آواران میں خواتین و بچوں کو بربریت کا نشانہ بنانا پاکستانی ریاست کے بوکھلاہٹ ہے ۔ ڈاکٹر اللہ نذر 

165

بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے اپنے ایک میں بیان میں کہا ہے کہ پاکستان بلوچ قومی تحریک کے سامنے شکست کھا چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قابض ریاست خواتین اور بچوں حتیٰ کہ شیر خوار بچوں کو اغوا اور لاپتہ کرکے بربریت کا نشانہ بنا رہی ہے۔ آواران پیراندر سے معزز عبدالحئی بلوچ کو دوسری مرتبہ غیر قانونی، ماورائے عدالت اور انسانی اخلاقیات سے عاری ہو کر فوجی کیمپ منتقل کیا گیا ہے لیکن اس بارعبدالحئی اکیلا نہیں بلکہ ان کے معصوم بچے اور خواتین بھی پاکستان کی وحشت و بربریت کا نشانہ بن چکے ہیں۔ کل پاکستانی فوج نے عبدالحئی بلوچ کے ساتھ ان کی بیٹی شاہناز، ایک سالہ نواسہ فرہاد، صنم بنت الہی بخش، اس کے دو بچے پانچ سالہ ملین اور دس دن کا مہدیم اور نازل بنت میر درمان، اس کے دو بچے دس سالہ اعجاز اور سات سالہ بیٹی دردانہ کو گھروں سے گھسیٹ کر آنکھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر خفیہ زندانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے مظالم بلوچستان میں ہر روز نئی بلندیوں کو چھورہے ہیں۔ انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں لیکن ان تمام مظالم کے خلاف ہمیں عالمی برادری کی جانب سے کوئی توانا آواز سنائی نہیں دیتا۔ اگر پاکستان کی اس بربریت پر عالمی برادری اسی طرح خاموشی اختیار کرتا ہے تو یہ تاریخ میں عالمی اصولوں کی سودے بازی کا باب ہوگا۔ آج وقت آن پہنچا ہے کہ اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے نام پر قائم تنظیمیں اپنے حقیقی کردار کا ادراک کرکے دنیا کے نظروں سے اوجھل بلوچستان میں سنگین انسانی بحران پر توجہ دیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم بارہا اظہار کرچکے ہیں کہ بلوچستان میں انسانی بحران شام، عراق اور افغانستان سے زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان ممالک میں لوگوں کو کچھ مخصوص گروہ نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ بلوچستان کے کونے کونے میں قابض پاکستانی فوج نے کیمپ اور چیک پوسٹیں قائم کرکے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ یہ کیمپ اور چیک پوسٹ بھری آبادی میں قائم ہیں جہاں عام شہریوں کو بلوچ ہونے کی جرم میں حراست کے نام پر ذہنی اور جسمانی تشدد سے دوچار کیا جاتا ہے۔

آزادی پسند رہنما نے کہا کہ آواران پیراندر میں حالیہ بربریت بلوچ قوم کو خوف کے سایے میں دھکیل کر اپنی زبان، ثقافت اور شناخت کی جد و جہد سے دستبردار کرانے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ اجتماعی سزا کی پالیسی کا تسلسل ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے بلوچ قوم کو زیر نہیں کیا جا سکا ہے۔ آواران پیراندرمیں خواتین اور بچوں کو بربریت کا نشانہ بنانا بلوچ قومی تحریک آزادی سے پاکستانی ریاست کے بوکھلاہٹ کا واضح علامت ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے کئی خواتین اور بچے پہلے ہی فوجی کیمپوں میں ذہنی اور جسمانی تشدد سہہ رہے ہیں لیکن اس سے بلوچ قوم میں پاکستان کے خلاف نفرت میں اضافہ اور بلوچ قومی جد و جہد سے وابستگی میں پختگی آئی ہے۔ بلوچ قوم کی نفسیات میں بدلہ لینے کا عزم اس کی خون اور رگوں میں موجود ہے اور یہ بدلہ بلوچستان کی آزادی پر منتج ہوگا۔