ہماری خاموشی سے پاکستان انتہا کو جارہاہے – چیئرمین خلیل بلوچ

98

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہماری کی وجہ سے پاکستان انتہاء کو جارہاہے ۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا ہے کہ ’’ شہید درویش مری کی ماں اور 16 سالہ لڑکی نازو فیض محمد کی بیٹی کو چار دوسرے لوگوں کے ساتھ کوئٹہ ہزار گنجی سے اغواء کر لیا گیا۔ ہماری خاموشی کی وجہ سے پاکستان انتہا کو جارہا ہے۔ اس سلسلے کو بند ہونا چاہئے۔

شہید درویش کے والدہ کے فورسز کے ہاتھوں حراست اور جبری گمشدگی کے بارے میں بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے چیئرپرسن بی بی گل بلوچ نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ جام کمال اور وزیرداخلہ سے استعفیٰ کامطالبہ کیاہے، ان کے الفاظ میں ’’دو اور خواتین بی بی بانو اور بی بی نازو کو کوئٹہ میں وزیر اعلی اور صوبائی وزیر داخلہ کے ناک کے نیچے سے اغواء کر لیا گیا۔ اگر حکومت اپنے شہروں کی حفاظت نہیں کر سکتی تو مستعفی ہو جائے۔

واضح رہے کہ پاکستانی فوج نے دو دن قبل کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں بلوچ فدائی شہید درویش مری کی والدہ بی بی بانو بنت بنگؤ مری، بی بی نازو بنت فیض محمد مری عمر 16 سال اور 55 سالہ فاضل مری ولد الئے کو بیٹے سمیت حراست میں لے کر لاپتہ کردیاہے ۔