ڈیرہ غازیخان اور قبائلیت – خالدبلوچ

68

ڈیرہ غازیخان اور قبائلیت

تحریر: خالدبلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

دُنیا کی تاریخ شاید ہے کہ آج تک جہاں بھی سماجی انصاف،انقلاب اورقومی شناخت کی تحریکیں چلی ہیں وہ ضرور کئی ارتقائی مراحل کا سفر طے کرتے ہوئے اپنے دائمی مقاصد تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ منزل کی جانب بڑھتی پُر خار راہوں میں ان تحریکوں نے کئی نشیب و فراز اور پیچ و خم دیکھے۔ ایک عظیم مقصد کو اپنے اندر سموئے یہ تحریکیں اُجڑتے بیابانوں، جلتی کھیتوں اورخون کی بہتی ندیوں کا راز اپنے اندر دفن کیئے ہوئے ہیں۔ ان تحریکوں نے کبھی انقلاب ِفرانس کی شکل اختیار کی تو کہیں انقلابِ روس، کہیں کیوبن انقلاب کا روپ دھارا تو کہیں ویتنام کے انقلابیوں نے اس کو توام بخشی۔ چے گویرا جیسے لاغرض انقلابی ہوں یا کہ تامل ٹایگرز کے وطن دوست فدائی، قومی آزادی کی جانب گامزن جنگجو کُرد ہوں یا کہ بہادُر بلوچ،سب ایک ہی راہ کے ساتھی ہیں۔ ان تمام تحریکوں کے گہرے مطالعے کے بعدمعلوم ہوا کہ دوران سفر چند ایسے واقعات رونما ہوئے جنھوں نے تحریک کے واسیوں کو جھنجوڑ کے رکھ دیا اور تحریک میں بطور ایک Enzymeکا کردار ادا کیا۔ اگر بلوچ تحریک کا جائزہ لیا جائے توکئی ایسے واقعات رونما ہوئے جنھوں نے تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی۔ ستم ظریفی سمجھیئے یا کہ اپنوں کی نالائقی، پورے بلوچ گُلزمین کو اپنے لپیٹ میں لینے والی آزادی کی یہ چنگاری ڈیرہ غازیخان میں آ کر دھیمی پڑ گئی تو اس ضمن میں چند ایسے سواات ابھرتے ہیں جن کا جواب ڈھونڈنا نہایت ہی ضروری ہے۔

کیابلوچوں کا قلعہ(جو کہ بلوچ گُلزمین کو پاکستان سے جُدا کرتا ہے) کسی چنگاری کا متحمل نہیں تھا؟ کیا وہاں پر رہنے والے باسی قوم اور قومیت کی تعریف بھول گئے؟ کیا ڈیرہ غازیخان کے غیور بلوچوں کا خون اب سفید ہو چُکا ہے؟ کیا انتظامی رشتے خون کے رشتوں سے زیادہ مُقدس ہیں؟ اگر ان تمام اُبھرتے سوالوں کا جواب نفی میں ہے تووہ کونسی وجوہات تھیں جنھوں نے غازی خان کے اولاد کو بلوچ راجی جُنز سے دور رکھا۔

ڈیرہ غازیخان اور اس کی گردونواح پر اگر طا ئرانہ نظر دوڑائی جائے تو کئی وجوہات میں سب سے واضح وجہ قبائلیت ہی کی ناسور مرض نظر آتی ہے۔ سنڈیمن کی طرف سے عطا کردہ قبائلیت کے زہر آلود تُحفے نے جب بلوچستان بالخصوص کوہ سلیمان میں مظبوط پنجے گاڑھنے شروع کر دیئے تو ڈیرہ غازیخان ان میلی پنجوں کا مرکز رہے، جس کی واضح مثال ڈیرہ غازیخان میں فورٹ منرو کے مُقام پر انگریز دور کا قائم کردہ جرگہ ہال ہے، جہاں مری،بُگٹی قبائل کے ساتھ ساتھ کوہ سلیمان کے دیگر تمام قبائلی عمایدین (بُزدار،لغاری،کھوسغ،دریشک،مزاری،گورشانی۔۔ وغیر ہ وغیرہ) مل بیٹھ کر قبائلی فیصلے کرتے تھے۔ قومی،راجی اور اجتماعی سوچ وجذبے کے راہ میں بطورِایک سنگلاخ چٹان حائل ہونے والا یہ بدبودار تُحفہ فِرنگیوں کے بعد پاکستان جیسے سامراجی قوت کیلئے کافی کار گر ثابت ہوئی۔۰۷ء کے دہائی میں جب جنرل شیروف مری نے پہاڑوں کا رُخ کیا اور سامراجیت کیخلاب جنگی محاذ پر برسرِ پیکار ہوئے توانھیں ایام میں چند ٹکوں پر بکنے والے ڈیرہ غازیخان کے قبائلی عمائدین بغلچر کے قیمتی یورینیم کا سودہ چند مزدوروں کی نوکری کے ساتھ کر رہے تھے۔علم وزانت سے ناآشنا عام عوام کو ہری بھری جنت دکھانا مکار،چالاک اور سامراجی تربیت یافتہ قبائلی عمائدین کا پیشہ تھا۔ اپنے پیشے کو مد نظر رکھتے ہوئے بغلچراور اس کے گردو نواح کولٹل پیرس بنانے جیسے دعوے کئے گئے جب کہ آج تک بجلی،گیس،ہسپتال،سکول اور روڈ تو کُجا پینے کا پانی تک علاقے کو میسر نہیں۔

ان جھوٹے دعووں نے ایک غضبناک موڑ اُس وقت لی جب ۸۹۹۱ میں بغلچر سے نکلے یورینیم کے بارودی گولوں نے چاغی کو جہنم میں تبدیل کر دیا اور اسی طرح بلوچ گُلزمین سے نکلے معدنیات ہی نے بلوچ گُلزمین کو جلا کر راکھ کر دیا۔
قبائلیت خود اپنے اندر کیا ہیں؟ مارٹن روبن کے مطابق قبائلیت بالکل انا پرستی کی ایک قسم ہے، جس کی بنیادیں میرے لوگ، میرا مذہب اور صرف اور صرف مُجھ تک محدود رہتی ہیں۔ جبکہ کئی دانشوروں کے مطابق قبائلیت ایک ایسا ناسور مرض ہے جو کہ ایک فرد کو صرف اُس کے وجود اور اُس کے گروہ تک محدود رکھتا ہے۔

ڈیرہ غازیخان میں قبائلیت خود اپنے اندر کیا وجود رکھتاہے؟ ڈیرہ غازیخان کے قبائلی نظام پر نظر رکھنے والے چند دوستوں کا خیال ہے کہ یہاں قبائل ایک ریاست ہی کی طرز کا وجود رکھتی ہیں، جو ایک ہی نارمز اور ویلیوز رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو ایک دوسرے سے کافی مختلف سمجھتے ہیں۔ ہر قبیلہ اپنے اندر انا کی ایک ایسی بدبودار مہک کی تلاش میں ہے (یا رکھتا ہے) جو اُس کو دوسرے قبیلے سے بالاترسوچنے پر مجبور کرتاہو۔ تمام قبیلوں نے اپنی جدا جُدا خارجہ پالیسیاں تشکیل دی ہوئی ہیں، جو اُنھیں دوسرے قبائل کے ساتھ ساتھ مراسم قائم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ بعض دوستوں کے خیال میں ڈیرہ غازیخان کا قبائلی نظام ایک ایسے system کی مانند ہے جہاں تمام گروہوں میں ہمیشہ ایک تناؤ برقرار رہتی ہے۔ یہ تناؤ کسی جنگی یا سیاسی تناؤکے بجائے ایک نفسیاتی تناؤ کا روپ رکھتا ہے، جو ان تمام قبائل کے گٹھ جوڑ سے قائم کردہ اصولوں اور سٹینڈرڈ کا شاخسانہ ہے۔ اس کی مثال کُچھ اس طرح ہے کہ اگر ایک قبیلہ یا فرد ان اصولوں کی پامالی کی کوشش کرتا ہے تو بلوچی غیرت، بلوچی لج پر من گھڑت لیکچرز دیکر ذہنی اذیت کا شکار بنا دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام قبائل میں چند گنے چُنے افراد ہی ہوتے ہیں جو باغی ہوکرایک نئی راہ کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جن سٹینڈرڈ اور ویلیوز کی اس قبائلی نظام میں بات کی جاتی ہے اُن کا تعلق تقریباً عورت ذات سے شروع ہو کر عورت ذات پر ہی ختم ہوتی ہے اوراس قبائلی مُعاشرے میں یہی وہ طبقہ ہے جو سب سے زیادہ استحصال کا شکار ہوئی اور ہوتی آ رہی ہے۔

کئی نشیب وفراز کے بعد جب اکیسویں صدی کے آ غاز سے ہی بلوچ تحریک نے ایک دائم ٹمٹاتے ہوئے شمع کا روپ دھارا تو دُنیا جہان کے چپے چپے میں بسنے والے بلوچ اس کی روشنی سے فیضیاب ہوئے۔ کئی چھوٹے اور بڑے بلوچ قبائل کو اپنے اندر سموئے ڈیرہ غازیخان کی مٹی پر قبائلیت کا زنگ آلود پردہ اس شمع کی قوس قزاح جیسی خوبصورت شعاؤں کی راہ میں سنگلاخ چٹان کی مانند حائل ہوا۔ ایک ایسے دور میں جب ایک جانب پورے بلوچستان میں بلوچ عورتیں، بلوچ قومی جدوجہد میں برابر کی شریک ہو رہی تھیں تو دوسری طرف ڈیرہ غازی خان میں من گھڑت بلوچیت اور مذہب کی آڑ میں یہی قبائلی بلوچ عورتوں کو گھر اور چار دیواری کی زینت بنانے پر تُلے ہوئے تھے۔ ایک افریقی کہاوت ہے کہ ایک آدمی کی تعلیم ایک فرد کے تعلیم کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ ایک عورت کی تعلیم ایک قوم کے تعلیم کی حیثیت رکھتی ہے۔ مندرجہ بالا جن سٹینڈرڈ اورویلیوز کا ذکر کیا گیا ہے وہ قبائلی مُعاشرے کے عورتوں کی تعلیم میں آڑے آ گئی اور اس طرح یہ طبقہ تعلیم جیسے زیور سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے بنیادی حققوق سے بھی نا آشنا رہے۔ بلوچستان کے دوسرے کونوں میں جہاں عورتوں نے علم و شعور سے آراستہ ہو کر آزادی کی اس جُنز میں کلیدی کردار ادا کیا اور ڈیرہ غازیخان کی عورتیں قبائلیت کے کیچڑ میں دھنستی چلی گئیں۔

کئی مراحل طے کرنے کے باوجود ڈیرہ غازیخان میں قبایلیت اب تک لمبی سانسیں لے رہی ہے۔ پولیٹیکل اسسٹنتٹ ڈیرہ غازیخان کا چند ہفتے پہلے تمام قبائلی عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ اور عثمان بُزدار کو وزیرِ اعلیٰ کے نشست پر براجمان کرنے جیسے واقعات اس بات کے واضح دلیل ہیں کہ قومی سوچ اور جذبے کو کاؤنٹر کرنے کیلئے تمام حربے آزما تے ہوئے قبائلیت کو مزید ہوا دینا چاہتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچ قومپرست سیاسی تنظیمیں قبائلیت جیسی ناسورمرض کیخلاف واضح اور جامع حکمت عملی اپناتے ہوئے ڈیرہ غازیخان کیلیے اپنی پالیسیوں کو یوں ترتیب دیں کہ یہ غیر فطری نظام اس طرح پارا پارا ہو جائے کہ آنے والی نسلیں اس موزی مرض سے بچ سکیں اور آنے والے وقت میں بلوچ راجی جُنز میں کلیدی کردار ادا کریں۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔