چین کے ساتھ مل کر پاکستان بلوچوں کا خون بہا رہا ہے – بی این ایم

73

بلو چ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے پاکستان کے وزیر اعظم کے دورہ بلوچستان کے ردعمل میں کہا ہے کہ قابض پاکستانی وزیر اعظم کا دورہ مقبوضہ بلوچستان عسکری منصوبوں کو جمہوری چہرہ دینے کی ناکام کوشش تھا۔ پاکستانی وزیر اعظم کی طرف سے پاکستانی فوج اور منصوبوں میں فوج کی تعریف و توصیف یہ ثابت کرتاہے کہ تمام سامراجی منصوبے فوجی جبر و بربریت سے روبہ عمل لائے جارہے ہیں اور ان میں بلوچ قوم کا کوئی مرضی و منشا شامل نہیں ہے۔ چین کے ساتھ مل کر پاکستان نے مختلف منصوبوں کیلئے ہزاروں بلوچوں کا خون بہایا ہے۔ نام نہاد ترقی اور سی پیک منصوبے کے نام پر اس روٹ پر آنے والے کئی گاؤں فضائی اور زمینی بمباری اور نذرآتش کرکے صفحہ ہستی سے مٹادیئے گئے ہیں۔ ہزاروں لوگوں کو جبری ہجرت پر مجبور کیا گیا ہے۔ گوادر اورسی پیک روٹ کی حفاظت کے لئے ملٹری اور پیرا ملٹری فورسز کے علاوہ ایک اسپیشل فورس بنائی گئی ہے۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ بلوچستان میں پاکستان اور چین کے سامراجی منصوبے فوجی جبر و بربریت اوربلوچ نسل کشی کے گھناؤنے عمل کے ذریعے مکمل کئے جارہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان مکمل طور پر پاکستانی فوج کے رحم وکرم پر ہے اور تمام شعبہ ہائے زندگی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔ گزشتہ نام نہاد جمہوری حکومتوں کی طرح موجودہ پاکستانی وزیر اعظم بھی میڈیا کو جاری کئے گئے بیانات میں تصدیق کررہاہے کہ بلوچستان میں فوجی طاقت کے بغیر پاکستانی اپنی قبضہ گیریت اور عمل داری کھوچکاہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل کیلئے پاکستانی فوج بلوچ نسل کشی کر رہا ہے۔ پاکستان اور دنیا پر واضح ہوچکی ہے کہ بلوچ قوم ان منصوبوں کے خلاف ہے کیونکہ ان تمام منصوبوں کے ذریعے پنجابی و چینی سامراج وسیع پیمانے کے آبادکار ی جیسی سازشوں میں مصروف ہیں جس سے بلوچ قوم اپنی ہی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم کا دورہ ایک نوآبادی ریاست کا اپنے مقبوضہ خطے اور کالونی کا دورہ تھا اور بلوچستان میں نظام حکومت کی طرح اس دورے کی باگ ڈور بھی فوج کے ہاتھ میں تھی لہٰذا انہوں نے نہایت فرمانبرداری سے تمام فوجی منصوبوں کی تعریف کی اور یہ اقرار کیا کہ فوج کے بغیر بلوچستان میں کوئی بھی منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتاہے۔

ترجمان نے کہا پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ وہ طاقت کے زور پر بلوچ وطن کو ہمیشہ اپنی کالونی اور زیر قبضہ رکھے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہوگی کیونکہ تاریخ بارہا ثابت کرچکی ہے کہ زندہ قوموں پر تا دیر بزورشمشیر حکومت نہیں کیا جاسکتا اور بلوچ قوم اپنی اپنی منزل کا فیصلہ کرچکی ہے۔وقت آچکاہے کہ بین الاقوامی برادری بلوچ قومی تحریک آزادی کوتسلیم کرے کیونکہ پاکستان چین کی ہمکاری سے خطے میں نئی تضادات کو بنیادیں فراہم کررہاہے جو نہ صرف بلوچ کے لئے تباہی کا سبب بن رہے ہیں بلکہ خطے کی دیگر ممالک بھی کسی طور سے ان سامراجی اقدامات و تزویراتی منصوبوں کے اثرات سے نہیں بچ سکتے ہیں ۔