر میں ایران کے ساتھ سرحد کی سکیورٹی بہتر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے افغانستان کی طرح ایران کی سرحد پر بھی باڑ لگائی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ 950 کلومیٹر طویل سرحد کی نگرانی کے لیے فرنٹیر کور کی نئی فورس قائم کی جا رہی ہے جب کہ سرحد کی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بھی نگرانی کی جائے گی۔

بلوچستان کے ساحلی علاقے اورماڑہ میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی مسلح افراد نے کوسٹل ہائی وے پر کراچی سے گوادر جانے والی کئی بسوں کو روک اس میں سوار بعض افراد کو شناخت کے بعد قتل کردیا تھا۔

بعد ازاں پاکستان نیوی نے تصدیق کی تھی کہ ہلاک ہونے والوں میں اس کے اہلکار بھی شامل تھے۔ لیکن فوج نے حملے میں مارے جانے والے اپنے اہلکاروں کی درست تعداد نہیں بتائی تھی۔

ہفتے کو اپنی پریس کانفرنس میں وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ اورماڑہ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں پاکستان نیوی کے 10، فضائیہ کے تین اور کوسٹ گارڈ کا ایک اہلکار شامل تھا جنہیں باقاعدہ شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد بس سے اتار کر قتل کیا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ حملے میں 15 افراد ملوث تھے جو 18 اپریل کی رات ایران سے سرحد پار کرکے پاکستان آئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے فرنٹیر کور کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔

حملے کی ذمہ داری تین بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد ‘براس’ نے قبول کی تھی جس کے ٹھکانے شاہ محمود قریشی کے بقول بلوچستان سے متصل ایران کے علاقوں میں قائم ہیں۔

مزید پڑھیں: چین و پاکستان گوادر سمیت بلوچستان سے اپنی فوج نکال لیں – براس

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اورماڑہ حملے میں ملوث دہشت گردوں کو ایران سے مدد مل رہی تھی جس کے بارے میں شواہد اور ٹھکانوں کی معلومات ایران کی حکومت کو دے دی ہیں۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایران سے ان دہشت گردوں کے خلاف ویسا ہی تعاون چاہتا ہے جیسا خود اسلام آباد ماضی میں تہران کے ساتھ کرتا آیا ہے۔

عمران خان کے دورۂ ایران سے قبل تنازع

پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے یہ پریس کانفرنس ایسے وقت کی ہے جب وزیرِ اعظم عمران خان ایک روز بعد تہران کے دو روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیرِ اعظم 21 اور 22 اپریل کو تہران کا دورہ کریں گے جو بطور وزیرِ اعظم، پڑوسی ملک کا ان کا پہلا دورہ ہوگا۔ لیکن عمران خان کے دورے سے عین ایک روز قبل پاکستانی وزیرِ خارجہ کی اس پریس کانفرنس نے دورے کے مستقبل پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

ہفتے کو اپنی پریس کانفرنس میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان اپنے دورے میں ایرانی قیادت کے ساتھ اورماڑہ حملے کے علاوہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے متعلق تعاون پر بھی بات کریں گے۔

ایران کا ردِ عمل

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے ایران سے دہشت گردی کے کسی واقعے پر کھل کر احتجاج کیا ہے اور اس کی حدود میں موجود دہشت گردوں کو کسی حملے کا ذمہ دار ٹہرایا ہے۔

البتہ ایران ماضی میں بارہا اپنے سرحدی محافظوں پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری پاکستان میں موجود دہشت گردوں پر لگاتا آیا ہے اور ان کے خلاف پاکستان سے کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔